وہ زندگی کے کچھ دن - نصرت یوسف

سنگی بنچ پر بیٹھی وہ خود سنگی مجسمہ لگ رہی تھی جسے بنانے والے نے نوک پلک سے سنوار کر دنیا کے میلے میں بٹھا دیا ہو۔ بےحس، بےحرکت، اور خاموش۔ وہ لیلیٰ نواز تھی جو جمال آفریں تھی۔ خوبصورت نرم ہاتھوں میں کوئی زیور چمکتا دکھائی نہ دے رہا تھا،گلابی ایڑھیوں والے پیر زیتونی سینڈل میں قید تھے۔ وہ سوچوں میں تھی یا نگاہوں کے آگے رواں دواں امیوزمنٹ پارک کی دنیا میں، پہچان بظاہر نہ ہو رہی تھی۔ تیز رفتار جھولوں اور شور بھری موسیقی کی تانوں کے ساتھ تھرکتی روشنیوں کےگرتے عکس اس کے وجود پر ہر زاویے سے گرتے اس کو مختلف روپ دے رہے تھے، کبھی وہ اپسرا لگتی تو کبھی دلکش جادوگرنی، روشنی کی لکیریں کبھی غمگین شہزادی اسے دکھاتیں تو کبھی وہ قدیم عہد کا رومانوی کردار لگتی، روشنیوں کے اتار چڑھاؤ سے کبھی وہ عمومی سا وجود لگنے لگتی تو کبھی مجسم بہار، غرض بدلتے رنگ اس کا بہروپ ایسے بدل رہے تھے جیسے زندگی انسانوں کو مختلف مرحلوں سےگزارتی طرح طرح کا روپ عطا کرتی چلی جائے. لیلیٰ میں ہر زاویے سے کشش تھی، کوئی غور کرتا تو دیکھ ہی لیتا، لیلیٰ نواز کے مجسمے کی کالی سیاہ آنکھوں میں نمی ہے، لیکن غور کرنے کی فرصت اس ہنگامہ میں تھی ہی کہاں کسی کو۔

ماحول میں سرخ رنگ غالب تھا، خیالات اور رنگ کی تپش نے انسانوں کو دہکتے تندوروں میں ڈھال دیا تھا۔ وہ عقل و خرد سے بےنیاز اجسام معلوم ہوتے تھے۔ سنگی مجسمے میں اچانک تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی اور وہ بےترتیب اور اضطرابی قدموں سے تقریبا بھاگتی ہوئی خارجی راستے پر دوڑ پڑی، بہت زور سے وہ کچھ تندوروں سے بھی ٹکرائی، ان سے نکلنے والی گرم بھاپ نے اس کے جسم میں جلن سی پیدا کردی، وہ اس کے ٹکرانے پر چنگاریاں بھرے فقرے اچھال رہے تھے، مگر وہ بنا رکے گیٹ تک پہنچ گئی، سانس لینے وہ لمحے بھر کو رکی اور اسی لمحے ماحول تاریک ہوگیا۔ لمحے کے لاکھویں حصے میں ہنگامہ ایسی خاموشی میں بدلا جیسے یہاں کوئی جیتا ہی نہ تھا، لیکن بس یہ لا کھواں حصہ ہی تھا، پھر ایسی آوازیں بلند ہوئیں جیسے لاوا پھوٹ پڑے، چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہونے لگیں، لگتا تھا انسانوں کو آنکڑے دبوچ رہے ہوں. اس کو بھی کسی نے دبوچنا چاہا لیکن وہ پوری قوت سے اپنے آپ کو چھڑاتی روشنی کی اس لکیر پر پیر رکھنے میں کامیاب ہوگئی جو گیٹ کے باہر سے آ رہی تھی۔ وہ باہر آچکی تھی، وقت لگتا تھا رک چکا ہے، تاریکی کے وہ بیس سیکنڈ تھے یا بیس منٹ، بڑی سی ڈیجیٹل سکرین محض بیس سیکنڈ کا فرق بتا رہی تھی، لیکن روشنی آنے پر جو مناظر تھے، لگتا تھا اندھیرا انسانی وجودوں پر لمبے عرصہ سے چھایا ہوا ہو.گاڑی کا دروازہ کپکپاتے ہاتھوں سے کھولتے لیلی نواز نے فاصلے پر نظر آتے گیٹ کو یکھا جہاں انسان تتر بتر بھاگتے دکھائی دے رہے تھے. چودہ فروری کا سرخ رنگ اسے لہو لہو ہوتا لگا، ان انسانوں میں سے کسی کا دامن آگے سے تار تار تھا، کسی کا پیچھے سے. گاڑی کے ٹائرز بری طرح چرچرائے، اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی ریس پر پیر رکھ دیا تھا، وہ اب اس خوفزدہ ہرنی کی مانند لگ رہی تھی جو پیچھا کرتے بھیڑیوں کے غول سے جان بچا کر بھاگ رہی ہو. وہ آنکھیں جو کچھ دیر قبل نم تھیں، اب بری طرح برس رہی تھیں، لرزتے ہونٹوں پر سرگوشی ابھری، احتشام ابراہیم

یہ بھی پڑھیں:   خاتمہ بالخیر کی تمنا اور ہمارے اعمال - روبینہ شاہین

گاڑی شہرکی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی، وہ جتنی اچھی تیراک تھی، اتنی ہی اچھی ڈرائیور بھی۔ بھیڑیوں کا غول کہیں پیچھے رہ گیا تھا، ہتھیلی کی پشت سے آنسوؤں کو پوچھتے اس نے گاڑی کی رفتار دھیمی کر دی. وہ اب احتشام ابراہیم کے علاقے میں داخل ہو چکی تھی،گیٹ کے قریب پہنچ کر گاڑی کی روشنیاں بند کر کے وہ دیر تک گا ڑی میں بیٹھی رہی، شاید احتشام تک جانا آسان نہ تھا. وہ گہری سانس لے کر لرزتے قدموں سےگاڑی سے اتری، گیٹ بند تھا، ہوا کی سرسراہٹ کے سوا اردگرد کچھ نظر نہ آرہا تھا، وہ ٹھٹکی، اسی لمحے کسی انسان کا سایہ پھیل کر اس کے قدموں تک آ گیا، شاید وہ چوکیدار تھا، گیٹ کو ذرا سا کھولے وہ لیلی نواز کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا.
احتشام ہے؟ لیلی کی آواز ٹوٹی ہوئی سی تھی.
کون احتشام؟
وہ جو یہاں رہتا ہے.
یہاں تو بی بی بہت لوگ رہتے ہیں، اس کی آواز سپاٹ تھی۔
مجھے احتشام کا معلوم کرنا ہے، مجھے احتشام کا بتاؤ بس.
لیلیٰ کی آواز سرگوشی سے زیادہ اونچی نہ تھی۔ چوکیدار نے اس کو نگاہ بھر کر دیکھا اور کچھ کہے بنا گیٹ کھول دیا۔ گیٹ کے قریب آکر وہ چند لمحے منجمد سی کھڑی رہی، جیسے فیصلہ کر رہی ہو کہ اسے اندر جانا چاہیے یا نہیں.
بی بی اندر آنا ہے تو آؤ، چوکیدار کی آواز میں کھردراہٹ تھی، اس کے لہجے پر اس نے چونک کر اسے دیکھا. احتشام کی جگہ پر اس سے ایسا سلوک؟ لیلی نے گیٹ کے پار نظر ڈالی.
دور دور تک کوئی نہ تھا، مکین لگتا تھا رنگ اور روشنی سے بے نیاز، سکوت پسند تھے۔ کوئی نہ تھا جو اس کا خیر مقدم کرتا، لگتا تھا کسی کو بھی اس کا انتظار نہیں۔
چوکیدار نے کچھہ لمحے توقف کیا اور پھرگیٹ بند کردیا۔ سایہ بھی اندر چلا گیا، اب وہاں کوئی نہ تھا۔ لیلیٰ کا سایہ اس کے پیچھے تھا۔ اس نے تھکے تھکے قدموں سے رخ موڑا اور اپنے ہی سایہ کا تعاقب کرتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
گاڑی ایک بار پھر شہر کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی، لگتا تھا کوئی سمت ہے نہ منزل، سماعت صاف ہے نہ بصارت۔ ڈیش بورڈ پر رکھا اس کا سیل فون مستقل بج رہا تھا۔ کبھی مام کالنگ ابھرتا تو کبھی ڈیڈ کالنگ، بالاآخر فون کی طاقت جواب دے گئی اور لیلیٰ کی بھی۔ یہ وہی شہر تھا جو پچھلے برس تک رونقوں کا میلہ تھا، ساعتیں ساز آفریں تھیں، لمحے رنگین، اس نے پچھلے برس ہی تو احتشام کی لیلی بننے کا اعزاز پایا تھا۔

کون جانتا تھا اس نے اس مقام تک آنے کے لیے کیا کیا سہا، بال اور کھال کی آرائشی سرجریاں، جسم کے تناسب کے لیے انتھک محنت، حسن کی افزائش کے لیے خصوصی مشقیں، جن سے صحت مند خون کی چمک نظر اور ناخن تک میں چھلکے، سادہ غذائیں، یوگا کے مراقبے، اور پھر بالآخر چودہ فروری کی پارٹی میں دنیا نے لیلیٰ نواز کو احتشام ابراہیم کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے دیکھ ہی لیا۔ دل کی شکل کے غبارے، دل ہی کی شکل کے آویزے اور قندھاری سرخ پیرہن میں دھڑکتا اس کا اپنا دل احتشام ابراہیم کی سنگت میں ہواؤں میں اڑ رہا تھا، احتشام ابراہیم ایسا خاص ہی تھا۔ خوبرو تھا، بااثر خاندان سے تھا، اور اپنے طبقے کے عمومی انداز سے بہتر انداز رکھتا تھا، پارٹی کے بعد ساحل سمندر پر اس کے کمر کے گرد لپٹا احتشام کا بازو اسے دنیا میں کہاں رہنے دے رہا تھا جو وہ جان سکتی کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو چکا ہے، وہ تو بس ان لمحات کا عرق بھر پور کشید کرنا چاہ رہی تھی، وہ جان ہی نہ سکی کہ سرخ گلاب سی وہ حسین لڑکی جو سرخ گلاب بالوں میں سجائے اسی کی طرح کسی اور کی سنڈریلا کا اعزاز پا کر مگن ہے، وہ احتشام کے دل میں اتر چکی ہے. نظر کی طاقتور لہریں خاصی بےباک بھی تھیں اور ناگوار بھی، لیلیٰ جان ہی نہ پائی، کب آنکھ نے حسن کو اشارہ کر دیا اور کب شکایت کر دی گئی. اس نے دو طاقتور انسانوں کے دو ہی بارودی جملے سنے، اور پھر احتشام ابراہیم پر اسلحہ تان کر گولیاں برسا دی گئیں. لیلی نواز ان تمام لمحات کو حسابی کتابی عمل میں جان ہی نہ سکی، اس کو بےہوش ہونے سے قبل بس ساحل کی ریت پر گرا احتشام کا وجود یاد رہا، جس سے لہو نہ جانے کتنی دھاریں بنا رہا تھا، دنیا سے اس کا رابطہ کٹ چکا تھا. جب وہ پورے تیس گھنٹے بعد ہوش میں آئی تو احتشام ابراہیم زمین کے اوپر سے زمین کے نیچے جا چکا تھا، اس کی قبر پر پھولوں کی پتیاں اس طرح بکھری تھیں جیسے مٹی تلے جاتے انسان کو اس کے اختیار اور طاقت کے تمام غرور بکھیر کر دکھا دیے جا تے ہیں، اور انسان کی نگاہ سانس بند ہوتے ہی اپنی ریزہ ریزہ ہوتی حقیقت کو خوب جان جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گھر مشکل سے بنتے ہیں - راحيلہ ساجد

لیلی نواز کو بھی احتشام ابراہیم کی موت نے ایسے ہی بکھیر دیا تھا، وہ ریزہ ریزہ ہوتی اپنی حقیقت کی دریافت کے مرحلوں سے گزر رہی تھی، درد کے درماں کی تلاش میں تھی، گلابوں کا دن، محبت کا دن، خوابوں کا دن، دھواں دھواں کیسے بنا؟ کیوں بنا؟ وہ کھوج میں تھی، داسی بنی آبلہ پا تھی. لیلی نواز نے احتشام ابراہیم کی قبر کی مٹی کو کئی بار سونگھا، شاید اس میں احتشام کی خوشبو ہو، لمس ہو، کوئی جواب ہو، لیکن وہ تو بڑی ہی ٹھنڈی اور بڑی ہی خاموش تھی، بس سرہانے لگا ایک کتبہ تھا جس پر لکھا تھا،
احتشام ابراہیم 14 دسمبر 1990ء تا 14 فروری 2016ء

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں