مشعل خان کا قاتل، مولوی یا مسٹر؟ فردوس جمال

مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں غیر مذہبی طلبہ ہجوم کے ہاتھوں توہین مذہب کے نام پر ایک غیر مذہبی نوجوان مشعل خان کا سفاکانہ قتل انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہے. مقتول توہین مذہب کا مرتکب ہوا تھا یا نہیں، قطع نظر اس بحث سے کسی فرد یا گروہ کو شریعت یہ اختیار نہیں دیتی ہے کہ وہ خدائی فوج دار بن کر اپنی عدالت لگائے اور سزائیں دیتا پھرے. اسلامی ریاست میں حدود اللہ کا نفاذ ،سزائیں و تعزیرات کی تنفیذ میں اتھارٹی حاکم وقت اور عدالتیں ہیں، مذہب کے نام پر ایسے کسی بھی قتل کو جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا ہے.

ہاں! البتہ کچھ باتیں غور طلب ہیں. مشعل خان کا قتل کسی مسجد کے صحن اور مدرسے کے احاطے میں نہیں ہوا، مشعل خان کو داڑھی اور عمامے والوں نے نہیں مارا، ان پر حملہ جمعیت نے بھی نہیں کیا، کسی مولوی نے انہیں گستاخ بھی ڈکلیئر نہیں کیا تھا، بلکہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق حملہ آور گروہ قوم پرست طلبہ تنظیم پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن سے تعلق رکھتا تھا جو فکری طور پر لبرل ذہنیت پر اٹھان کرتی تنظیم ہے، جو کالجوں یونیورسٹیوں میں مخلوط ناچ گانے کی محافل پر یقین رکھتی ہے، لیکن اس واقعے کے بعد لبرلز اور مذہب بیزار تمام عناصر کی توپوں کا رخ ملا اور مسجد کی طرف ہو گیا. اس حقیقت کے باوجود لبرل اور موم بتی مافیا اس واقعے کو کیش کرانے کے لیے سب ملبہ ملا پر ڈال رہا ہے اور لٹھ لیکر مولویت کے پیچھے پڑ چکا ہے حالانکہ مشعل خان کا قاتل مولوی نہیں مسٹر ہے، پھر بھی مولوی کو مورد الزام ٹھہرانا، یہ رویہ انتہائی قابل مذمت ہے.

اسی طرح پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے مذہبی نہ ہونے کے باوجود، ان کے اس اقدام سے مجھے تعجب بھی نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کے بارے پاکستانی قوم بہت حساس ہے، اس قوم کا فرد مرحوم شاعر اختر شیرانی کی طرح شراب میں دھت کیوں نہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات پر سوال اٹھانے پر سر پر شراب کا گلاس اٹھا کر دے مارتا ہے، سو پاکستانی سماج میں رہتے ہوئے پاکستانی قوم کی اس حساسیت کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی بہت ضروری ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مولا جٹ سے ملا جٹ تک - معصوم رضوی

سوشل میڈیا پر موجود دیسی لبرلز اور ملحدین جس طرح مذہب کو آڑے ہاتھوں لیے ہوئے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ مشتعل ہوں گے اور ناخوشگوار واقعات رونما ہوں گے، اور ظاہر ہے کہ فرد ایسی سوسائٹی میں اپنی نجی عدالت لگا کر فیصلے کرنے لگتا ہے جہاں ریاست کی گرفت کمزور ہو، ریاست کے نظام عدل و انصاف پر لوگوں کو اعتماد اور بھروسہ نہ ہو. بدقسمتی سے پاکستانی عدلیہ کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، یہاں توہین مذہب کرنے والے کسی ایک فرد کو سزا نہیں ہوئی، گستاخانہ پیچز چلانے والے قانون کو ٹھینگا دکھا کر ملک سے باہر فرار ہوئے اور ان کے وکیل و سہولت کار صبح و شام ٹی وی پر آکر مذہب کو کوستے، ملا کو للکارتے، مدرسے کو سناتے رہتے ہیں. انہیں مکمل آزادی حاصل ہے. اسی طرح جس سماج میں عدلیہ سے اربوں کی کرپشن کرنے والے باعزت بری ہو جاتے ہوں، اور ہزار روپے کا دھنیا چوری کرنے والے درجن بھر بچوں کا مجبور باپ کو جیل میں سڑ رہی ہو، غریب کا بچہ پکڑا جائے تو پولیس حلیہ بگاڑ دیتی ہو لیکن ایان علی کو عدالت میں پیش کرتے وقت وہ لشکارے مارتی ہو، پولیس والے ان کا میک اپ باکس اٹھائے آگے آگے ہوں، ایسے نظام پر عام آدمی کیوں اور کیسے بھروسہ کرے؟

اس تناظر مین اگر ملک سے تشدد کو ختم کرنے میں آپ سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اپنے نظام انصاف کو ٹھیک کریں، قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں، فرد اور معاشرے کے عدلیہ کے بارے میں اعتماد کو بحال کریں، توہین مذہب کے ملزموں کو کٹہرے میں کھڑا کریں، ورنہ یاد رکھیں ایسے واقعات مکرر ہوتے رہیں گے.

Comments

فردوس جمال

فردوس جمال

فردوس جمال مدینہ منورہ میں مقیم اور مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان ورلڈ فورم سعودی عرب کے صدر ہیں۔ معاشرتی، سیاسی اور دینی موضوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.