میں بہت افسردہ ہوں - زبیر منصوری

میرا دل دکھی ہے،
میں بہت افسردہ ہوں،
میری پلکیں بھیگی ہوئی ہیں،
مجھے کہہ لینے دیجیے،
مجھے معاف رکھیے،
اس لیے کہ میں نے احسان اللہ احسان اور اس کے ظالم ساتھیوں کے ہاتھوں بہت صدمے سہے ہیں۔ میں نے رات رات بھر جاگ کر ان کے معصوم چہروں سے دھوکہ کھانے والوں کو سمجھایا ہے، میں ان دھوکہ بازوں کے ہاتھوں کرب کا شکار رہا ہوں۔ مجھے وہ خوبصورت نوجوان نہیں بھولتے جو ان بدبختوں کے ہاتھوں تاریک راہوں میں مارے گئے، وہ میرے نبی کے باغ کے پھول جنھیں ان کی ماؤں نے بڑے چاؤ سے پالا تھا، وہ جنہیں جنت کی طلب کے جذبے سے نوازا گیا تھا، وہ بھی جو ان کے بم دھماکوں میں شہید ہوئے اور وہ بھی جنھیں بظاہر ان کی تلاش میں نشانہ بنا دیا گیا.

کہاں ہیں وہ جو ان قاتلوں کے چہروں کو ”پر نور“ کہتے نہ تھکتے تھے؟ جنہیں ان کی قبروں سے خوشبو پھوٹتی محسوس ہوتی تھی؟ جن کے لیے یہ بھاڑے کے ٹٹو اللہ کی راہ کے مجاہد تھے؟ جو ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر خود کو ان کے ہمراہی بنا بیٹھے؟

کاش! امت میں عقل کا استعمال فروغ پا جائے.
کاش! میرے لوگ، میرے پیارے لوگ جان سکیں کہ دیر تک اور دوور تک سوچنا کیا ہوتا ہے؟ اور کیوں ضروری ہے؟
کاش! کسی بازارسے مؤمنانہ فراست ملتی ہو تو واللہ میں اپنا آپ بیچ کر بھی خرید لاؤں اور ان لوگوں میں بانٹ دوں جو ہر راہرو کو رہبر جان کر اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں اور رہبر اور رہزن کو پہچاننے کے لیے ان کا پیمانہ بس ظاہری حلیہ اور وضع قطع ہوتی ہے، پھر چاہے کوئی ڈاکو کسی ولی اللہ کے لبادے میں ہی کیوں نہ آ جائے۔
کاش! کوئی منصف ان کو عبرتناک سزا دے، ملک کے سو بڑے شہروں میں ان کی لاشوں کو لٹکایا جائے۔

آہ!
مجھے نہیں معلوم میں کسی کو کیسے اور کیا جواب دوں گا؟
میں نہیں جانتا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان بہروپیوں اور تھوڑی قیمت میں خود کو بیچ دینے والوں کے ہاتھوں کب تک رسوا ہوتی رہے گی؟
مجھے نہیں خبر میرے جہاد کو فساد ثابت کر دینے کے لیے دشمن کے ترکش میں اور کون کون سے تیر ابھی چھپے ہوئے ہیں. کب میں نے کہا تھا کہ مجھے حساس بنا دے
...................................

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

نہایت خوبصورت، باوقار، پر شکوہ عمارت میں بھی ٹوائلٹس تو ہوتے ہیں ناں؟ احسان اللہ احسان جیسے لوگ اور گروہ جہاد کی عظیم الشان عمارت میں بس ایسے ہی کچھ ہیں۔
میرے عزیزو!
سیرت کی رہنمائی میں یہ جان لو کہ جہاد، جذباتیت سے زیادہ، جذبہ، ذہانت، زیرکی، ہوشیاری، دیر تک دوور تک سوچنے اور منصوبے بنانے کا نام بھی ہے، باخبر رہنے اور پلان اے بی سی بنانے کا عمل بھی ہے، جہاد فیلڈ اور فیلڈنگ بدلنے، اصولوں کو توڑنے نہیں بوقت ضرورت موڑنے کا نام بھی ہے، راستے بنانے، مایوس ہوئے بغیر تیز ترک گامزن رہنے کا نام ہے.
راہ جہاد میں، یہاں ہجرت حبشہ کی صورت میں انسانی تاریخ کی سب سے خوبصورت ہیومن اسٹرٹیجک پلاننگ بھی آتی ہے اور شعب ابی طالب میں عسرت اور بے بسی کے دن بھی، ابو جہل کے اقتدار سے انکار بھی آتا ہے اور باصلاحیت لوگوں کا ”خود اختیار کردہ فقر“ بھی، غار ثور میں پناہ لینے کا مرحلہ بھی آتا ہے اور سفر مدینہ کی زبردست منصوبہ بندی اور بدر کے میدان بھی، حکومت ملنے کے بعد کعب بن اشرف کو پلاننگ سے قتل کرنا بھی ملتا ہے اور دشمن کے قیدیوں سےعلم کا حصول بھی، صبر عفو اور سکون بھی اور معرکہ آرائی کے میدانوں میں جان لڑا نابھی۔
دیکھو مؤمن بنو ایک سوراخ سے بار بار؟۔۔۔
نہیں بس اب نہیں. سیرت ص کو پڑھو اور میرے نبی ص سےوہ سیکھو جو اکیسویں صدی میں تمہیں قیادت کے راستے پر لے جا سکے
سچ کہو
پڑھو گے نا؟
سیکھو گے نا؟
سوچو گے نا؟
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز
...................................
احسان اللہ احسان!
تو کیا تم ٹشو پیپرز کی طرح استعمال ہو چکے!
کیا اسلام کے خوبصورت ترین تصورات میں سے ایک، جہاد کے لیے ہمارے جذبات کو دشمن نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیا؟
وہ جو لوگ کہتے تھے کہ سب ڈرامہ ہے، وہ سچ کہتے تھے؟
کیا وہ کھیل ہوا تمام؟
ہاں وہ کھیل ہوا تمام

یہ بھی پڑھیں:   اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے - اسماء طارق

احسان اللہ احسان!
تم پہلے سے ”پےرول“ پر تھے یا تمہیں ”ہونی ہونی خبر آئی اے؟“
تم ہمیں احمق سمجھتے ہو یا خود ابھی ابھی ”سمجھدار“ ہوئے ہو؟
کچھ اندازہ بھی ہے کہ تم نے حسین رض کے نانا ص کے دین کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا ہے؟
تم سمجھتے ہو کہ تمہارا یہ ”اسکرپٹ“ اللہ کے سخت گیر فرشتوں کو بھی دھوکہ دے لے گا؟

اے اللہ اہل ایمان کو بصیرت عطا فرما.
اے اللہ انہیں معاملات کی گہرائی میں اتر کر ان کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما.
اے اللہ دانائی اور مؤمنانہ فراست سے بہرہ مند فرما دے.
اے اللہ وقت سے پہلے چیزوں کی حقیقت ہم پر کھول دے۔
اے اللہ دل کے ساتھ عقل کو پاسباں بنانے کی توفیق دے دے.
اے اللہ صالح ، باصلاحیت، اور قیمتی نوجوان جن غلط راہوں کو حق سمجھ کر ان پر چل نکلا ہے، ان کی کجی ان پر کھول دے، اور اس راستے سے انھیں واپس لوٹا دے۔
اے اللہ امت چاروں طرف سے گھیراو میں ہے. الحاد، فحش، اخلاقی دیوالیہ پن، صالحیت و صلاحیت کا قحط اور دین کے نام پر دھوکہ دہی، سب کچھ اکٹھا کر کے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے، ایسے میں تیری خصوصی ہدایت ، غیبی قیادت، رہنمائی ہمیں نہ ملی تو یہ بونے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے.
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے اللہ!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.