صاحب یوں تو کام نہیں چلے گا - شہیر شجاع

انتالیس ممالک کی فوج کا سربراہ پاکستان سے چنا گیا جس پر چالیسویں ملک کو اعتراض ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا وہ چالیسواں ملک بھی اس مجموعے میں شامل ہوتا ؟ اور پھر اعتراض ہم ہی پر کہ انتالیس ملکوں کی سربراہی تمہاری جانب سے کیوں ؟ اور ہم اتنے بے کس، انتالیس کا مجموعہ بھی ہمیں معذرت خواہانہ رویہ رکھنے پر مجبور ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چالیسواں ملک ہمیں ایک زبردست قسم کی دھمکی بھی رسید کر دیتا ہے۔ اور ہم چوزوں کی طرح چوں چوں کرنے لگتے ہیں۔ بھارت کے معاملے میں رویہ معذرت خواہانہ، افغانستان کے معاملے میں معذرت خواہانہ، آخر ہماری پالیسی ہے کیا؟

آپ کہہ دیں کہ سول حکومت کے پاس پوٹینشل ہے کہ وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دے، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے آگے مجبور ہے۔ " معذرت !! یہ دلیل قابل قبول نہیں ہے۔

کیونکہ!!

ہم نے خارجہ امور پر کبھی پارلیمنٹ میں بحث ہوتے نہیں دیکھا۔ کبھی پارلیمینٹیرینز کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب اقدام نہیں دیکھے۔ جب پارلیمان ایسے مقدمات پر بحث کرے اور کوئی مضبوط لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ پھر اسٹیبلشمنٹ کے پاس اختیارات محدود ہوجائیں گے مگر جب تک دارومدار ایک خاندان اور فرد واحد کے گرد گھومے گا, یہ بے چینی ہمیشہ قائم رہے گی۔ منطقی نتائج بہرحال کبھی حاصل نہیں ہوسکتے۔

ایک رائے اس منتخب حکومت کے انداز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ابھر کر آئی ہے کہ حساس خارجہ امور کو عوام کی آگاہی سے مکمل بلیک آؤٹ رکھا جائے اور تمام ناکامی کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ کے سر تھوپ دی جائے۔ اس طرح خصوصاً ن لیگ کو پسند کرنے والوں کے ذہن میں راسخ کردہ سوچ کہ " اسٹیبلشمنٹ کام کرنے نہیں دیتی " مزید مضبوط ہو، اور حکمرانوں کے سر سے ذمہ داری کا بوجھ بھی اتر جائے۔

سرمایہ دار بالاضافہ خاندان کی بالادستی بالغرض جمہوریت جب تک قائم ہے ، مثبت نتائج کی تمنا چہ معنی دارد ؟۔۔۔ ۔ صاحب یوں تو کام نہیں چلے گا!