کسی کو گستاخ کہنا اتنا آسان ہے؟ حيا حريم

شعور کے آئینے میں لاشعوری کے کئی مناظر جھلملا رہے ہیں. اک پرنور سا عکس ذہن میں ابھرا ہے جو میرے والد کا ہے. اس دور میں جب علماء ٹیلی ویژن پر اپنے پروگرام کی نشریات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، بابا کسی پروگرام سے واپس آئے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ آج کا پروگرام مختلف مسالک کے علماء کا تھا، اس میں نقوی صاحب بھی تھے، اور نقشبندی بھی، اور سلفی مکتب فکر کے بھی تھے، دیوبندی بھی تھے، قادری بھی تھے، اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو اور پھر کھانے کی ایک نشست کا حال سنا رہے ہیں،
کہ یکایک چودہ سال کے ذہن نے کہہ دیا کہ ”بابا یہ تو ( دیگر مسالک ) کافر ہوتے ہیں نا؟“

وہ وقت مجھے آج بھی کل کی طرح تازہ محسوس ہو رہا ہے جب بابا کے چہرے پر سرخی ابھری تھی، آنکھوں میں تفکر نمایاں تھا اور وہ دھیمے سے کہہ رہے تھے
”نہ پتر! کسی کو کافر کہنا بھی گناہ ہے، کسی کو لعنت کرنا بھی حرام ہے، ان سب نے میری امامت میں نماز پڑھی ہے، اللہ کو سجدہ کرنے والے کافر نہیں ہوتے.“ اور پھر بابا مجھے اکثر سمجھاتے رہتے کہ کسی مسلمان کو کافر نہیں کہتے.

اسی طرح ایک بار مدرسے میں دوران حفظ اساتذہ نے غصے میں بازو پر ڈنڈے سے مارا، وہ کوئی دس سال کی عمر ہوگی، نازک سے بازو پر نیل پڑ گیا، گھر آئی تو بابا نے دیکھ لیا اور اسی وقت جامعہ کے دفاتر میں ایک ہنگامہ بپا کر دیا کہ ڈنڈوں سے مار کر بچوں کو ذہنی طور پر متشدد نہ بنایا جائے. اگلے روز تمام اساتذہ و معلمات کی درسگاہوں سے ڈنڈے اٹھا لیے گئے اور مارنے پر پابندی لگ گئی۔ بابا کا مؤقف تھا کہ جو بچے ابھی مار کھائیں گے، وہ کل کو دوسروں کو با آسانی ماریں گے، اس لیے انہیں مار نہیں انسانیت کا احترام سکھایا جائے.

مولا بابا کو غریق رحمت کرے جنہوں نے مجھے ایک معتدل ذہن دیا.
یہ سب باتیں اس لیے یاد آگئیں کہ ابھی کل ہی کی بات ہے، وٹس ایپ گروپ میں ايك ویڈیو شئیر کی گئی، جس پر ایک طالبہ بہن نے سوال اٹھایا، چونکہ سب تعلیم و تعلم کے جذبے سے ہی یکجا تھے، سو انہیں جواب دیا گیا، دو چار سوالات اور جوابات میں. گفتگو امن کے ساتھ ختم ہوگئی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ نبی کریم صلي اللہ عليہ وسلم كی ذات مبارکہ بعض کے نزدیک ہمہ وقت حاظر و ناظر کا درجہ رکھتی ہے اور بعض کے نزدیک نہیں رکھتی۔
بہرکیف! تعلیم و تعلم کی مجلس میں بطریق احترام رائے پیش کرنا کوئی شنیع عمل نہیں ہے۔
مگر یکایک ایک طالبہ نمودار ہوئی اور بغیر کسی تمہید و طریق کے اس موضوع پر تکلم کو ملامت کرنے لگی۔
ان کے مزاج کو سمجھ کر میں نے فورا کہا کہ ”ہمارا قصد کسی کو طعن کرنا نہیں، آپ کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر معذرت کی خواستگار ہوں.“
مگر نجانے تعصب کی کیا نہج تھی جو بلا دلیل و سماعت مؤقف کے مشتعل ہوگئی اور کہہ گئی کہ ”تم گستاخ ہو“، جس پر معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہم نے مزید گفتگو سے اجتناب کیا کہ بدمزگی نہ ہو۔
بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی، سر شام میں اس سے ملی، سلام دعا کا اس نے کوئی جواب نہ دیا اور فورا بول اٹھی کہ ہم گستاخ رسول سے بات چیت نہیں کرتے، میں تمہارے اوپر گستاخی کا کیس کر دوں گی۔
میں ہکا بکا اسے دیکھتی رہی کہ ”کسی کو گستاخ کہنا اتنا آسان ہے؟“
رسول اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے یہ تو فرمایا تھا کہ ایک زمانے میں بہتر فرقے ہوں گے اور ان میں سے ایک فرقہ ناجیہ ہوگا، لیکن یہ نہیں فرمایا تھا کہ جو خود کو فرقہ ناجیہ سمجھے، وہ دوسرے فرقے کو قتل کردے یا ان پر تبرا کرے. وہ خود کو ایک عالم کی صاحبزادی کہہ رہی تھی اور بتا رہی تھی کہ وہ جاہل نہیں ہیں، ایک آباد آستانہ چلا رہی ہیں، محترمہ کے والد نے اسے کہا کہ ”اسے دفع کرو.“ اور میں سوچتی رہی کہ ان کے والد نے یہ کیوں نہ کہا کہ بیٹا کسی مسلمان کو کافر، گستاخ نہیں کہتے.

یہ بھی پڑھیں:   مجھے گائے سے ڈر لگتا ہے صاحب - محمد فہد صدیقی

يہ تو وہ معمولی سی داستان تھی جو کل ہی میرے ساتھ بیتی، اور میں سوچتی رہی کہ آستانوں کے خدا ہوں یا مسجد و منبر کے مالک، وہ اپنے بچوں کو کیوں نہیں بتاتے کہ مسلمان کافر نہیں ہوتا۔ منبر و محراب کو فرقہ واریت کا ذمہ دار سمجھنا تو بہت پرانا قصہ ہوگیا، ہماری یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ جب یوں بے خوف ہو کر کفر اور گستاخ کے فتوے اپنی دو دو انچ کی بیٹھک میں لگانے لگیں گے تو ہم میں کوئی کسی کی نظر میں مسلمان نہیں رہےگا، ہم میں ہر کوئی اپنے پہلو میں بیٹھے شخص سے منافقت کرے گا، جو ہم آج دیکھ رہے ہیں۔

سوچتی ہوں جس محسن امت رسول خدا صلی اللہ عليہ وسلم نے اپنے اور اپنے خدا کے نام پر مختلف قبائل اور ذاتوں کو ایک مسلمان کی پہچان دی تھی، وہ کس قدر غمگین ہوتے ہوں گے، کہ ان کی امت ان کے نام پر ہی ٹکڑوں میں بٹ رہی ہے۔

خدارا!
اگر آپ ایک استاد ہیں تو اپنی درسگاہ میں بتائیں کہ مسلمان کافر نہیں ہوتا،
آپ منبر یا آستانے کے مالک ہیں تو اپنے مریدوں کے ہجوم کو بتائیں کہ ”جہاں میں زیب ہے اختلاف سے.“
اگر آپ والدین ہیں تو بچوں کو بتائیں کہ کفر و گستاخی کے فیصلے کرنا، گلی میں گلی ڈنڈا کھیلنے کی طرح عام نہیں ہے ۔ ورنہ آئندہ کل ایسی ہوگی کہ ہم میں ہر کوئی خدانخواستہ دوسرے کی نظر میں مشکوک ہوگا، اور یوں ایک کافر دوسرا گستاخ، کوئی مرتد کوئی منافق تو کوئی مشرک رہے گا، اور پھر غير مسلموں سے کہنا پڑے گا کہ ”آپ جنت جانے کی تیاری کریں صاحب“۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.