کیا فقہ غیرمسلموں سے جنگ پر آمادہ کرتی ہے؟ سید متین احمد

محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے جوابی بیانیے میں، سفرِ امریکہ میں اور دیگر مواقع پر بکرات و مرات اس بات کا ذکر کیا ہے کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کی طرف سے جو ٹکراؤ اور شدت پسندی کی مہم جاری ہے، وہ نتیجہ ہے اس دینی فکر کا جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے، اور جدید تحریکیں اس سے اثر پاتی ہیں۔ (او کمال قال)

غامدی صاحب کی فکر سے تعلق رکھنے والے احباب بھی چوں کہ یہی بات دہراتے ہیں اور 12 اپریل کو شائع ہونے والے خورشید احمد ندیم صاحب کے کالم میں بھی یہی بات کہی گئی ہے، اس لیے اس دعوے میں پائے جانے والے ایک بنیادی علمی مغالطے پر توجہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس دعوے میں بدقسمتی سے جدید ٹکراؤ پر مبنی تحریکوں کے بیانیے اور مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب کی فکر کو بنیادی طور پر ایک ہی چیز کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ایک غلط بات ہے اور شدید غلط فہمیوں کا سبب ہے۔ اس میں اصولی طور پر جو غلطی کارفرما ہے منطقی مغالطوں کی رو سے اس کا نام Hasty Generalization ہے جس میں کچھ ظاہری مشابہتوں کی وجہ سے مختلف چیزوں پر عمومی انداز میں ایک ہی حکم صادر کر دیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے بنیادی چیز علتِ قتال ہے جو غیر مسلموں کے ساتھ قتال کو Justify کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ تصور وابستہ ہے کہ آیا غیر مسلموں کے ساتھ مسلسل جنگ (Perpetual War) کی کیفیت میں رہنا کیا دینی لحاظ سے کوئی مطلوب شے ہے یا نہیں!

یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا مدارس میں پڑھائی جانے والی روایتی فقہ میں اس قتال کی علت کوئی ایسی چیز قرار دی گئی ہے جس کے نتیجے میں غیر مسلموں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہ ہو، ان کے ساتھ مسلسل پیکار اور جنگ ہی اسلام کا مطمحِ نظر ہو، ان کے ساتھ کوئی معاہدۂ امن قابلِ قبول ہی نہ ہو اور ہمہ دم ’’گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زَن‘‘ کا ماحول پیدا کیے رکھنا اس فقہ کا مقصود و منتہا ہو؟ ان سوالات کا اجمالی جواب یہ ہے کہ ’’مدرسوں میں پڑھائی جانے والی فقہ‘‘ (اور خاص طور پر چوں کہ بات پاکستانی مدرسوں کے تناظر میں ہوتی ہے جہاں حنفی فقہ ہی نصاب کا حصہ ہے۔) میں ایسی کسی علت کا وجود نہیں ہے جس میں غیر مسلموں کے ساتھ مسلسل قتال اور جنگ کا ماحول بنائے رکھنا اسلام کے مطمحِ نظر کے طور پر سمجھایا جاتا ہو۔ اس وقت پاکستان میں چوں کہ سب سے زیادہ الزام دیوبندی مدارس پر ہے اور دیوبندی مدارس فقہی اعتبار سے چوں کہ حنفی فقہ سے وابستہ ہیں، اس لیے حنفی فقہ کی اس سلسلے میں پوزیشن کا سامنے رہنا ضروری ہے۔

مختلف متون اور شروح کو کھنگالے بغیر اس سلسلے میں حنفی پوزیشن کی نہایت عمدہ اور خوب صورت وضاحت کے لیے ممتاز ماہرِ قانون و فقہ پروفیسر مشتاق احمد صاحب کی عمدہ کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ میں جو کچھ بیان کیا ہے، اس کے ضروری نکات یہاں بیان کیے جاتے ہیں۔ حنفی مدارس میں کوئی نیا فقہی متن نہیں تیار کیا گیا، بلکہ مدتوں پرانا فقہِ حنفی کا نصاب ہی پڑھایا جاتا ہے۔ مشتاق صاحب نے حنفیہ کے موقف کی وضاحت میں لکھا ہے:
’’جمہور فقہا جن میں امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعیہ وحنابلہ کی اکثریت شامل ہے، کی رائے یہ ہے کہ قتال کی علت ’کفر‘ یا ’شوکتِ کفر‘ نہیں، بلکہ محاربہ Aggression ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ قتال کی علت ’کفر‘ یا ’شوکتِ کفر‘ کا خاتمہ ہے تو پھر اس کا لازمی تقاضا یہ ہوگا کہ مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ مسلسل برسر جنگ رہیں گے، امن کا معاہدہ اول تو کیا نہیں جائےگا، اور اگر کسی مصلحت یا ضرورت کے تحت کیا گیا تو وہ موقت ہوگا، جس کی حیثیت جنگ بندی (Armistice) کی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر جمہور فقہا کی رائے کے مطابق مان لیا جائے کہ قتال کی علت ’محاربہ‘ ہے تو پھر قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مخالفین کی جانب سے محاربہ پایا جائے۔ جب وہ محاربہ ترک کر کے امن کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو ان کے ساتھ جنگ نہیں کی جائے گی۔ جمہور کے قول کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ امن کا معاہدہ جائز ہو، چاہے یہ معاہدہ موقت ہو یا وقت کی قید سے آزاد ہو۔‘‘
جن احادیث میں جہاد کے قیامت تک جاری رہنے کی بات کی گئی ہے ان کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’اس میں اختلاف نہیں کہ جہاد کی فرضیت تا قیامت قائم رہے گی اور منسوخ نہیں ہوگی، لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمان ایک مسلسل جنگ (Perpetual War) جاری رکھیں، چاہے کوئی ان سے جنگ کرے یا نہ کرے اور چاہے کسی نے محاربے کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو، بلکہ جب بھی قتال کا سبب (محاربہ نہ کہ کفر) پایا جائے گا، قتال کیا جائے گا۔ (کتابِ مذکور، ص 199، 202)‘‘

اس کے ساتھ اس سوال پر گفتگو ضروری ہے کہ خلافت کے تصور سے کیا یہ لازم آتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مسلسل جنگ ضروری ہو اور امن کی کوئی صورت نہ ہو؟ موجودہ علما کیا عین وہی رائے رکھتے ہیں جو موجودہ تحریکوں کے ہاں ملتی ہے؟ یہ اہم سوال پر جس پر ان شاء اللہ مزید گفتگو کی کوشش کی جائے گی۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam