ذاکر موسیٰ کی حزب المجاہدین سے علیحدگی - طارق حبیب

ذاکر موسیٰ کی تیسری آڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔ ذاکر موسیٰ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد کمانڈر بنائے گئے تھے۔ ذاکر انجینئرنگ کے طالبعلم تھے، مگر بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کو دیکھتے ہوئے تعلیم چھوڑ کر حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے تھے۔
۔
ذاکر موسیٰ مقبوضہ کشمیر کی ایک اپر کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں. ان کی فیملی انتہائی تعلیم یافتہ ہے، بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں اور ایک نجی ہسپتال چلاتے ہیں۔ مگر فیملی ممبران نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ذاکر کو اس راستے پر چلنے سے نہیں روکیں گے۔
۔
چند روز قبل ذاکر موسیٰ کی پہلی آڈیو منظر عام پر آئی جس میں اس نے اپنی جدوجہد کو لبرل ریاست کی آزادی کے بجائے اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد قرار دیا تھا اور نام لیے بغیر کچھ لوگوں پر شدید تنقید کی تھی۔ اس تنقید کو بھارتی میڈیا کی جانب سے حریت کانفرنس پر تنقید قرار دیا گیا۔ ذاکر موسیٰ نے وضاحتی آڈیو پیغام جاری کیا جس میں بتایا کہ ان کا پہلا پیغام حریت کانفرنس کے خلاف نہیں بلکہ ان رہنماؤں کے خلاف تھا جو کشمیر کو آزادی کے بعد سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔
۔
ذاکر موسیٰ کے پہلے بیان کے بعد حزب المجاہدین کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا جس کے بعد ذاکر موسیٰ نے دوسرے بیان میں حزب المجاہدین سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی قابض فوج کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا، اور اپنی جدوجہد کو ”کشمیر بنے گا دارالاسلام“ کا نعرہ دیا، جس پر بھارتی میڈیا ایک دفعہ پھر سرگرم ہوگیا، اور ان آڈیو میسجز کو حزب المجاہدین کو تقسیم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
۔
ذاکر موسیٰ نے اس پر تیسرا آڈیو پیغام جاری کیا اور واضح طور پر حزب المجاہدین سے علیحدگی کے باوجود بھارتی پروپیگنڈہ کے توڑ اور بھارتی فورسز پر مشترکہ حملوں کے لیے حزب المجاہدین کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے کا اعلان کیا۔
۔
ذاکر موسیٰ کے القاعدہ میں شمولیت کے حوالے سے ابہام ان کی پہلی آڈیو سے ہی پیدا ہو گیا تھا، جس کے بعد انھوں نے دوسری آڈیو میں بتایا کہ وہ القاعدہ کے حوالے سے کچھ نہیں جانتا، اس لیے القاعدہ کو صحیح یا غلط بھی نہیں کہنا چاہتا، مگر تیسری آڈیو میں حزب المجاہدین سے علیحدگی پر القاعدہ کی جانب سے ملنے والے حمایتی بیان کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ شریعت یا شہادت (القاعدہ کا نعرہ) پر ہی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
۔
مقبوضہ وادی میں جاری مسلح تحریک میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال کا بھارتی میڈیا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور جدوجہد کی نئی لہر کو متاثر کرنے کی اپنی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ حزب المجاہدین کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس سخت وقت میں، جب کشمیر میں تحریک آزادی زوروں پر ہے اور دنیا بھر میں اس پر بات کی جارہی ہے، کیا فیصلے کرتی ہے. ضروری ہے کہ وہ کسی طرح کی تقسیم سے بچتے ہوئے اس جدوجہد کے لیے مفید ثابت ہونے کے ساتھ بھارت کو اس نئی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا کسی صورت موقع نہ دے۔

Comments

طارق حبیب

طارق حبیب

طارق حبیب آج نیوز میں سینئر پروڈیوسر کرنٹ افیئرز ہیں۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور تحقیقاتی رپورٹر کام کیا ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.