"عوامی لیکس" - ابو عمر بن مسعود

وطن عزیز میں امن و ترقی کے افسانے بہت ہیں، چند کا ذکر کیے دیتے ہیں!!

ایک وقت تھا جب مشرف صاحب کے چرچے زبان زد عام تھے۔ یہاں تک کہ آج بھی چاہنے والے ان کے ترقیاتی کاموں کی تعریفیں کرتےنہیں تھکتے۔ حالانکہ یہ ترقی کا دور ایک دجل تھا، جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ بہتر اندازہ ایک ہنر مند صاحب معیشت ہی لگاسکتا ہے نہ کہ عوام جو معیشت کے اصول تو دور کی بات اس کی تعریف سے ہی ناواقفیت رکھتےہیں۔

پھر نظر دوڑائیں تو یہ نظارہ بھی دیکھنے کو ملا کہ جسٹس افتخار کے نعرے لگتے نظر آئے اور ایسا محسوس ہوا کہ جلد ہی اس کے ثمرات ملک و قوم کی زندگیوں میں نظر آئیں گے لیکن یہ بھی سابقہ دور کی طرح فریب در فریب نکلا جس کا اندازہ آج کا ماہر قانون ہی لگا سکتا ہے، نہ کہ قانون کی شقوں سے لا علم عوام!!!!

ابھی قوم دجل و فریب کے اس سحر سے نکل ہی نہ پائی تھی کی کہ وکی لیکس، پانامہ لیکس، ڈان لیکس نے مزید تڑکا لگایا اور عامۃ الناس سے لے کر وزراء کے ایوانوں تک میں میں اس کی بازگشت سنی گئی اور ان تمام کہانیوں کا خاتمہ بھی پچھلی داستانوں کی طرح نا مکمل ہی رہا۔ حاصل وقتی طور پر لطف اندوز ہونا تھا ۔ مسائل وہی کھڑے ہیں اور وسائل کا رونا پہلے کی طرح آج بھی وہی کا وہی۔ ۔ ۔ ۔ !!!!!

حضرات ! دجل و فریب کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں!!! صبر کا پھل کھاتے جائیں اور انتظار کریں بس چند دنوں میں نت نئی کہانیاں سامنے آتی جائیں گی جو پرانے کرداروں کو محو اور نئے کرداروں پر چڑیاں بٹھاتی جائیں گی، اس بہلاوے پر کہ اب عوام کو بہت کچھ ملنے والا ہے جس کی وہ توقع رکھتے ہیں۔ یوں تو اس دجل و فریب کے بہت سے محرکات ہوسکتے ہیں لیکن ان کو آسمان کی ثریا بنانے والوں میں نام نہاد "آزاد میڈیا" پیش پیش ہے، چونکہ کسی گمنام کو مقبول ترین اور کسی کمزور کو طاقتور دکھانے کا ہنر وہ بہت اچھے طریقے سے جانتا ہے۔

مہارت آخر کیوں نہ ہو؟ وہ اسی ہنر کا پھل تو پچھلے کئی سالوں سے کھاتا آ رہا ہے، جہاں ایک ایک دانشور، لکھاری، اینکر اس کی بولتی بولتے نظر آئیں گے، اس کے دئیے ہوئے کردار کو منہ مانگی قیمت کے بدل انتہائی مہارت کے ساتھ!

غرض اشرافیہ کی ترجیحات یہی ہیں کہ عوام کو ایسے مسائل میں الجھا کر ہی رکھنا ہے جہاں ان کا دور تک کا واسطہ نہیں۔ روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت، روشن مستقبل و حفاظت جان و مال وغیرہ کی طلب، ،عوام کو ایسا سب کچھ کرنے پر مجبور کردیتی ہے جس کا وہ علم بھی نہیں رکھتے!!! نتیجتاً یہ کہ مطلوب حاصل ہو ۔ ۔ نہ بھی ہو۔ ۔ دن بھر کام سے تھکی ہاری عوام رات کے ٹاک شو میں اپنا کافی دل بہلا لیتی ہے اور مزید کسی کو تسکین قلب کی ضرورت ہو تو ہوٹلوں چوراہوں پر کھلاڑیوں کے لئے کھلا میدان موجود ہے، جہاں ان "آزاد میڈیا" کے دیے ہوئے افسانی کرداروں پر خوب سے خوب بحث کی جا سکتی ہے جس کے بعد رات کو مزے کی نیند آتی ہے۔ اس امید سے کہ کل آنے والا سورج ہماری زندگی میں نئی بہاریں ضرور پیدا کردےگا۔ ۔ لیکن ہر ایک کے بعد ایک آنے والا کردار ان کے خوابوں کو ہی مزین کرتا رہا ہے جس کا حقیقت سے نہ کبھی تعلق تھا اور نہ ہوگا۔

بجلی کا رونا چلتا رہے، اسپتالوں میں مریض دم توڑتے رہیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں میں گھنٹوں پھنسے رہیں، روزگار کے فقدان سے خود کشیاں کرتے رہیں، بھتہ خوری لوٹ کھسوٹ کا ظلم برداشت کرتے رہیں، مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے رہیں اور ان جیسی کئی فکروں میں اندر ہی اندر گھٹ کر مرتے رہیں۔ ان سب کی اصلاح کا ذکر نہ تو میڈیا کرے گا اور نہ ہی نام نہاد روشن خیالی کا ٹولہ جو عوام کو عوامی سہولیات دینے کی فکر میں دن رات لگا رہتا ہے، ہاں ذکر ملے گا تو ان ایشوز پر جس کا عوام سے براہ راست تعلق تو نہیں البتہ جہاں ان اشرافیہ کے مفادات و نظریات اور نت نئے کردار خوب روشناس ہوتے نظر آئیں گے۔ بالآخر عوام کو ہی مورود الزام ٹھہرادیا جاتا ہے کہ آپ ایسے حکمران چنتے ہی کیوں ہیں؟؟؟ جیسے حقیقت میں عوام ہی نظام حکومت کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہے!! پھر کبھی یہ طعنہ بھی زبان عام کردیا جاتا ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران۔ یوں عوام کو قربانی کے خوب فضائل سے آگاہ بھی کرایا جاتا ہے تو دوسری طرف عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنادیا جاتا ہے!