سول ملٹری تعلقات - عبد الماجد خان

سول ملٹری ریلیشنز کی پرعزم بحالی خالص ملکی مفاد میں ہے، دو اہم ریاستی اداروں کی مصالحت پر ہر علمی فکر رکھنے والا باشعور پاکستانی خوش و خرم اور شاداں ہے، تاہم اس پیش رفت پر جہاں کچھ سیاستدان نوحہ کناں ہیں تو وہیں بعض میڈیا نمائندگان، تجزیہ نگار، سابق فوجی اور صحافی روائتی آہ و زاری و مرثیہ نگاری میں مستغرق ہیں۔
صبح شام ٹی وی پر بیٹھ کر سیاستدانوں کی ہجو کرنے اور اداروں کے مابین لڑائی کی خواہشات لے کر خون جلانے والے میڈیا کے ان حوالداروں اور لانس نائیکوں سے عرض ہے کہ ملکی تاریخ کے 70 سالوں میں 10 مئی بہت کم اور 12 مئی بہت زیادہ ہیں۔ آپ بھی اس دن کو یوم شرمندگی منانے کے بجائے منافقت، مفاد پرستی اور سازشوں کے خلاف یوم نجات سمجھیں اور اپنے موقف پر نظر ثانی کریں۔ دروغ گوئی، یاوہ گیری، ضد اور سازشی تھیوریز ترک کریں اور میزان انصاف پر عوام الناس کو اپنا مدعا پیش کریں۔ جب احسان اللہ احسان جیسے سیکورٹی رسک نہیں رہے تو آپ نیوز لیکس کو کب تک قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کر بیچتے رہیں گے ؟
ملک کا آئین و دستور ہر چیز پر مقدم ہے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنا ہر ادارے اور ہر شہری کا فرض ہے۔ آئین کہتا ہے کہ ملکی قوانین کا نفوذ وزیراعظم اور ایک عام شہری کے لے ایک جیسا ہو اور شاہ و گدا کے حقوق مساوی ہوں ۔ اگرچہ آئین کی عملداری میں کجی ہے، مشکلات ہیں، رکاوٹیں ہیں مگر اس ناکامی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا ساتھ دیں اور ملک کو مزید فیلڈ سٹیٹ بنا دیں۔
نیوز لیکس پر تین حکومتی عہدیداروں کو فارغ کرنے کے بعد فوجی ترجمان کا وزیراعظم کے حکم نامے کو یکسر مسترد کرنا غیر دانشمندانہ اور جلد بازی کا شاخسانہ تھا۔ فوج نے اپنے موقف پر نظرثانی کی ہے جو ایک خوشگوار اور فقیدالمثال تبدیلی ہے۔ ہماری جمہوریت کمزور اور غیر مستحکم ہے جو اداروں کے درمیان خلیج کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ امر شک سے بالاتر ہے کہ جب تک جمہوریت اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہوتی اس وقت تک اس کے مکمل ثمرات حاصل ہونا محال ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ لولی لنگڑی جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔
یہ جمہوریت ہی ہے جب آپ ایک منتخب وزیراعظم کو پٹواری، نو سرباز، چور اُچکا اور پتہ نہیں کیا کیا خطابات دے جا رہے ہیں وگرنہ آمریت میں ایک معمولی رینک کے آفیسر کی شان میں گستاخی "بلڈی سویلینز" کو نشان عبرت بنا دیتی ہے۔
وطن، سیاسی جماعتوں اور دیگر اداروں سے محبت اصول اور نظریہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ مفاد اور ایجنڈے کی بنیاد پر قائم ربط سودے بازی ہے، آج جو لوگ فوج اور حکومت کے باہمی اتفاق پر نالاں ہو کر اول الذکر کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کل تک فوج کی خوشامد اور تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔
سب سے حیران کن طرزعمل عمران خان صاحب اور ان کے پارٹی ورکرز کا ہے جنھوں نے محض سیاسی مخاصمت کی بنیاد پر ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے اور فوج کی مصالحت کی کوشش کو 71ء کی شکست کے برابر قرار دے رہے ہیں ۔
کل تک ایک عام، غیر سیاسی اور نیوٹرل پاکستانی کے لیے نواز و زرداری کی نسبت عمران ایک آسان چوائس تھے جس کی وجہ انصاف اور "تبدیلی" کی ایک موہوم سی امید تھی، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
اے ایمان والوں ! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ ( مائدہ – آیت 8)