نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور اس کا تدارک - ایمان ملک

سال 2016ء میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ایک طرف جہاں یہ بات حوصلہ افزا ہے وہی پر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اُن عوامل کا تدارک نہ کیاجائے جو تشدد پسند انتہا پسندی کے کارفرما گردانے جاتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے میں نوجوان نسل کو "تبدیلی کا محرک" سمجھا جاتا ہے اور اگر پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے اورامن کے قیام کے لیے پاکستان کی حکمت عملی میں نوجوان نسل کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ مگر پھر بھی ہر سال انتہا پسند قوتیں ملک میں سےایسے لا تعداد ہونہار بچوں کو اپنےجال میں پھنسانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں جو یقینی طور پر مستقبل میں ملک و قوم کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے تھے۔ یہ وحشی صفت انتہا پسند تنظیمیں اِن بچوں کو موت اور تباہی کی وادی میں تو دھکیلتی ہی ہیں، لیکن ساتھ ہی اِنہیں اپنے ہی اپنے ہم وطنوں پر بطورِخود کُش بمبار استعمال کرکے بے شمار گھرانوں کو اُجاڑ دینے کا با عث بھی بنتی ہیں۔

یاد رہے کہ نورین لغاری کے کیس سے قبل ما ضی میں بھی پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوان نسل دہشت گرد تنظیموں کے چنگل میں پھنستی رہی ہے۔ جن میں سعد عزیز، اظفر عشرت اور حافظ ناصر قابل ذکر ہیں۔ سعد عزیز انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن(آئی بی اے) سے بی بی اے(گریجویٹ) تھا اور اِس سے قبل بیکن ہاؤس سکول سسٹم سے فارغ التحصیل بھی تھا۔ اس نے دورانِ تحقیقات سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کی منصوبہ سازی کا اعتراف کیا۔ جبکہ اظفر عشرت ایک پروفیشنل انجنیئر تھا جو سر سید یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا گریجویٹ تھا۔ اس نے 2011 میں دہشت گردی کی دنیا میں قدم رکھا۔ اظفر کو بم بنانے اور اُن بموں میں الیکٹرانک سرکٹس کو بطور ٹائمر استعمال کرنے میں خاصی مہارت حاصل تھی۔ سب سے توجہ طلب بات تو یہ ہے کہ اظفر اور سعاد کے برعکس حافظ ناصر نے یونیورسٹی آف کراچی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی مگر پھر بھی وہ خود کو دہشت گردانہ سوچ کے حامل تنظیموں سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ 2013 سے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوا۔ حافظ ناصر ایک تربیت یافتہ دہشت گرد تھا جسے برین واشنگ اور نوجوان نسل کو جہادی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ بعد ازاں حافظ ناصراور سعاد عزیز کو ملٹری کورٹ کی جانب سے سانحہ صفورا سمیت متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔

اب سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں اتنی آسانی سے کیسے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتی ہیں؟ اور یہ تنظیمیں آخر ایسا کیا گھول کر پلاتی ہیں کہ ہمارے اچھے خاصے پڑھے لکھے بچے جو تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ اِن شیطانوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں؟ اِس سوال کا جواب ایک سطر میں تلاش کرنا ناممکن سی بات ہے کیونکہ متعدد عوامل ہیں جو نوجوانوں کو انتہاپسندی کی آگ میں دھکیلنے کا باعث بنتے ہیں۔ کسی بھی تنظیم کا انتہا پسندانہ اثرو رسوخ کبھی بھی محض تن تنہا عُنصر کے طور پر لوگوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ یہ ایسے عوامل کا مجموعہ ہوتا ہے جو شرپسند تنظیموں اور اُنکے ظالمانہ ایجنڈے کو ترویج بخشتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مستقبل کے معمار ہورہے ہیں خوار - لطیف النساء

بنیادی طور پر وہ مسائل جو نوجوان نسل میں ہیجان پیدا کرنے کا باعث بنتےہیں اور اُن کے ماحول، معاشرے بشمول پولیٹیکل اکانومی کے حوالے سے اُن میں عدم اطمینان کا بیج بوتے ہیں۔ ایسے عوامل "پُش فیکٹر"کہلاتے ہیں جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرتے ہیں اور یہ عدم اطمینان کی کیفیت اُن کے دل و دماغ پر گہرے نقوش بھی کندہ کرتی ہے۔ دوسرا پُش اور پُل فیکٹر ایسے عوامل اور شرائط پر محیط ہے جو نوجوانوں کو قائل کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم کا باقاعدہ حصہ بنیں کیونکہ وہ تنظیم اُنہیں اُن کے اِس عدم اطمینان اور ہیجانی کیفیت کے حوالے سے متبادل بیانیہ مہیا کرتی ہے جو وہ اپنی فطرت کے قریب تر سمجھتے ہیں اور اِن شر پسند تنظیموں کے چُنگل میں دانستہ اور غیر دانستہ طور پر پھنستے چلے جاتے ہیں۔

یہ دہشت گرد تنظیمیں برین واشنگ اور پروپیگنڈہ وار جیسی جنگی تکنیکوں میں خاصی مہارت رکھتی ہیں۔ اور بلاشبہ اِن کے جنگی حربوں کے سامنے ہماری جامعات کے طلبہ اور طالبات اور اُن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، دونوں ہی غیر موثر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے تدریس گاہوں میں "تنقیدی سوچ کی افزائش" کا شدید فقدان ہے جو کہ دورِ حاضر میں اِس نازک وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ جس سے پاکستان اِس وقت گزر رہا ہے۔ جہاں پاکستان کو ملٹری آپریشن "ضربِ عضب" سے حاصل کردہ اپنی کامیابیوں کو برقرار رکھنا ہے، وہیں اُسے معاشرے سے دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو بھی چُن چُن کر نکالنا ہے۔ علاوہ ازیں اُسے اپنے متبادل بیانیے کو بھی معاشرے میں فروغ دینا ہے تاکہ اِن درندہ صفت تنظیموں کی ریکروٹینگ مکمل طور پر منقطع ہو جائے۔ ایسے میں اگر پاکستان کی نامور جامعات سے یوتھ کی انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کی خبریں آئیں گی تو پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے قومی بیانیے پر ضرور سوال اُٹھیں گے جس کی ذمہ داری بلا شبہ پاکستان کی حکومتی ایوانوں کے ناتواں کندھوں پرعا ئد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرتار پور امن کی راہداری - حاجی محمد لطیف کھوکھر

مزید برآں، یہ بھی ایک قابلِ غور امر ہے کہ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے حالت جنگ میں ہے جہاں آئے دن بم دھماکوں اور خود کُش حملوں کی خبریں ہمارے ٹی وی چینلز کی زینت بنتی ہیں، ہمارے بچے (نوجوان نسل) بھی اُن خبروں سے مستفید ہوتے ہیں مگر (ماسوائے اِکا دُکا چینلوں کے) سب چینلز صرف معلومات تو دے رہے ہیں مگر ایجوکیشن یعنی تعلیم کا عُنصر کہیں گلیمر کی چکاچوند میں کھو سا گیا ہے۔ جسے از سرِ نو دریافت کرنےکی اشد ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے تعلیمی نصاب میں بھی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو "قابل عبرت اور ناپسندیدہ شخصیات" بنا کر نوجوان نسل کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ تاکہ شرپسند تنظیموں میں شمولیت تو درکنار کبھی اُنھیں اُن کی پیروی، ہمدردی، معاونت اور تقلیدتک کا خیال بھی نہ آئے۔

بلا شبہ دہشت گردی ایک عالمی نوعیت کا حامل مسئلہ ہے جس میں ہر کسی کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔ حتٰی کہ معاشرے، درس گاہوں، تدریس گاہوں اور والدین کا بھی۔ اِس ناسور کا اپنے معاشرے سے قلع قمع کرنے کے لیے ایک ایک فرد کو اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کرنا پڑے گا تب جا کر کہیں اُجالے اور روشنیاں ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیوں کا مقدر بنیں گی۔

اِس ضمن میں سب سے اہم ذمہ داری والدین کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے (سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر) سوشل اکاؤنٹس پر نظر رکھیں، اُن کے موبائل فونز مانیٹر کریں۔ اپنے بچوں کو اتنا اعتماد مہیا کریں کہ وہ ہر ایک بات بلا کسی جھجک کےاپنے والدین سے شیئر کر سکیں۔ یہ بات ضرور قابل غور ہے کہ کہیں نہ کہیں والدین اور بچوں کے مابین بڑھتا ہوا خلاء بھی نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے رجحان کا باعث ہے۔

المختصر، 70ء کی دہائی میں براعظم یورپ میں دہشت گردوں کی ریکروٹنگ سب سے زیادہ اُن کی یونیورسٹیوں (جامعات) سے ہوتی تھی، لہٰذا یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ برطانیہ نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی جامعات میں طلبہ، طالبات اور اساتذہ کی "ای میلز مانیٹرنگ" کا آغاز کیا ہے پاکستان بھی اُسے طرز پر کوئی موثر یعنی "قابلِ عمل حکمت عملی" تیار کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، آئی ایس پی آر یعنی پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ بھی اِس ضمن میں پاکستان کے چیدہ چیدہ تعلیمی اداروں میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے خصوصی لیکچر سیریز کا آغاز کر کے براہ راست اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اِس سے نوجوان نسل کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہو گا نیز اُن میں اپنے وطن کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری بڑھے گی۔