شیخ جنید بغدادیؒ اور ان کا تصوف - حافظ طاہر اسلام عسکری

احقر نے متعدد مرتبہ لکھا ہے کہ تصوف کلی طور پر مسترد ہے نہ مقبول؛ بل کہ وہی تصوف قابلِ قبول ہے جس کی تائید کتاب و سنت سے ہوتی ہے اور جو خلاف سنت امور سے پاک ہو۔ اس کے لیے بہ طورِ مثال جن صوفیہ کا نام پیش کرتا ہوں، ان میں شیخ ابوالقاسم جنید بغدادیؒ کا اسمِ گرامی سرِ فہرست ہے جو اربابِ تصوف میں سید الطائفۃ (سرگروہ) کے لقب سے معروف ہیں۔

بعض احباب نے سوال کیا ہے کہ جناب جنید بغدادیؒ کا تصورِ تصوف کیا تھا؟
اس ضمن میں گزارش ہے کہ حضرت جنید بغدادیؒ نے قرآن و حدیث ہی کو تصوف کی اساس بتلایا ہے اور سنت کی پیروی پر زور دیا ہے۔ چناں چہ فرماتے ہیں:
[pullquote]من لم يقرأ القرآن ويكتب الحديث لا يقتدى بہ في ھذا الشان لان علمنا مقيد بالكتاب والسنۃ.[/pullquote]

’’جس نے قرآن پڑھا، نہ حدیث لکھی، وہ تصوف کے باب میں لائقِ اقتدا نہیں ہے کیوں کہ ہمارا علم کتاب و سنت کا پابند ہے۔‘‘:

گویا اگر کوئی شخص قرآن مجید اور حدیثِ رسولؐ کے علم سے ناواقف ہے تو اسے شیخ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی روشنی میں دیکھیے تو موجودہ دور کے وہ سجادہ نشین ہرگز قابل اعتنا نہیں ہیں جو شرعی علوم سے بالکل کورے اور بے خبر ہیں۔

سنت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں:
[pullquote]الطرق كلھا مسدودۃ عن الخلق الا من اقتفى اثر الرسول صلى اللہ عليہ وسلم، واتبع سنتہ، ولزم طريقتہ، فان طرق الخيرات كلھا مفتوحۃ عليہ.[/pullquote]

’’مخلوق پر تمام راستے مسدود ہیں سوائے اس کے جس نے پیغمبر اکرم ﷺ کے نقوش قدم کی پیروی کی، آپؐ کی سنت کا اتباع کیا اور آپؐ کے طریقے کو لازم پکڑا تو اس کے لیے بھلائیوں کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ :

اس سے بدعات اور خود ساختہ رسوم و رواج کی جڑ کٹ جاتی ہے جنھیں حصولِ خیرات و برکات کا باعث سمجھا جاتا ہے !!

یہی وہ تصوف ہے جو قرونِ اولیٰ میں رائج تھا اور اسی کو آج اپنانے کی ضرورت ہے۔ کبار ائمہ سنت نے شیخ جنید بغدادیؒ کی جلالتِ شان اور علم و فضل کا اعتراف کیا ہے اور ان کے منہجِِ تصوف کی تحسین کی ہے جن میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، حافظ ابن قیمؒ، محدث ذہبیؒ، مفسر ابن کثیرؒ اور علامہ شوکانیؒ شامل ہیں۔ متاخرین میں مفسر شنقیطیؒ اور شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے بھی انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ شیخ الاسلامؒ نے انھیں ’’امامِ ہدیٰ‘‘ کا لقب دیا ہے۔
ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ ’’ان جیسے مشائخ کا کلام قلیل ہوتا ہے لیکن اس میں برکت ہوتی ہے جبکہ متاخرین کی باتیں کثرت و طوالت کی حامل ہوتی ہیں مگر ان میں برکت قلیل ہوتی ہے۔‘‘
ذہبیؒ کہتے ہیں: ’’جنیدؒ زاہد، قطب اور شیخ زماں تھے؛ وہ مقامات اور کرامات کے حامل تھے؛ صدق و معاملات کے متعلق ان کا کلام بڑا مفید ہے۔ ‘‘
ابن کثیرؒ کا بیان ہے کہ ’’جنید بغدادیؒ امام اور طریقہ تصوف کے عالم تھے؛ وہ اپنے اور بعد کے زمانوں میں سلوک و تصوف میں مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘
علامہ شنقیطیؒ نے جن صوفیہ کو حق اور صراطِ مستقیم پر گام زن قرار دیا ہے، ان میں جنید بغدادیؒ کا اسم گرامی بھی ذکر کیا ہے۔
شیخ صالح الفوزان نے تصریح کی ہے کہ جب ہم صوفیانہ اشغال پر تنقید کرتے ہیں تو اس سے متاخرین صوفیہ مراد ہوتے ہیں لیکن متقدمین کے یہاں اعتدال تھا جیسے فضیل بن عیاض، جنید اور ابراہیم بن ادھم وغیرہ۔

(شیخ سے متعلق علماء کے اقوال ام القریٰ یونی ورسٹی کی طالبہ محترمہ نوال بنت عبدالسلام کے ایم اے کے مقالے سے ماخوذ ہیں جو انھوں نے ’’ الجیند بن محمد وآراءہ العقدیۃ : عرض و نقد‘‘ کے زیرِ عنوان تحریر کیا ہے۔)

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.