قومی صفات - حافظ محمد زبیر

ایک دوست نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دیکھنے کو کہا جو غالبا امریکی ٹیلنٹ کے نام سے تھی، میں نے صرف دو منٹ ویڈیو دیکھی، اب انہوں نے شاید امریکی ٹیلنٹ کو داد دینے کی غرض سے ویڈیو شیئر کی تھی لیکن میں نے اس ویڈیو سے کچھ اور تاثر لیا۔ میں نے نوٹ کیا کہ کچھ عام امریکی اسٹیج پر آتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں اور مجمع انھیں دل کھول کر داد دیتا ہے۔ میں نے کبھی کسی مجمع کو اس طرح کسی کو داد دیتے نہیں دیکھا حالانکہ فن کا مظاہرہ کرنے والے بھی عام لوگ تھے اور ان کا فن بھی کچھ خاص نہ تھا۔ اور کچھ تو کنفیوژڈ بھی تھے لیکن مجمع نے ان کا مذاق نہیں اڑایا بلکہ حوصلہ دیا۔

اس سے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ جس طرح افراد کی صفات ہوتی ہیں، اسی طرح قوموں کی بھی صفات ہوتی ہے۔ ہم پاکستانی بحثیت قوم کسی کو داد دینے میں یا کسی کو ایپری شیئیٹ کرنے میں بیت کنجوس اور حد درجے بخیل ہیں۔ البتہ کسی پر طعن و تشنیع کرنی ہو یا کسی پر تنقید کرنی ہو تو ہم بہت فیاض اور سخی بن جاتے ہیں۔ یہ رویہ آپ کو گھر، دفتر، آفس، گلی محلے بلکہ ہر جگہ نظر آئے گا۔ میاں بیوی ایک دوسرے پر تنقید کرنے میں خوب بلاغت کا اظہار کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو ایپری شیئیٹ کرتے وقت ان کے پاس الفاظ دو چار ہی ہوتے ہیں۔ باس اپنے ماتحت کے کام میں نقص خوب فصاحت سے نکالے گا لیکن اس کی تعریف کرتے وقت اسے الفاظ بھول جائیں گے۔

جس طرح ایک فرد خوش اور غمگین ہوتا ہے، اسی طرح ایک قوم بھی خوش اور غمگین ہوتی ہے۔ مجھے معلوم نہیں کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی خوش نہیں ہیں بلکہ غمگین قوم ہیں یا ٹینس اور ڈیپریس قوم کہہ لیں۔ سڑک پر دیکھ لیں، گاڑی چلاتا ہوا ہر شخص آپ کو مضطرب، بے چین اور پریشان نظر آئے گا۔ ہم میں سے اکثر کے لبوں پر مسکراہٹ کے بجائے چہروں پر تناؤ اور کھچاؤ رہتا ہے۔ کسی سے بات کرتے وقت ہم کہیں اور کھوئے ہوتے ہیں۔ شاید ہم پر کام کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، یا ہماری خواہشات بہت بڑھ چکی ہیں، یا ہم زندگی کو جینے اور زندہ دلی جیسی صفات سے محروم ہو چکے ہیں، کچھ تو ہے جو صحیح نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

پھر ہم نے اپنی کچھ خامیوں اور عادتوں کو مذہب کا جھوٹا سہارا بھی دے رکھا ہے۔ کسی کی تعریف کرتے وقت فورا یہ سوچنا شروع کر دیں گے کہ کہیں یہ بگڑ نہ جائے، اس میں تکبر نہ آ جائے بلکہ اکثر لوگوں سے آپ یہ جملہ سنتے بھی ہوں گے کہ بیوی یا ملازم کی کھل کر تعریف کر دیں گے تو بگڑ جائیں گے لیکن تنقید ہم پھر بھی کھل کر کرتے ہیں حالانکہ اس میں بھی بگڑنے کا شائبہ اتنا ہی موجود ہوتا ہے بلکہ صحیح حدیث کا مفہوم ہے کہ تمہاری عیب جوئی کسی مسلمان کو بگاڑ دیتی ہے۔ تو یا تو ہم اپنے آپ کو اس طرح متوازن کر لیں کہ اگر تعریف زیادہ نہیں کر پاتے تو تقنید ہی کم کر دیں ۔ لیکن یہ شاید ہماری فطرت کے خلاف ہے کہ ہم تنقید کم کر دیں لہذا ہمیں کم از کم تعریف میں اضافہ کر دینا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کی حوصلہ افزائی کریں اور دل کھول کر کریں۔

میرا خود رویہ یہی رہا ہے کہ اگر میری پوسٹ پر کوئی زیادہ تنقید کر دے تو وہ کمنٹ تو ڈیلیٹ کرتا ہی ہوں اور اگر کوئی تعریف میں مبالغہ کر دے تو وہ بھی ڈیلیٹ کرتا رہا ہوں، اب میں نے اس پر غور کیا کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں تو شاید کسی تقوی یا نیکی کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس وجہ سے کہ ہمارے معاشرے میں اس کا رواج نہیں ہے اور یہ چیز کسی ایک کے ساتھ ہو جائے تو بہت عجیب معلوم ہوتی ہے اور عجیب شیء نظروں میں آ جاتی ہے اور پھر اس پر منفی سوچ شروع ہو جاتی ہے۔ اگر تعریف میں مبالغہ آمیز کمنٹ میری وال پر موجود ہو گا تو بہت سے لوگ یہ سوچنا شروع کر دیں گے کہ یہ اپنی تعریفیں پسند کرتا ہے اور اس منفی سوچ کی انتہا یہ ہو گی کہ یہ تعریف کا بھوکا ہے لیکن اگر سوسائٹی میں تعریف میں مبالغہ ایک عام چیز ہوگی تو کسی کو برا نہ لگے گا بلکہ ایک روٹین کی چیز معلوم ہو گی۔ رہی حدیث میں تعریف میں مبالغہ نہ کرنے کی بات تو وہ کسی اور کانٹیکسٹ میں ہے، جس پر پھر بات کروں گا۔