کیا یہ وہی عامرخاکوانی نہیں - ہمایوں مجاہد تارڑ

کیا اسی عامر خاکوانی نے پنجاب یونیورسٹی قضیہ میں اپنی رائٹ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کو لتاڑ کر نہ رکھ دیا! اسی طرح، اوریا مقبول جان صاحب کی جانب سے اُس ٹی وی اشتہار پر دیے سخت رد عمل پر بھی وہ معترض ہوئے۔ کیسا اچھا لکھا کہ آخر ایسی کون سی انہونی بات تھی اس اشتہار میں کہ ہم لوگ تو اس سے کئی گنا بولڈ اشتہارات دیکھنے کے عادی ہو چکے؟ فزکس ڈیپارٹمنٹ پر ڈاکٹر عبدالسلام کے نام کو احتراماً چسپاں کرنے کی بات ہو، یا شرمین عبید یا ملالہ کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ، یا ممتاز قادری کے چالیسویں کے موقع پر ڈی چوک پر برپا بے وقوفانہ مظاہرہ اور گالم گلوچ کی بات ہو۔ کتنے ہی ایسے ایشوز ہیں جن میں اپنی رائٹ ونگ سائیڈ کو چھوڑ کر فقط نیوٹرل یا خدا لگتی بات کہنے کو اپنی چوائس بنایا خاکوانی برادر نے۔ اب اگر اگلوں نے قندیل بلوچ پر پوری فلم بنا ڈالنے کا اعلان کر ڈالاہے، تو معاشرے کی سعدیہ قریشی ایسی ایک شریف النفس بیٹی کا بھی حق ہے کہ وہ اس نوع کے مواد کی پروموشن پر، کم از کم بھی، احتجاج کناں ہو سکے۔ سعدیہ قریشی کا کالم ہمارے معاشرے کے ضمیر کی اُجلی آواز ہے۔ اسے سپورٹ کیا تو کیا ظلم کیا خاکوانی برادر نے؟

ایسے ایشوز میں اپنی مخصوص سائیڈ سے ذرا ہٹ کر سچی بات کہنا کنسرن ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے مجھے برادر انعام رانا سے خصوصی گلہ ہے کہ انہوں نے بھی لیفٹسٹس والا عمومی رویہ اپنایا، حالانکہ ان کا مجموعی تاثر کوئی پروپیگنڈسٹ ہونے کا نہیں ہے۔ اچھی بات کہنے والے ایک نیوٹرل شخص کا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں حلقوں میں پسند کیے جاتے ہیں۔ لیکن انہیں بھی سارے کالم میں بس وہ ایک لفظ ہی نظر آیا. جانے دیجیے، انعام بھائی۔ بجائے اس کے کہ آپ اس ایک لفظ پر تو معترض ہوتے، جبکہ کالم کے مجموعی مواد کو سراہتے۔ آپ نے کیا کیا؟ ایک سائیڈ پکڑلی اور بس! اس پر اعتراض کیا تو ارشاد ہوا ”سعدیہ ایسی ’شریف النفس‘ بیٹی کو اگر کسی مرحومہ بیٹی کو فاحشہ کہنے کا اختیار ہے تو مجھے اس پراعتراض کرنے کا بھی اختیار ہے۔“

سہ بارہ عرض ہے کہ خاکوانی صاحب کی اُن پوسٹس پر وہ کامنٹس دیکھ کردکھ ہوا جس کا آغاز رؤف کلاسرا صاحب کے کمنٹ سے ہوا۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار نظر سے گذرا۔ ساتھ میں عدنان کاکڑ اور مجاہد حسین صاحبان کی ”میں نہ مانوں“ والی ’دہشت گردی‘ ایک بار پھر نوٹس میں آئی، اور سخت دُکھ ہوا۔ سعدیہ قریشی والے کالم میں، سوائے اُس ایک قابلِ اعتراض لفظ کے، ایسا کون سا پوائنٹ ہے آخر جو کامن سینس رکھنے والا کوئی بھی صاحبِ ضمیر جھٹلا سکے؟ اس میں مذہب کا ریفرنس بھی ضروری نہیں۔ جیسا کہ سعدیہ قریشی نے لکھا کہ ”اس طرح کی کھلی چھٹی تو ان معاشروں میں بھی نہیں ہوتی جنہیں آپ آزاد معاشرہ کہتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور وائٹ ہاؤس میں مونیکا لیونسکی کا سکینڈل سامنے آیا تو کلنٹن کے صدارتی محل کی بنیادیں ہل گئی تھیں۔ اُس آزاد امریکی معاشرے میں ایک طوفان برپا ہوگیا جو فرد کو ہرطرح کے عمل کی آزادی دیتا ہے، مگر یہاں پھر ایک حد کھینچتا ہے کہ امریکیوں پر جو شخص حاکم ہے، اسے اخلاقی قدروں کی پامالی کی اجازت نہیں۔ اور اسی حد نے بل کلنٹن کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔“

سعدیہ قریشی کا ردّ عمل قندیل پر بننے والی فلم کے حوالے سے ہے۔ اعتراض اسے گلوریفائی کرنے پر ہے، نہ کہ اس پر کہ وہ ایسی کیوں تھی؟ وہ قندیل جسے خواہ مخواہ ویمن ایکٹیوسٹ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو ”نہ تو کوئی اے کلاس اداکارہ تھی، بلکہ تھرڈ ڈگری اداکارہ بھی نہ تھی۔ اس کے کریڈٹ پر کوئی فلم، کوئی ڈرامہ حتیٰ کہ ایک ڈیڑھ منٹ کا کمرشل تک نہیں۔ وہ کوئی فیشن ماڈل تک نہ تھی کجا کہ اس معاشرے کے لیے ’رول ماڈل‘ جس کی زندگی پر فلم بنائی جائے اور اسے بڑی سکرین کے پردے پر فلمایا جائے۔ معیار کی اس پستی پر صرف افسوس ہو سکتا ہے۔حد تو یہ ہے کہ وکی پیڈیا پر قندیل بلوچ کا پروفائل دیکھیں تو اس پر اسے ویمن رائٹ ایکٹوسٹ لکھا گیا ہے۔ جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔“

کسی حافظ مرزا نے کیا عمدہ کمنٹ کیا کہ ”قندیل جیسے کردار بحیثیت مجموعی معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ اب کس قدر گرا جائے کہ اسے مظلوم بیٹی ثابت کرنے جیسے فلسفے کو قبول کیا جائے؟ قندیل کی زندگی کے شب وروز ہماری معاشرتی روایات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ اس کے مرنے کے بعد یہ باب بند ہو جانا چاہیے تھا کہ مرنے کے بعد معاملات اللہ اور اس کے بندے کے درمیان رہ جاتے ہیں۔ مگر جب ایسے کردار معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو پھر وہ گزری ہوئی زندگی ہی زیر بحث آئے گی اچھی ہو یا بری، اور جو ٹائٹل، جو شعبہ ایسی شخصیت کا تھا، اسے اسی نام سے پکارا جائے گا۔“ اسی طرح سر مجیب الحق حقی کا استدلال ہے کہ ”مرنے والے اپنے کردار کے حوالے سے ہی یاد کیے جاتے ہیں۔ کوئی غدّار، کوئی ہیرو، کوئی اسمگلر، کوئی عیّاش جیسے راسپوٹین، تو اس میں توہین کہاں سے آگئی؟ ٹیپو سلطان اور میر جعفر اپنے کردار کے حوالے سے ہی جانے جاتے ہیں۔“

بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آپ اس کہانی کو خود اچھالنے چلے ہو۔ اور اسے زندہ کرتے ہوئے اس کا تاثر بدل دینا چاہتے ہو۔ وکی پیڈیا ہو، آپ کی تحریریں ہوں، یہ موم بتی سیلی بریشن ٹائپ شو شا ہویا کوئی فلم، جب ایسے کردار کو معاشرے پر مسلّط کرتے ہوئے اسے گلوریفائی کرو گے تو اصل بات بتانے والے بھی پکار ُاٹھیں گے کہ ایسا نہیں ہے۔ قندیل کی زندگی میں جن لوگوں کو توفیق نہ ہوئی کہ اسے سمجھا سکتے، مدد کر سکتے، اسے درست ٹریک پر ڈال سکنے کی کوئی ادنٰی سی کوشش ہی کر ڈالتے، وہ اب اس کے فوٹوز پر مبنی بڑے بڑے بورڈز آویزاں کرتے ہوئے اسے ویمن رائٹس ایکوسٹ مشہور کرنا شروع کر دیں تو یہ صریحاً نا انصافی ہے۔ کیا اس پر صرف خاموش نہیں رہا جا سکتا؟

شمس الدین امجد کا کمنٹ ہے کہ ”قندیل بلوچ کا معاملہ عورت ہونے کی وجہ سے خراب نہیں ہوا، نہ ہی اس وجہ سے کہ وہ ماڈل تھی، ہیرا منڈی اور اس جیسے مراکز تو ہر شہر میں پائے جاتے ہیں، کسی کو غرض ہے نہ اس پر کوئی بات کرتا ہے۔ ماڈلنگ سے وابستہ سینکڑوں خواتین ہیں، اداکارائیں، کوئی ان کے کردار پر بات نہیں کرتا۔ مسئلہ اس رویے سے ہوتا ہے جو قندیل بلوچ نے اختیار کیا۔ یہ رویہ کسی کے لیے رول ماڈل ہے تو اسے عملا اس کا خود بھی مظاہرہ کرنا چاہیے نہ کہ وہ دوسروں کو ترغیب دیتا نظر آئے۔ اور ایسا جوکوئی بھی کرے گا، زمین پر آ گرے گا اور معاشرہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرے گا۔ یہ ہمارے سامنے روزمرہ کا معاملہ ہے۔ مرد چور ڈاکو ہو یا اخلاقی معاملات اس کے خراب ہوں یا کسی اور خرابی میں مبتلا ہو تو گلی محلے میں اس پر تھو تھو ہوتی ہے۔ شریف لوگ نہ صرف خود دور رہتے ہیں بلکہ اولاد اور دوست احباب کو بھی میل جول سے روکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بعض سیکولر احباب نے آزادی کا عجیب تصور اپنایا ہوا ہے کہ ایک آدمی بھرے چوک میں ننگا ہو جائے تو اسے کپڑے پہنانے کے بجائے یہ ان سے الجھنے لگتے ہیں جو اسے ننگا قرار دیں اور کہیں کہ بھئی اسے کپڑے پہناؤ۔ ننگا ہونے سے مسئلہ نہیں، بلکہ کوئی ننگے کو ننگا کہہ دے اور کپڑے پہنانے کی بات کرے تو وہ اصل مسئلہ ہے۔ یہ اس کے ننگے پن سے محظوظ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اسے مروا کر چھوڑتے ہیں۔ اس بےچارے کے مرنے کے بعد یہ مزید کسی نئے ننگے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔“

حافظ مرزا کا ایک اور کامنٹ ملاحظہ ہو جو خاصا قلم توڑ ہے، اور لفظ ”فاحشہ“ تک کے دفاع میں گیا ہے:
”لاکھوں لوگ سنتے چلے آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے پیاسے کتے کو کنویں سے پانی پلادیا اور بخشی گئی۔ اُس بخش دی گئی یقینی طور پہ جنتی عورت کا ذکر جب بھی آتا ہے، آج بھی ہر بندہ اُسے ’بنی اسرائیل کی فاحشہ عورت‘ کے عنوان سے ہی یاد کرتا ہے۔ مرحومہ قندیل بلوچ کی تو نوعیت ہی الگ ہے، تو یہاں فاحشہ بتائے جانے پہ اعتراض کیوں؟“

خیر ، بات چلی تھی برادر عامر خاکوانی کے دفاع کی۔
مجھے کہنے دیں کہ جہاں خاکوانی صاحب کی طاقتورتحاریر نے لیفٹ ونگ کو بیک فُٹ پر دھکیلا ہے، وہیں اس سیکولر طبقہ کو سب سے زیادہ انھی کا شکر گزار بھی رہنا چاہیے کہ یہی خاکوانی صاحب ان کے لیے اس پاکستانی سوسائٹی میں سب سے مضبوط ڈھال بھی بنے ہوئے ہیں۔ دیکھتا ہوں کہ برادر خاکوانی کی تحریر و تقریر اور قوتِ کردار نے سیکولرز کو سادہ لوح مگر سخت گیر اسلامسٹوں کی یلغار سے کافی حد تک بچا رکھا ہے۔ اور اس خاطر انہوں نے برسوں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر شب و روز کام کیا ہے۔ عام آدمی سے ’بقلم خود‘ قریب رہتے ہوئے۔ یہ وہی خاکوانی صاحب ہیں جن کی فیس بک وال سے ہی مجھے وجاہت مسعود، فرنود، عدنان کاکڑ، اور باقی سبھوں کا تعارف نصیب ہوا، یعنی پذیرائی کی شکل میں۔ ناچیز نےفرنود عالم ایسے جادوگر کی اوّلین تحریر جو پڑھی وہ خاکوانی برادر نے ہی پوسٹ کی تھی: ”مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے۔“ اسی طرح وصی بابا ہو، محترم المقام رعایت اللہ فاروقی صاحب یا رائٹ، لیفٹ کا کوئی اور بڑا نام۔ دائیں، بائیں، شمال جنوب، سب لوگوں کا تعارف ناچیز کو خاکوانی برادر کی وال سے نصیب ہوا۔

مجھے یاد ہے، ایک بار راقم نے ذرا جوش میں آ کر وجاہت مسعود صاحب کے لیے ایک نا مناسب لفظ لکھ دیا تھا۔ فوراً ہی پلٹ کر ریپلائی مارا: ”تارڑ صاحب! وجاہت مسعودصاحب ایسی صاحبِ علم شخصیت کے لیے ایسا لفظ ہرگز مناسب نہیں!“ ان کا جوابی کامنٹ تو اسی وقت آ گیا تھا، تاہم، راقم نے اسے شام گھر آکر دیکھا۔ گویا ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اور فوراً ہی اپنے کمنٹ کو علامہ اقبال کے ایک شعر کا سہارا لیکر ایڈٹ کر ڈالا۔ یہ ہیں عامر خاکوانی! کبھی ان کی بات مان بھی لیا کرو یارو! خدانخواستہ یہ بندہ نہ رہا تو آپ ہی سب سے زیادہ یاد کیاکرو گے کہ، کیا بندہ تھا!!

میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ بڑی دلچسپ بات!
خاکوانی صاحب اپنا مؤقف، اپنی سٹینڈنگ تو خوب بھاری بھر کم انداز میں جما کر لگا دیتے ہیں، اُس سے کم ہی رجوع کرتے، اور ڈٹ جایا کرتے ہیں۔ مگر جب کمنٹس میں کسی سے بحث ہو جائے تو اس قدر نرمی سے ڈیل کرتے ہیں گویا سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی، مضبوط ترین دلائل رکھنے کے باوجود ہار گئے ہوں۔ میری آبزرویشن یہ کہتی ہے کہ وہ ایسا ارادتاً کرتے ہیں۔ دوسروں کو پوری سپیس دیتے ہوئے کہ آؤ میری دھنائی کر ڈالو۔ اپنا غبار خوب نکال لو۔ اور اس پر غصہ کرنے کے بجائے مد مقابل کو شفقت و محبت سے دیکھتے رہتے ہیں۔ خاموش ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ مؤقف بھی اپنی جگہ جما اور جگمگاتا رہتا ہے۔ یوں انجامِ کار، وہ اپنے بدترین مخالفین کے دلوں میں بھی جگمگانے لگتے ہیں۔ اس پر مجھے واصف علی واصف مرحوم کی وہ اجلی بات یاد آتی ہے کہ کبھی کسی دوست سے بحث چھڑ جائے تو کوشش کرو بحث ہار جاؤ، اور دوست جیت لو۔ خاکوانی برادر بھی بحث چھوڑ کر دوست رکھ لینے والے سراپا پیار ہی پیار قسم کی شخصیت ہیں۔ آپ سب خود دیکھ لیں۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.