ہم سمت درست کر سکتے ہیں..!! - تزمین طالیہ

ہم کب تک دو انتہاؤں میں بٹے رہیں گے؟؟

جذبات ایک جوہری طاقت ہیں، اگر قابو میں ہیں تو ہر سو اجالا ہی اجالا، اور اگر بدقسمتی سے بے قابو ہو جائیں تو چہار اطراف تباہی۔ اس بے ہنگم ہجوم کو کیا نام دیں، جن کے بے ہنگم ریلے نے محبت اور اس کے تمام تقاضے بہا ڈالے۔

کیا تم بھول گئے تمہارے آبا کلمہ پاک کی آواز سنتے ہی اٹھی تلوار نیچی کر لیتے تھے کہ رب کے حضور اس کلمے کا کیا جواب دیں گے ؟ دل چیر کر تو ایماں ماپا نہیں جاتا۔ تم کیا یونہی بلاتحقیق ہر سنی سنائی بات پر چڑھ دوڑتے رہو گے؟

تم نے کیوں 50 اور 70 کی دہائیوں میں اپنا لہو سینچ کر قانون تیار کروایا...اگر فیصلے بے سمت ہجوم کی ٹھوکروں نے ہی کرنا تھے؟ کیا اب کوئی کسی پر بھی گستاخی کا ٹھپہ لگا کر اسے Treatment کی چکی میں پیس سکتا ہے؟

تم کیوں مایوس ہو انصاف سے ؛ عدلیہ سے ؛ حکمرانوں سے... یہ ہجوم ہی تو تھے جو ناممکن کی کوکھ سے انقلاب کھینچ لائے۔ پھر تم کیوں ہار گئے ؛ کیوں نا امید ہو گئے؟

تم کیسا ہجوم ہو جو اربابِ اقتدار کے آگے اپنی آواز تک بلند نہیں کر سکتا؟ تم کس قدر کمزور ہو جو اوّل تو جانچ پڑتال نہیں کرتے اور اگر کر لو تو ریاست کو انصاف پر مجبور نہیں کر سکتے؟

خوب ہو تم بھی، ریاست کو دو گالیاں دے کر کسی اکیلی جان کو مارنا جلانا آسان پڑتا ہے نا...

ہمارے ماں باپ مال اولاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر قربان !!

میرے مولا ! ہمیں جوش اور ہوش کا اعتدال عطا فرما دیجیے! حبِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شمع ہمارے دلوں میں فروزاں فرما!

میرے مولا ! ہماری غلطیاں کہیں اس قانون کو آنچ نہ دکھا دیں جسے ہمارے آبا نے خاک اور خون کے دریا کو چیر کر نمو دی!

میرے مولا ! ہمیں ہمت دے سمجھ دے کہ ہم قانون کی کسوٹی پر کھرے کھوٹے کو الگ کر سکیں اور اگر کوئی کھوٹا چور دروازے سے باہر کھسکے تو ہم قانون کی کمزور پڑتی رگ میں خون بن کر دوڑیں اور قانون ہی کے ہاتھوں اسے اچک لیں..!

ہم کر سکتے ہیں..!!

ہم سمت درست کر سکتے ہیں..!!