ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب اور عرب ناٹو کا قیام - تزئین حسن

جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں امریکی صدر ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال ہوا ہے. اپنے پانچ ملکی دورے میں وہ اسرائیل، ویٹیکن، اٹلی، بیلجیم بھی جائیں گے. پہلا پڑاؤ سعودی عرب ہے جہاں وہ تاریخ کی سب سے بڑی اسلحہ ڈیل کے ذریعہ عرب ناٹو کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کریں گے. امریکی میڈیا کے مطابق یہ عرب ناٹو بھی پچھلی ناٹو کے مقاصد کی تکمیل کے لیے مشترکہ دشمن کے خلاف وجود میں آ رہی ہے. واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کی جو پارٹنرشپ ہم نے بنوائی اس کے لیڈرز سے سعودی عرب میں ملاقات ہوگی.

سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی رہا ہے مگر اوباما دور کے اواخر میں ایران کے ساتھ ڈیل پر سعودی امریکہ تعلقات میں بظاہر کچھ تناؤ آیا. اور پھر صدارتی مہم کے دوران اور بعد ازاں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانات کے با عث ایک سروے کے مطابق 84 فیصد سعودی نوجوان ٹرمپ کو مسلم مخالف یا اسلام دشمن لیڈر سمجھتے ہیں.

ٹرمپ کی طرف سے اپنے پہلے دورے کے لیے مملکت کا انتخاب کی ایک بڑی وجہ خطے کو کنٹرول کرنے کے علاوہ سپر پاور کے معاشی مفادات بھی ہیں. ٹرمپ کی روانگی سے پہلے ہی سعودی امریکی اسلحہ ڈیل کی خبریں گرم ہیں. تفصیلات کے مطابق سعودی عرب امریکہ سے 110 بلین ڈالر کے ہتھیار خرید رہا ہے. آئندہ دس سالوں میں یہ رقم 350 بلین ڈالر تک جا پہنچے گی. وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عرب ناٹو کامیاب ہوتی ہے تو اسے خطے (مشرق وسطیٰ) کی سیکورٹی کا کام سونپا جا سکتا ہے اور اس آرمز ڈیل سے امریکہ میں بے روزگاری کم کرنے میں بھی مدد ملے گی.

سعودی عرب امریکی اسلحے کا بہت پرانا خریدار ہے اور دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار تیل کی ڈیل جتنا ہی پرانا ہے. سن 2008ء میں امریکہ نے سعودی عرب کو بیس بلین ڈالر کے 15 F فروخت کیے تو اسرائیل کے معروف صحافی اور امن ایکٹوسٹ یوری ایونری نے بڑا دلچسپ تجزیہ دیا. اس کا کہنا تھا کہ جب اگلے وقتوں میں بادشاہ کسی ملازم کو سزا دینا چاہتے تھے تو اسے سفید ہاتھی تحفے میں دیتے تھے جن کے مقدس اسٹیٹس کی وجہ سے کوئی خدمت نہیں لی جا سکتی تھی مگر انہیں کھلانے پلانے میں وہ ملازم دیوالیہ ہو جاتا تھا. یوری ایونری کا کہنا تھا کہ یہ F 15 بھی سعودی عرب کے لیے سفید ہاتھی ہی ثابت ہوں گے، کیونکہ سعودی عرب کے پاس ان کا کوئی استمعال نہیں. پھر ان کے لیے مملکت میں نہ تو پائلٹس موجود ہیں نہ ان کی مینٹننس کے لیے انجینئرز، ان کی مینٹیننس ان کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوگی. اس کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو ان جنگی جہازوں کی فروخت کا مقصد تیل کی قیمت کو سعودی عرب تک پہنچنے سے روکنا ہے. یاد رہے اب یہ ایف 15یمن جنگ میں استمعال ہو رہے ہیں.

یہ بھی یاد رہے کہ 2008ء میں بھی یہ 15 F بیس سالہ پرانی ٹیکنالوجی کے حامل تھے جبکہ گزشتہ ماہ اسرائیل کو جواسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کے حامل چار F-35 دیے گئے، انہیں اب تک امریکی فضائیہ خود بھی استمعال نہیں کر سکی. دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اسلحہ ڈیل اور عرب ناٹو کے قیام پر اسرائیل نے کسی خاص ری ایکشن کا اظہار نہیں کیا کہ یہ مسلم اتحاد خطے کے وسیع تر مفاد میں بن رہا ہے. ہم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ہمارے سابق آرمی چیف، اس عسکری اتحاد کی کمانڈ کریں گے. تو ثابت ہوا کہ میاں بیوی ہی نہیں دونوں طرف کہ سسرال والے بھی اس بندھن سے خوش ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   یوم تشکر اور تجدید عہد - محمد شاکر

یہ بھی یاد رہے کہ 350 بلین ڈالر کی متوقع ڈیل ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مملکت تیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے مختلف معاشی مسائل میں گھری ہوئی ہے. اس وقت بڑی تعداد میں اوورسیز ملازمین جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں، تنخواہوں کے بغیر کام کر رہے ہیں. گزشتہ سال پاکستانی لیبرمیں نوبت خود کشی تک جا پہنچی. صورتحال یہاں تک خراب ہوئی کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اپنے سفارت خانے کے ذریعہ انڈین لیبر کے لیے غذا کا انتظام کرنا پڑا. احتجاج کے طور پر مکّہ میں بن لادن کی بسوں کو آگ لگانے کا واقعہ بھی سامنے آیا. پچھلے رمضان میں دیگر دھماکوں کے علاوہ مسجد نبوی کے باہر بھی خود کش حملہ ہوا. ایسے واقعات کا آج سے دو سال پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا. ادھر حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا. ایسے میں 350 ڈالر کی یہ ڈیل کوئی دانش مندی محسوس نہیں ہوتی. ذرا تصور کیجیے کہ اس رقم سے عالم اسلام میں کم از کم 350 اعلیُ ترین یونیورسٹیاں نہ صرف قائم کی جا سکتی ہیں بلکہ انھیں کمرشل بنیادوں پر چلا کر کثیر منافع بھی کمایا جا سکتا ہے. یا سعودی عرب اتنے خرچ سے اپنے ملک میں اسلحہ انڈسٹری کھڑی کر سکتا ہے، باقی مسلم ممالک اس میں مالی و فنی تعاون کر سکتے ہیں. مگر ایسا کون سوچے؟

Confessions of an Economic Hit Man نامی کتاب کے مصنف جان پرکنز جو ستر کی دہائی میں طویل عرصہ امریکی ملٹی نیشنلز کے نمائندے کے طور پر سعودی عرب سے مختلف انفراسٹرکچر کی ڈیلزمیں شامل رہے، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1973ء میں سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جس طرح تیل کی ترسیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سعودی عرب کا امریکہ پر انحصار اتنا بڑھا دیا جائے کہ دوبارہ سعودی عرب ایسی جرأت نہ کر سکے. اس مقصد کے لیے ترقی کے نام پر سعودی حکومت کو اتنے بڑے انفراسٹرکچر پروجیکٹس شروع کرنے پر راضی کیا گیا کہ تیل کی قیمت امریکی بینکوں سے نکلے بغیر دوبارہ امریکی کمپنیوں کو منتقل ہو جاتی اور جو رقم سعودی شاہی خاندان تک پہنچتی بھی، اس کا بڑا حصہ بھی انویسٹمنٹ کے نام پر دوبارہ امریکہ اور مغربی ممالک میں پہنچ جاتا.

آج بھی امریکی معاشی مفادات ان تعلقات کی گرم جوشی کو کم نہیں ہونے دے رہے. ادھر سعودی عرب ایران کے خطرے سے پریشان قحط زدہ یمن میں بےدریغ طاقت کا استعمال کر رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری رکھنے کے لیے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل بھی جاری رہنی چاہیے اور بحر ہند میں امریکی بحری بیڑا اور امریکی فضائیہ کی کمک بھی مسلسل درکار ہے. امید اس بات کی ہے کہ ٹرمپ یمن میں جاری خوں ریز جنگ کی حمایت جاری رکھیں گے کہ افغانستان، عراق، لیبیا، اور اس کے بعد شام اور یمن کے موجودہ حالت نئے ورلڈ آرڈر کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں. فرق صرف یہ ہے کہ افغانستان اور عراق کے ایڈونچرز کی بدنامی کے بعد اب امریکا دوسرے مسلم ملکوں کو ڈی اسٹیبلائز کرنے کا کام مشرق وسطیٰ میں اپنے حواریوں کو ٹھیکے پر دے رہا ہے جسے وہ بخوبی انجام دے رہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   دیا جلائے رکھنا ہے - شازیہ طاہر

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سن 2015ء میں سعودی مملکت کے سربراہ کی جانشینی یعنی ولی عہدی کے مسئلے پر جو غیر معمولی تبدیلیاں لائی گئیں، اس سے سعودی شاہی خاندان میں اندرون خانہ امریکی اثر و رسوخ میں بہت اضافہ ہوا ہے اور جانشینی کے مسئلے کو ہوا دیکر شاہی خاندان میں مخاصمت پیدا کی جا رہی ہے. حالیہ ولی عہد طویل عرصے سے مغرب کی آنکھوں کے تارے ہیں، اور یہ مملکت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں کے بجائے جانشینی پوتوں میں منتقل ہو گئی. اطلاعات کے مطابق ڈپٹی ولی عہد محمد بن سلمان جن کی عمر اس وقت صرف 37 سال ہے، کو فی الوقت لامتناہی اختیارات حاصل ہیں. وہ یمن کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کی قیادت کے علاوہ بھی متعدد عہدوں پر کام کر رہے ہیں. خبروں کے مطابق وہ وائٹ ہاؤس سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اسی سال مارچ میں ٹرمپ سے ملاقات بھی کر چکے ہیں.

الیکشن کے دوران ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اپنی جگہ مگر مشرق وسطیٰ اور مسلم دنیا کو مزید غیر مستحکم کرنے کے لیے امریکہ کو اپنے مضبوط ترین اتحادی کی طویل عرصے تک ضرورت ہے اور یہ پارٹنرشپ مستقبل قریب میں ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی.

وکی لیکس کی لیک شدہ دستاویزات کے مطابق موجودہ ولی عہد جو طویل عرصے تک وزارت داخلہ کا حصہ رہے ہیں، کے ذریعہ پاکستان اور پاکستانی فوج کو کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں، اور یقیناً اب بھی جاری ہیں. اس سلسلے میں 2010ء میں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ آرمٹیج اور موجودہ ولی عہد کی ملاقات کا تذکرہ بےمحل نہ ہوگا جس میں شہزادہ محمد بن نائف پر زور ڈالا گیا کہ وہ پاکستان کو افغان مسئلے پر ڈو مور پر راضی کریں.

ٹرمپ آج شروع ہونے والی مسلم ممالک کی کانفرنس میں بھی شرکت کے لیے پر جوش ہیں جس کی سربراہی بظاہر سعودی عرب کر رہا ہے مگر یہ بات بھی راز نہیں کہ امریکی صدر کی موجودگی میں اصل سربراہ کون ہوگا. وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ریاض میں اسلام کے بارے میں بھی خطاب کریں گے. ان کی تقریر ان کے ایڈوائزر سٹیفن ملر کی لکھی ہوئی ہوگی، جو سفید فام قوم پرستی اور مسلم دشمنی کے حوالے سے معروف ہیں. ٹرمپ کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ایچ آر مک ماسٹر کے مطابق وہ مسلم ممالک کو ایک مشترکہ دشمن کے خلاف اتحاد کی دعوت دیں گے. امید اس بات کی ہے کہ ٹرمپ کا موجودہ دورہ پچھلے صدور کے دوروں سے مختلف نہیں ہوگا. امریکی سیاسی تجزیہ نگار غیر ملکی دورے سے پہلے ٹرمپ کے بڑ بولے پن اور مسلمانوں کے لیے ان کے انتہاپسند نظریات سے پریشان نظر آتے ہیں مگر ٹرمپ کے تھیلے سے مسلم دنیا کے لیے کچھ نیا برآمد ہونے کی توقع نہیں.