پرویز ہود بھائی اور ان کی سائنس - سید معظم معین

ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے معاشرے میں فکری و نظریاتی خلیج بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سیکولر اور لبرل حضرات اپنے نقطہ نظر اور مذہبی طبقے اپنے نقطہ نظر پر مزید سختی اختیار کر رہے ہیں۔ تازہ ترین قضیہ پروفیسر پرویز ہود بھائی کا سوشل میڈیا پر گونجتا رہا کہ اسلام آباد کی کسی تقریب میں خطاب کے دوران مشال خان کے بہیمانہ قتل کا ذکر کرتے ہوئے وہ جذبات میں آ کر سخت الفاظ کہہ گئے جو کہ مناسب نہیں تھے۔ سیکولر احباب جو مذہبی لوگوں کو جذباتی اور غصیلے ہونے کا طعنہ دیتے تھے، انھیں کم از کم اپنے جذبات کو قابو رکھنے پر عبور ہونا چاہیے تھا مگر خیر انسان بہرحال انسان ہوتا ہے، جذبات غالب آ ہی جاتے ہیں۔ اس کے بعد لبرل دوست خاصی تندہی سے ہود بھائی کے حق میں وضاحتیں پیش کرتے رہے، سلپ آف ٹنگ اور جذبات کی رو میں بہنے سے تعبیر کرتے رہے اور یہ وہی لبرل احباب ہیں جو اپنے مخالفین مذہبی لیڈران کی ایسی کسی سلپ آف ٹنگ پر انہیں ٹانگنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

سیکولر احباب نے بجائے شرمندہ ہونے کے پرویز ہود بھائی کی شان میں اس طرح قصیدے کہے کہ ہم انگشت بدنداں رہ گئے کہ اس قدر قابل انسان کی شان سے ہم تاحال نا آشنا ہی رہے تھے۔ کچھ نے تو یہاں تک پاکی داماں کی حکایت بڑھائی کہ پروفیسر ہود بھائی کے مقام و مرتبے کو ڈاکٹر عبد القدیر خان سے بھی بڑھا دیا اور یہاں تک بھی سنا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تو اسلامیات کا پروفیسر ہونا چاہیے تھا، انہیں سائنس کا کیا پتا۔ اب ظاہر ہے جن کے نزدیک پاکستان کی ایٹمی طاقت ہی سرے سے بے معنی بلکہ غیر ضروری ہے، اور ہودبھائی اس میں پیش پیش رہے ہیں، تو انہیں ڈاکٹر عبد القدیر خان سے کیا انس و محبت ہو سکتی ہے؟ ان کے نزدیک تو جو دنیاوی علوم کے درمیان دین کا حوالہ دے وہ مولوی ہے اور اسے اسلامیات کا ہی پروفیسر ہونا چاہیے۔ یہ رویہ بذات خود شدت پر مبنی ہے مگر ہمارے لبرل دوستوں کا اصرار ہے کہ اسے سوفٹ سمجھا جائے، نجانے اگر وہ سخت رویے پر آئیں گے تو کیا کریں گے۔

خیر بات کرتے ہیں پرویز ہود بھائی کی۔ موصوف فزکس کے پروفیسر ہیں مگر دلچسپی کے امور اسلام اور سیکولرازم ہیں۔ اسلام کی بیخ کنی اور سیکولرازم کی ترویج عمومی مقصد ہے۔ مذہب کو سائنس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ گردانتے ہیں۔ اپنے مذہب کے بارے فرماتے ہیں کہ پیدا اسماعیلی ہوئے مگر اب معلوم نہیں کیا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

پرویز ہود بھائی نے ایک پوری ویڈیو حیات بعد موت کے موضوع پر بنا کر ریلیز کر رکھی ہے جس میں وہ حیات بعد موت پر سخت کنفیوژن کا شکار نظر آتے ہیں۔ کہنا یہ تھا کہ چونکہ یہ چیز سائنس اور فزکس سے ثابت نہیں ہو سکتی، اس لیے اس پر یقین رکھنا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے موت کے بعد زندگی ہو، ہو سکتا ہے نہ ہو، یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اور یہی اس طبقے کی کنفیوژن کا اصل سبب ہے کہ ہر چیز کو صرف فزکس کی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ حیات بعد الموت اسلامی عقائد کا بنیادی نظریہ ہے. قرآن پاک کھولیں تو پہلے ہی صفحے ہر اللہ رب العزت کا فرمان سامنے آتا ہے کہ ”اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پر، اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔ (البقرہ 4)“

اس ایک مثال سے سارے سیکولر طبقے اور خاص کر پروفیسر ہود بھائی کا فلسفہ زندگی سمجھا جا سکتا ہے۔ مسلمان کسی سائنسی تھیوری کے باعث نہیں بلکہ اپنے نبی علیہ السلام کی زبان پر یقین رکھتے ہوئے آخرت اور دیگر عقائد پر ایمان لاتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں۔ یہاں اللہ رب العزت نے آخرت کے لیے ”ایمان“ کے بجائے ”یقین“ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ایمان سے بھی اگلا درجہ ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور کہا، ”اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ انہوں نے دعوٰی کیا ہے راتوں رات بیت المقدس کی سیر کر آئے ہیں.“ ابوبکر صدیق نے کہا ”بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے، میں تو صبح وشام اس سے بھی بڑے امور میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔“ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا۔ مگر سیکولر دانشور دن رات اسلامی عقائد پر طعنہ زنی کرتے ہیں گویا انبیا کی زبان پر شک کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اور ساری امت نے بغیر فزکس کے اصولوں کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات پر یقین کیا ہے اور آج تک کرتے آئے ہیں مگر آج پیدا ہونے والے سائنسدان فزکس کے چار اصول دریافت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی بات پر شک کرتے ہیں۔ معاذ اللہ!

یہ بھی پڑھیں:   ہندومت کی وسعت قلبی کے پروپیگنڈے کی حقیقت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سیکولر طبقے کے فلسفیوں کو اگر مسلمانوں کے نبی کی زبان پر اور اس سے بڑھ کر اللہ پاک کے کلام پر بھی اعتبار نہیں تو وہ اپنی حد تک جو چاہیں نقطہ نظر اختیار کریں لیکن مسلمانوں کے معاشرے میں اسلام کے عقائد کے متعلق بات کرتے ہوئے طنزیہ انداز اختیار کرنا اور اسلامی عقائد کو فرسودہ اور ناقابل عمل قرار دینا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ضرورت سے زائد آزادی اظہار ہے جو اس معاشرے میں انہیں حاصل ہے اور اس پر بھی وہ خوش نہیں ہیں۔ پھر یہی طرز عمل ہر معاملے میں سیکولرز کا سامنے آتا ہے، ہر جگہ انہیں مذہب پر شک ہے، نبی علیہ السلام کی باتوں پر تذبذب کا شکار ہیں۔ نبی سے زیادہ برٹرینڈ رسل کے گرویدہ ہیں، کارل مارکس پر اندھا اعتماد ہے، دینی تعلیمات فرسودہ لگتی ہیں۔ مسلمانوں کے معاشرے میں زیادہ بہتر طرز عمل شاید یہ ہو کہ سائنس کے اصولوں کو دین کے مسلمات کے ساتھ ملا کر چلا جائے۔ مسلمانوں کے لیے دین کے بنیادی عقائد و مسلمات بالکل سائنسی اصولوں کی طرح یقینی ہیں، ان کو چھیڑنا اور طعنہ زنی کرنا قطعا صحت مند رویہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ رہ کر اپنے آپ کو چلانے کی کوشش کریں اور سائنس کے میدان میں جتنی مرضی تحقیق کریں مگر مسلمانوں کے معاشرے میں بنیادی عقائد پر طعنہ زنی کر کے لوگوں کو برداشت اور تحمل کی تلقین سادہ الفاظ میں سراسر غیر عقلی طرز عمل ہے۔
مسلمانوں کو سائنس کیسے پڑھنی چاہیے اس کے لیے اکبر الہ آبادی اصول بتا گئے ہیں

تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں پہ آڑو چرخ پہ جھولو
بس ایک سخن بندہ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.