جوائنٹ فیملی سسٹم میں بڑے بھائی کے ساتھ ظلم - حيا حريم

حكايت مشہور ہے کہ تین نابینا دوست چڑیا گھر گئے، ہاتھی سے آمنا سامنا ہوا، پہچان کے لیے اسے ٹٹولنا شروع کیا، پیٹ پر ہاتھ رکھنے والے نے اسے ڈھول کہہ دیا، جس کا ہاتھ ٹانگ پر لگا اس نے بلند عمارت کہا اور جس کے ہاتھ ہاتھی کی سونڈ آئی اس نے کوئی موٹا ڈنڈا کہہ ڈالا۔ یہی کچھ گزشتہ دنوں جوائنٹ فیملی سسٹم پر لکھی گئی میری ایک مختصر سی تحریر کے ساتھ ہوا، کسی نے بھرپور دلائل مانگے، کسی نے تحریر نگار کے ذاتی حالات کہے اور ابھی ایک تحریر نظر سے گزری، اس میں تو مصنف نے تحریر کے بخیے ہی ادھیڑ ڈالے. صرفی، نحوی، لغوی، اعرابی و درسی کے تمام قانون ایک نظریے پر نافذ کرنے میں بہت محنت کر ڈالی، سچ پوچھیں تو یک گونہ خوشی ضرور ہوئی کہ میری عام سی نگارشات اور سیدھے سے نظریات کو اتنی گہرائی اور توجہ سے جانچا گیا۔

جوائنٹ فیملی سسٹم، اسلامی نہیں ہندووانہ نظام ہے
https://daleel.pk/2016/10/17/11481

جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہندوانہ نظام کہنے پر حیرت و استعجاب کے ملے جلے تاثرات سامنے آئے اور دلائل مانگے گئے، حالانکہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جو تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کسی سے بھی مخفی نہیں ہوسکتی۔ تاریخ ہند اٹھا کر دیکھیں تو اشوک سے لے کر جلال الدین اکبر اور اورنگزیب عالمگیر تک ایک بڑے خطے پر حکومت کرنے والے اپنے خاندانی مشترکہ نظام میں الجھے نظر آتے ہیں جس کے باعث قتل و قتال اور اہم امور سے توجہ ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔ عالمگیر کے بعد انگریز چوتھی طاقت ہے جس کا ہندوستان پر قبضہ رہا اور اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ خاندانی اصول تھے. شریعت مطہرہ اور عہد صحابہ پر نظر ڈالیں تو بھی ہمارے مشترکہ عائلی نظام میں بہت سی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ حديث ميں دیور کو موت کہا گیا جبکہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں صرف دیور ہی نہیں شوہر کے پھوپھا، نندوں کے شوہر، جٹھانیوں کے بچے ایک خلط ملط سا ماحول بنا ہوتا ہے اور جانے انجانے میں شریعت مطہرہ کے پردے جیسے اہم حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہوتی ہے۔ دوسری طرف گھر کی بہو کو کام کاج، دیور کے کپڑے دھونے، نندوں کو ناشتے کروانے اور تائی و دادی کی بہوئیں بچے سنبھالنے سے فرصت ملے گی تو ہی وہ اپنے شوہر کو بھی وقت دے سکے گی جو مشترکہ عائلی نظام میں اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

درست ہے کہ پاکستان میں رہنے والے 80 فیصد گھرانے معاشی طور پر اس قدر مستحکم نہیں ہوتے کہ ہر ہر بیٹے کے لیے الگ گھر افورڈ کرسکیں. پھر ہوتا یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں ہر بیٹے کو ایک کمرہ دیا جاتا ہے جو آدھا تو کثرت جہیز کے شوق سے بھر جاتا ہے اور بہو کے دو بچے ہوں یا پانچ، سب اسی کمرے میں پلتے اور سوتے جاگتے ہیں. اس صورت حال سے دوچار ہونے والے بچے کی نفسیات کس قدر متاثر رہتی ہے، یہ بھی ایک طویل موضوع ہے۔ اور یہ صورت حال بھی اسی وقت ہوتی ہے جب کمانے والا گھر کا ایک فرد ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بہو اگر گھر بھر کے کام کرے تو یہ اس کا اخلاقی فریضہ ہے، یہ بات درست ہے، سوال یہ ہے کہ مشترکہ نظام میں یہ فریضہ صرف بہو کا ہی کیوں ہے؟ كيا گھر میں بسنے والے دوسرے جیتے جاگتے نفوس پر فرض نہیں کہ وہ بھی بہو نامی عورت جو درحقیقت کام والی نوکرانی لگتی ہے، اس کے ساتھ بھی کچھ اخلاقی فرائض برت لیں؟ جہاں تک بڑے بھائی کی بات ہے تو بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے چھوٹے بہن بھائیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ یہ بھی درست بات ہے لیکن سوال پھر وہیں اٹک جاتا ہے کہ چھوٹے بہن بھائی گود کے بچے تو کم ہی ہوتے ہیں جو فیڈر پیتے ہوں، وہ بھی جوان اور طاقتور ہوتے ہیں، انہیں یہ سوچ کر خوشی کیوں نہیں ہوتی کہ ہمارا بھائی اتنی محنت کرتا ہے جس میں سے اسے اپنے بیوی بچوں کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے، اور گھر کا خرچ بھی چلانا ہوتا ہے، تو کیوں نہ اس بار میں گلی کے نکڑ پر یا پان والے کھوکھے کے سامنے ٹائم ضائع کرنے کے بجائے کہیں پارٹ ٹائم ٹیوشن پڑھا لوں اور اپنی فیس خود ادا کروں؟

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

كہنے کو ایک لطیفہ ہے کہ پاکستان میں 75 % ان لوگوں کی تعداد ہے جن سے پوچھا جائے کہ وہ کیا کام کرتے ہیں تو وہ آرام سے چیونگم، پان، چھالیہ چباتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ ”وڈے پائیں دوبئی ہوندے نے“ اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا انکار کرنا مشکل ہے کہ گھروں کے بڑے بیٹے دیار غیر میں زندگی گزارنے اور مشقت کی چکیوں میں پس رہے ہیں، صرف اس وجہ سے انہیں اپنے بچوں کو بھی دینا ہے اور خاندان بھر کے قرضے اتارنے ہیں، ان کی شادیاں بھی کروانی ہیں. میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہم اپنے عائلی نظام کی وجہ سے ایک دوسرے کی بیساکھیوں پر ہی کھڑے کیوں ہوتے ہیں؟ اور اگر عائلی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور اس کے فوائد گنواتے ہیں تو ان تمام مشکلات کو کوئی نیا نام دے کر طفل تسلیاں کیوں دے رہے ہیں؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گھر کا بڑا بیٹا خود بخود اس مقام تک نہیں پہنچتا، اس پر بھی کسی کی محنت ہوتی ہے. یہ بات بھی بجا ہے کہ اس پر بھی کسی نے خرچ کیا لیکن یہ بھی تو درست نہیں کہ اس ایک پر خرچہ کیا گیا اور وہ اس قرضے کی پاداش میں خاندان بھر کے نسل در نسل قرض اتارتا رہے۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص خوشحالی کے دروازے تک ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر پہنچتا ہی ہے کہ خاندان بھر کی خواہشات کی گٹھڑیاں اس پر لاد دی جاتی ہیں، نانی بیمار ہو یا بہن کا دیور، علاج یہ صاحب ہی کروائیں گے۔ کوئی سفر پر جارہا ہے تو سیٹ بھی یہی کروائیں گے اور کوئی سفر سے واپس آ رہا ہے تو ائیرپورٹ بھی یہی جائیں گے۔ بے شک وہ یہ سب کام خوش اسلوبی سے کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے کہ اللہ نے اسے بڑا دل عطا کیا ہے لیکن اس سب کے باوجود کمی کوتاہی پر جو طعنے اس کے بڑے دل میں پیوست کیے جاتے ہیں تو سائنسی نقطہ نظر سے اس کی موت کی وجوہات میں سے ایک وجہ بھی ہوسکتی ہے، پھر یہی ہوتا ہے کہ اس نے چونکہ خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے میں عمر کھپائی اور اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنے کا سوچتا ہی رہا اور نوبت آنے سے پہلے اس کے بچے چاچا تایا کی ذمہ داری اور فی زمانہ ایک بوجھ بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان میں جعلی اسلام کی سر بلندی - ام یحییٰ

جہاں تک خاندانی رواداری اور احسان و سلوک کی بات ہے تو اس کے لیے ایک چھت تلے جمع ہونا اک ہی بیت الخلاء اور کچن ہونا ضروری نہیں ہے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی بھی اپنے خالہ زاد مسطح پر خرچ کیا کرتے تھے جو ان کی چھت کے نیچے نہیں رہتے تھے ۔ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے بھی کوئی انکار نہیں، بھلا ان سے بڑھ کر دنیا میں کس کا حق ہوسکتا ہے لیکن کیا اس حق کی ادائیگی چار پانچ بہوؤں کو ایک چھت تلے جمع کرنے میں ہی ہے؟ یقین مانیے کہ مشترکہ عائلی نظام میں ضد بازی کی وجہ سے ساس سسر کی خدمت تو کیا انہیں بسا اوقات اپنی ضروریات بھی میسر نہیں ہوتی۔ نند سمجھتی ہے یہ بھاوج کا کام ہے اور بھاوج کہتی ہے کہ دیورانی کرے۔ اس صورت میں کم گو اور صلح جو ساسیں عمر کے اس نازک حصے میں برداشت کی سولی پر لٹکتی رہتی ہیں اور اپنے حق جاننے بوجھنے والی ساس لب کشائی کرتی ہے تو وہ پیار محبت سے سجا جوائنٹ فیملی سسٹم نہیں بلکہ ایک خانہ جنگی کا منظر پیش کرتا ہے ۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کے کچھ فوائد بھی ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے اس کی پر زور وکالت کی ہے مگر اس کے نقصانات اس کے فوائد پر غالب ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ مشترکہ نظام کے جو نقصانات ہیں اس سے جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتے ہوئے بھی بچا جاسکتا ہے جبکہ کچھ کے خیال میں اس نظام کے ساتھ اس کے نقصانات سے تو بچنا دشوار ہے تاہم منفرد رہ کر سب کے حقوق کی بحالی کماحقہ ممکن ہے.

جبکہ میری رائے میں اگر شرعی و اسلامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مشترکہ خاندانی نظام کہیں بحال ہے تو رب کا احسان ہے، وگرنہ اندر ہی اندر پنپنے والی نفرتوں، منافقتوں اور عداوتوں کو ٹھیٹھ اسلامی مشترکہ نظام کا نام دینا یقینا ایک جرم ہے۔

Comments

حیا حریم

حیا حریم

حیا حریم ماہنامہ حیا کراچی کی مدیرہ ہیں۔ علوم فقه میں تخصص کے بعد اب علوم قرآن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ آن لائن تعلیم و تربیت اکیڈمی برائے قرآن و علوم عربیہ کی انچارج ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.