دیسی لبرل معاشرے پہ احسان کریں - انعم علی

”باپ بھائی گھر پہ ہوں تو دوپٹے کو گلے کا پٹہ نہ بناؤ، ٹھیک سے کھول کر اوڑھا کرو اور ہاں سر بھی ڈھانپ لیا کرو، وہ محرم سہی لیکن ایک حیا کا رشتہ قائم رکھو،
کمر پہ ہاتھ نہ رکھا کرو،
پاؤں قریب رکھ کے بیٹھا کرو،
کوئی اجنبی اشارہ کرے تو اس کی نوعیت کو سمجھو، ہرگز قریب نہ جاؤ، بھلے تمہارے چاچو ماموں خالو ہی کیوں نہ ہوں، ہر کسی سے کچھ کھانے کی چیز نہ لیا کرو.“

یہ باتیں صدیوں سے ہر لڑکی کو ماں یا پھر دادی، نانی، خالہ، پھوپھو وغیرہ سے سننے کو ملتی آ رہی ہیں، اور چونکہ ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا اور بیٹیوں کو اپنی عزت سنبھالنا سکھائے. بجائے اس کے کہ بچہ کہیں اور سے کسی اور طرح ان باتوں کو سمجھے، چاہیے یہ کہ ایک ماں اپنے مذہب کے معیار کے مطابق ان کو اصل حالت میں بچوں میں منتقل کرے.

بہت سوچنے کے بعد ہمت ہوئی اس موضوع پر لکھنے کی،
لکھوں نہ لکھوں، لکھوں تو کیا لکھوں، کہ گرداب میں ذہن الجھا ہوا تھا. آخر نیر آپی سے پوچھا کیا کروں تو جواب ملا کہ لکھو، جو ذہن میں آتا ہے لکھو، بس اس اہم موضوع کی حساسیت کا دھیان رکھنا.
بس پھر لکھتے ہی بنی کہ آج کل سیکس ایجوکیشن نامی بلا سے بہت پالا پڑ رہا ہے تو جوابی کارروائی بھی ضروری ہے.

مدعے کی طرف آتے ہیں کہ مخالفین چاہتے ہیں کہ نوجوان بچوں کو باقاعدہ سمجھایا جائے کہ جنسی ضروریات پوری کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے، کسی اجنبی سے بچنے کے لیے کیا کیا جانا چاہیے وغیرہ وغیرہ.

یہ مقدمہ پڑھ کر ہی حیرت ہوئی کہ ہزاروں سال سے رواں دواں یہ زندگی کم از کم اس خاص ایجوکیشن کے نہ ہوتے ہوئے نہیں رکی، نہ ہی ہماری دادیاں، نانیاں اس ایجوکیشن کی محتاج تھیں. پھر بھی اتنی بہترین تربیت ہوتی رہی. اور اس کی کمی یا بڑھوتری کی وجہ سے کوئی کسی کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے سے باز آیا ہے. یہ تو فطرت ہے، جب جس پہ حاوی آجائے تو کیا ایجوکیشن کیا اور ایجوکیشن کی اصل..... سب دھرا رہ جاتا ہے، البتہ گھر کی تربیت ضرور کام آتی ہے..

یہ بھی پڑھیں:   ماں جی کے لیے دعا کی اپیل - حسنین قاسمی

تو اچانک کیا افتاد پڑی اس حوالے سے گھر سے باہر کچھ سیکھنے کی؟
ایسا بھی کیا ہوگیا کہ جو سبق مائیں بچوں کو رازداری سے سکھاتی تھیں، آج سرعام پرایوں کے ہاتھوں سکھایا جائے گا؟
وہ کون سی بات ہے جو ایک ماں اپنے بچوں کو نہیں سکھا سکتی لیکن معاشرہ سکھا سکتا ہے؟
جس معاشرے سے بچوں کو بچانا مقصود ہے، اب وہی بتائے گا کہ مجھ سے کیسے بچنا ہے؟
ایک حساس چیز کو ماں کے ذمے دار ہاتھوں سے نکال کر اس غیر ذمے دار بے رحم معاشرے کے حوالے کرنا درست ہے؟
اور سب سے بڑھ کر سکھانے والے بھی وہ جو اجنبی ہیں، ان پہ کس طرح اعتبار کیا جائے، وہ بھی تو انسان ہی ہیں، اپنے نفس کے تابع کوئی فرشتہ تو نہیں. اوروں کو پڑھاتے پڑھاتے خود کب لڑھک جائیں کیا خبر؟
جب ایک ماں بچوں جیسے قیمتی اثاثے کی تربیت خود نہیں کر سکتی تو پرائے لوگوں پہ کیا اعتبار کہ وہ اچھی تربیت کریں گے؟

یہ نئی نسل کے چونچلوں کی مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی. لیکن سوچا جائے تو یہ سب اچانک نہیں ہوا...
سٹیپ بائے سٹیپ کافی عرصے سے اس کے لیے میڈیا کے ذریعے راہ ہموار کی جا رہی ہے. پہلے دوپٹہ غائب کرا دیا گیا، پھر عورت کو اتنے زاویوں سے دکھایا گیا کہ کوئی دھڑکتے دل پہ مشکل سے ہی قابو رکھ سکے. اس ایجوکیشن کی ڈیمانڈ اس طبقے کی اپنی ہی ایجاد کردہ ہے جس کو سپلائی پہنچانے کے لیے کسی بھی سطح پر گرنے کو تیار ہیں اب..

اب جب حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ تین پانچ سال کی بچیاں بھی درندوں سے محفوظ نہیں تو اب بجائے اس کے کہ ماؤں کو تربیت اور لڑکیوں کو پردے کی اہمیت سمجھا کر اپنے گناہوں کی تلافی کریں، سیکس ایجوکیشن کی نئی شرلی چھوڑ دی گئی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اے گھر کی شہزادیو - شمس الرحمن تاجک

ایسا ہوتا تو کیا انڈیا میں اتنے ریپس ہوتے، وہاں کا بالی وڈ یہ ایجوکیشن دینے کے لیے کافی ہے نا، پھر ایسا کیا ہے کہ ریپس بڑھتے بڑھتے اس لیول تک پہنچ گئے ہیں کہ دہلی کو ریپ سٹی کے لقب سے نواز دیا گیا ہے...؟

تھوڑے کو بہت سمجھیں اور شعور بیدار کریں کہ یہ باتیں سرعام پڑھانے کی نہیں ہیں، بعض ٹیبوز کو ٹیبو ہی رہنے دیں تو دیسی لبرل طبقے کا اس معاشرے پہ احسان ہوگا. وہ کہتے ہیں نہ عقل بادام نہیں ٹھوکر کھانے سے ملتی ہے، اب تک لبرلزم کے ہاتھوں پھیلنے والے اثرات کا پھر بھی گزارا تھا لیکن اب جس ڈگر پر چل پڑے ہیں تو عافیت کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی، اس لیے ابھی بھی وقت ہے. سوچ لیں!