بے سمتی اور فکری انتشار ، پاکستان کا پہلا تعلیمی مسئلہ - ڈاکٹر یونس خان

عظیم دانشور سر سید احمد خان انسان کے زمانہ بچپن کو اس کی باقی زندگی میں سب سے زیادہ پر اثر دور گردانتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر ہے کہ بچپن انسان کی زندگی کا وہ دور ہے جس میں اسے اپنے مستقبل کے فیصلوں کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور اس کے سرپرست یہ طے کرتے ہیں کہ اس میں وہ کونسی بنیادی مہارتیں فروغ دینا ہیں جن کے بل بوتے پر یہ اپنی سمت کا تعین کرے اور اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے کرنے کے قابل ہو۔

بالکل اسی طرح ایک قوم کے فکری و سماجی رہنما کے لئے اس امر کا تعین کرنا کہ ایک وحدت کے طور پر قوم کی منزل کیا ہے، اس کا وژن کیا ہے اور اس وژن کے تعاقب میں اس کا مشن کیا ہونا چاہئے؟ مزید برآں قوم کی بنیادی اقدار کیا ہیں اور کیا ہونی چاہئیں؟ نیز افراد کا سماجی طرزِ عمل کیا ہو؟ یہ وہ اہم ترین بنیادی سوالات ہیں جن کا سلسلہ بچے کی ابتدائی تعلیم سے منسلک ہے۔

پرائمری اسکول ایجوکیشن کی صورت گری میں ان ہی امور کو مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ بچہ، چونکہ قوم کا فرد ہے اور اس سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے، اس لئے اسے وہی تعلیم دی جائے جو قومی وژن اور امنگ کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس قسم کے تعلیمی نظام کے تمام مسائل کے حل سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ " ایک اکائی اور وحدت کے طور پر پاکستانی قوم کا وژن کیا ہے؟ "

اسی ایک سوال کو ملک کے تمام طبقہ ہائے فکر کے سنجیدہ تھنکرز کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور کسی قسم کی مجمع بازی، عامیانہ روش، فوری استدلال، ہنگامی حل، جوش تقریر اور مصنوعی دانش سے گریز کرتے ہوئے اس کا دائمی اور حقیقی جواب تلاش کرنا عصری تقاضہ ہے۔ اس جواب کی تلاش میں ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سخت ضرر رساں اور ذہنی و فکری انتشار کا باعث بن سکتے ہیں چنانچہ اس امر کو لازم کیا جائے کہ یہ حساس موضوع کسی اینکر کے ہتھے نہ چڑھنے پائے تا کہ وہ چند نام نہاد دانشوروں کو بٹھا کر تماشا نہ لگاسکے۔

اس کے پہلے مرحلے میں مختصر مقالے تحریر کئے جائیں، جن کے عرق ریزی سے مطالعے کے بعد سوال نامہ تیار کیا جائے اور وہ سوالات قوم کے ہر طبقے اور ہر خطے کے عوام و خواص سے کرنے کے بعد شماریات کے اصولوں کے مطابق کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچا جائے اور اس کے بعد قوم کا حتمی وژن متفقہ طور پر طے ہو جانے پر تمام تر تعلیمی پالیسیز تشکیل دی جائیں۔

ایک اہم سوال کہ یہ کام کون سا ادارہ کرے گا؟ تو فطری طور پر یہ قومی اسمبلی اور وزارت تعلیم کی ذمہ داری ہے، البتہ اس میں عدلیہ اور وزارت قانون بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔