ہم وہ ہرگز نہیں، جو نظر آتے ہیں - نورین تبسم

انسان اپنے اندر لامتناہی وسعتیں رکھتا ہے، اس کو جاننےکے لیے کسی قسم کے مشکل اسباق پڑھنے کی ضرورت نہیں، صرف اپنے اوپر ایک نظر ڈال لیں تو حیرت کے در کُھلتے چلے جائیں گے۔ زندگی کا پہیہ جیسے جیسے سِرکتا ہے، ہر موڑ پر ہماری شخصیت کا ایک نیا منظر دکھائی دیتا ہے، اور ہر منظر اتنا جان دار اور مکمل ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے یہی اصل حقیقت ہے۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ وقت کے ساتھ ہماری جہت بدلتی ہے، ہماری روح ایک قالب سے دوسرے میں ڈھلتی ہے اور ہمارا جسم حیران و پریشان اس کا ساتھ دینے کی سعی کرتا جاتا ہے۔ روح کی کرشمہ سازیاں اسے افسردہ تو کبھی مطمئن کر دیتی ہیں۔ یہی زندگی کا حسن، اصل کمائی اور یہی بقا کا راز بھی ہے۔ جب سانپ جیسی مخلوق جسم کی سلامتی کے لیے ایک نئے لبادے کی تلاش میں ہے تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اس کی تو خوراک ہی اس کی تلاش میں پنہاں ہے۔ کائنات کی ہر شے کا رنگ ایک انسان کے اندر موجود ہے۔

وہ پارے کی طرح بےقرار ہے تو پتھر کی طرح جامد بھی۔
کہیں پھول ہے تو کہیں خوشبو۔
کہیں محبوب ہے تو کہیں عاشق۔
کہیں دنیا کی حسین ترین شبیہ ہے تو کہیں پاؤں کی گرد سے بھی زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
کہیں اس کی آواز کانوں میں رس گھولتی ہے تو کہیں آواز اپنے کان بھی سُن نہیں پاتے۔
کہیں مسیحا ہے تو کہیں قاتل۔
کہیں ساقی ہے تو کہیں خمار۔
کہیں خود منتظر ہے تو کہیں صدیوں سے کوئی اس کی تلاش میں ہے۔
کہیں سرِ راہ ہے تو کہیں والیءتخت۔
کہیں آسودہ ہے تو کہیں ناآسودگی کی تپش اسے کُملا رہی ہے۔
کہیں پاس ہے تو کہیں دُور۔

کبھی کچے گھڑے پر دُنیا فتح کرنے نکلتا ہے تو کہیں اپنی ذات کی بولی لگاتا ہے اور کوڑیوں کے مول بھی خریدار نہیں ملتا۔
کبھی اپنے آنسوؤں میں یوں ڈوب جاتا ہے کہ نام ونشان تک باقی نہیں بچتا اور اگلے ہی پل دریا ایسے خشک کہ محبتوں کی جھڑی بھی اس میں شگاف نہیں ڈال سکتی۔
ایک تلاش ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ایک سفر ہے جو جُہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ ایک خلش ہے جو جان کا روگ ہے۔ ایک پھانس ہے جو کسی کروٹ چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
اہم یہ ہے کہ سب زندگی کا کھیل ہے، زندگی کے رنگ ہیں۔ زندگی کی چاہت ہے تو اپنے ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لو۔ یاد رکھو ان رنگوں کی قوسِ قزح بن گئی تو وہ تمہیں ایک الوہی رنگ کی جانب ضرور لے جائےگی۔اور قوسِ قزح صرف آسمانوں کی ہم سفر ہوتی ہے۔ بکھرے رنگ زمین پر بنی ایک تجریدی تصویر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے جو دل پذیر تو دِکھتی ہے پر بنانے والے سے زیادہ دیکھنے والے کے حُسن ِذوق کی مرہون ِمنت ہوا کرتی ہے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.