ماں بننے کی صلاحیت - حافظ محمد زبیر

یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک بچی کے مستقبل میں اگر آپ ذرہ سا بھی جھانکنے کی کوشش کریں گے تو فورا یہی خیال ذہن میں آئے گا کہ یہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔ ماں بننے کے لیے جس سنجیدگی، ٹھہراؤ، تحمل، برداشت، ایثار، قربانی اور فہم وفراست کی ضرورت ہے وہ 80 فیصد لڑکیوں میں مفقود نظر آئے گی۔

لڑکیوں کا یہ حال ہے تو کیا لڑکے باپ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ تو ان کا حال تو ان سے بھی برا ہے۔ مجھے یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو دیکھ کر اور یہ سوچ کر بعض اوقات بہت وحشت ہونے لگتی ہے کہ اس معاشرے کا مستقبل کیا ہے؟ ان کی شادیاں، چاہے آپس میں بھی ہو جائیں، مہینہ چالیس دن سے زیادہ نہیں چلنے والیں۔ یہ شادی کے بعد تین ماہ گزار لیں تو بہت بڑی اچیومنٹ ہو گی۔ اگلی ایک دہائی میں ہماری سوسائٹی میں طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے کی توقع ہے اور یہ پڑھے لکھے طبقے میں زیادہ ہوگی۔

ایک صاحب نے بتلایا جو ٹی ایم اے کے ادارے میں کام کرتے ہیں، جس کے تحت نکاح طلاق کی رجسٹریشن ہوتی ہے، کہ رجسٹرڈ طلاق کی شرح 45 فیصد ہو چکی ہے اور ابھی بھی صورت حال یہ ہے کہ نکاح کی رجسٹریشن کم ہو رہی ہے اور طلاق کی زیادہ۔ والدین کو نہ معلوم کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ان کی بیٹی کے سسرال والوں اور خود ان کے داماد نے ان کی بیٹی کی بی ایس کی ڈگری کی بنیاد پر اس کی عزت اور احترام نہیں کرنا بلکہ انہوں نے تو کچھ اور دیکھنا ہے۔ چلیں، تعلیمی نظام تو کچھ نہیں کر رہا تو میڈیا معاشرے کی اصلاح میں کچھ کردار ادا کر سکتا تھا لیکن ہمارا میڈیا تو بدقمستی سے بالکل اس کے برعکس سمت میں معاشرے کو لے کر جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا بازاری بن گیا ہے - حبیب الرحمن

ہمارا میڈیا ڈراموں اور فلموں میں شادی کے بعد کی ایک عجیب قسم کی لگژیوریس اور رومانیٹک لائف دکھا کر نوجوانوں کو کھائی میں دھکیل رہا ہے اور انہیں ذرہ بھی خبر نہیں ہے کہ حقیقی زندگی اور میڈیا کی دکھائی ہوئی دنیا میں کتنا فرق ہے؟ ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ ایک بچی ایم فل فزکس اور پی ایچ ڈی میتھس کرنے کے بعد ہانڈی چولہ کرے گی اور بی ایس فیشن اینڈ ڈیزائن کرنے کے بعد وہ بچے پیدا کرے گی؟ یا اپنی فزیک اور فگر کا دھیان کرے گی؟ جدید نظام تعلیم ایک بچی کو کماؤ پوت بنانے میں تو شاید مددگار ہو سو ہو لیکن ایک اچھی ماں اور بیوی بننے کے لیے بالکل بھی سازگار نہیں ہے۔

اور سچی بات یہی ہے کہ اس صورت حال یہ ہے کہ گھر کا ادارہ بنانے اور چلانے کے لیے جو جو صلاحیتیں اور خاصیتیں درکار ہیں، ہمارا نظام تعلیم انہیں پیدا اور پروموٹ کرنا تو دور کی بات، انہیں کِل (kill) کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مستقبل ان تمام طلبہ کا یہی ہے کہ یہ اس معاشرے میں ایک خاندان کی بنیاد رکھیں گے لیکن خاندان بنتا کیسے ہے، جڑتا کیسے ہے، مضبوط کیسے ہوتا ہے، ٹوٹتا کیسے ہے، بکھرتا کیسے ہے، یہ ہمارے نظام تعلیم اور کلاس میں کہیں بھی موضوع بحث نہیں ہے۔