كم فہمی ہى مكمل فرقہ پرستی ہے - نوید کاظمی

کوئی آسان كام ہر گز نہیں اسلام كے حساس مسائل پر لکھنا، کیونکہ آج کل جس فرقہ واریت کی دلدل میں ہم نے اہلِ اسلام کو ڈال رکھا ہے وہ اس قدر اندر تک دھنس چکا ہے کہ اب اسلام کے ان موضوع پر لکھنے سے بھی قلم ہچکچاتا ہے کہ کہیں قلم جو بات مکمل اسلام کی بقاء اور عظمت کے لیے لکھ رہا ہے وہ کسی اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کو اس کی کم فہمی کی وجہ سے سمجھ نہ آۓاور لکھنے والے کے لیے وبال جان بن جائے۔

ایک بات تو پورے وثوق اور اعتماد سے کہتا ہوں کہ اسلام کے اندر جو بھی مذہبی جماعتیں یا فرقے موجود ہیں، جو سب کلمہ گو ہیں ان میں سے ایک کے بھی بنیادی عقائد دوسرے سے مختلف نہیں اور ان میں سے کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کا دل اسلام اور اس کی بقاءوعظمت کے لیے اتنا ہی نہ دھڑکتا ہو جتنا کہ کسی اور مکتب سے تعلق رکھنے والے کا۔ ہر مکتب سے تعلق رکھنے والے کم ایمان، کم عمل اور کم فہم یا باکمال، باعمل اور باعلم لوگ اسلام کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہوں،یہاں اس بات کی نشاندہی کرتا چلوں کہ ہر مکتب میں کچھ شدت پسند موجود ہیں جن کی سب مکاتب مذمت کرتے ہیں۔

یہ بات صراحت سے ہر علم وغير علم والے با خوبى جانتے ہیں کہ ہر مکتب فکر کا ایک دوسرے سے فروعی مسا ئل پر اختلاف مو جود ہے اور وہ ازل سے ہیں اور انہیں ابد تک رہنا ہے۔ ان اختلافات كو پس پردہ رکھ کر ہم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ہم کلمہ گو ہیں۔ کوئى بھی فرقہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت سے انحراف نہیں کرتا اور سب دین اسلام کے لیے قربانی کے لیے ہر وقت کوشاں ہیں۔

نبی پاکؐ کی یہ حديث مبارکہ کہ میری امت میں 73 ہوں گے، ایک ناجی اور باقی ناری ہوں گے ۔ جسے ہمارے کم فہم علماء اور فرقہ پرست عوام طوطی کی طرح دوہراتى ہے، اور امت کو اکھٹا نہیں ہونے دیتی۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ یہ حديث ضعيف ہے یا معتبر، میں صرف اپنے علماء اور عوام الناس کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس بات کو میرے نبیؐ سرور کونین دو جہانوں کے سردار جنت کے وارث بیان فرمائیں اور قرآن پاک اس کی نفی کرے، اور ہم مسلمان اسی پر اکتفاء کریں؟

اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ " اوراللہ کی رسی کو مظبوطی سے پکڑے رکھو اور فرقوں میں نہ بٹو۔" یہاں یہ بات کرتا چلوں کہ 73 فرقے اگر نبی پاکؐ نے فرما دیا تو وہ ہر حالت میں بنیں گے، شاید یہ خدا كى حكمت ہے کہ نبیؐ کو کہا کہ امت کو بتا دو فرقوں کا اور خود یہ بیان کیا کہ جب فرقہ بن جائیں تو تم اللہ کی رسی کو تھامے رکھنا۔

بہت درد دل سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ ہم نے فرقہ واریت کو اتنا عام کر دیا ہے کہ اب تو نماز، زکٰوۃ،روزہ،حج، متقى، پرہيزگار، اچھے اعمال، معاشرہ میں انسان کا رویہ، حسن اخلاق اور نيک سيرت سے پرکھنے کے بجائے ہم نے تو ایک وکھرا ہی معیار بنا دیا ہے جس کو میں کم علمی،کم عقلی،کم فہمی اور فرقہ واریت کہتا ہوں۔ جیسا کہ اگر کوئی ديوبندى ہے تو اس پر گستاخ رسولؐ كا ليبل کہ یہ بس اللہ اللہ کرتے ہیں، شانِ مصطفیؐ بیان نہیں کرتے ۔ اگر اپ سنی بریلوی ہیں تو آپ پر شرک و بدعت،نبیؐ کے علم غیب کے قائل اور ندائے یا رسول اللہؐ کا فتویٰ صادر ۔ اگر اپ شیعہ ہیں تو حضرت علیؓ کے فضائل میں غلو، صحابہ کرامؓ كى گستاخى اور قرآن پاک میں تحریف کے قائل ہونے كا فتوىٰ صادر۔ اگر وہابی (سلفی) ہیں تو آئمہ اکرام کی تقلید نہ کرنے اور شدت دد کے قائل اور نبی پاکؐ کی کم تعظيم كا فتوىٰ۔ حالانکہ میں یہ بات پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ کسی بھی کلمہ گو کا جو کسی بھی مکتب سے تعلق رکھتا ہو اتنا کمزور ایمان نہیں کہ وہ رسول پاکؐ کی عزت نہ کرتا ہو، قرآن کی تحریف کا قائل ہو، مشرک و بدعتی ہو۔ يہ سب چیزیں ہمارے معاشرہ میں اچھی کتب اور اچھے علماء جو کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، ان کو نہ سننے اور نہ پڑھنے کی وجہ سے ہیں. بلکہ ہم نے اپنا Source Of Knowledge صرف اور صرف Youtube اور Facebook کو بنا رکھا ہے جو بہت بڑا المیہ ہے۔ جس کی وجہ سے ہم حقيقت سے دور اور خرافات سے قریب ہو گئے ۔ یہی عمل فرقہ واریت میں جھونک رہا ہے۔ خدا را! اسلام كو معتدل رويہ اور سوچ رکھ کرپڑھیں اور سمجھیں۔

اگر سب ایک دوسرے کو کافر، مشرک، بدعتی، گستاخ اور كا فر بنانے میں لگے رہے تو ذرا سوچیں کہ جنت میں کون جاۓ گا ؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */