مغربی نظام تعلیم کی تباہ کاریاں - عادل لطیف

قوموں کے عروج و زوال کا فیصلہ اس کے نوجوانوں کے دم قدم سے ہے اور نوجوانوں کی فکری، اخلاقی اور نظریاتی نشوونما تعلیم و تربیت سے مربوط ہے. اگر معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر دیانت داری، نیک نیتی اور خلوص دل کے ساتھ محنت کی جائے تو اس معاشرے کے نوجوان اپنے معاشرے کی روشن و مثالی تقدیر کے ضامن ہوتے ہیں، اور اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو ثانوی حیثیت دی جائے اور ان کی اخلاقی، فکری اور نظریاتی تربیت میں سستی و کاہلی سے کام لیا جائے تو ایسے نوجوان اپنے ہی معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتے ہیں. عالم اسلام میں جتنے بھی ایسے مسائل پنپ رہے ہیں جن کی وجہ سے ملت اسلامیہ دن بدن تنزلی میں گرتی چلی جا رہی ہے، ان میں جو بنیادی عنصر غالب ہے، وہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے عدم توجہی اور غفلت ہے. مسلم نوجوان کی زندگی شتر بےمہار کی مانند ہوگئی ہے، جس طرف ان کا جی کرتا ہے وہ جانوروں کے منتشر ریوڑ کی طرح چلے جاتے ہیں.
پیرومرشد نے کہا تھا
افراد کے ہاتھوں میں ہے قوم کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

کیا وجہ ہے کہ میرے ملک کا نوجوان اپنی ملت کے مقدر کا ستارہ نہیں بن پا رہا ہے. میری نظر میں اس کی بنیادی وجہ مغربی نظام تعلیم ہے. ذیل میں ہم مغربی تعلیم کے منفی پہلو ذکر کرتے ہیں.

سب سے اہم منفی پہلو جس نے مغربی انسان کو انسانیت کے لیے المیہ بنا دیا ہے، بحر و بر کو فساد سے بھر دیا ہے اور آخرت کی جہنم سے پہلے دنیا ہی کو ذہنی اور وجدانی طور پر جہنم کا نمونہ بنا دیا ہے. مغربی نظام تعلیم کا وہ پہلو یہ ہے کہ انسانی معاشرے کو اجتماعی زندگی کے حوالہ سے جن رہنما علوم کی ضرورت ہوتی ہے، ان سارے سائنسی و طبعیاتی علوم کو خدا کے تصور و عقیدہ سے خارج کر دیا ہے اور ان علوم کی بنیاد میں عقل کے تصور کو اس قدر راسخ کر دیا ہے کہ جو چیز عقل اور حواس خمسہ کے مشاہدہ میں نہ آئے، وہ سرے سے اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی، اس لیے اس کا انکار کیا جائے. بنیادی علوم سے خدا کے تصور کو نکال کر مادیت کے تصور سے سرشار کرنے کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ جو انسان فطرتا خدا سے محبت کا داعیہ رکھتا ہے اور اس کی شخصیت کی ساری تان بان اس محبت سے ہی متشکل ہوتی ہے، اور اس شخصیت کے سارے وجود اور اس وجود کی ساری کڑیوں کی سلامتی ہی اس بات سے وابستہ ہے کہ وہ دل وجان سے خدا کی محبت کے ذریعہ اپنے جذبات کی تسکین کرے، وہ اللہ کی محبت کے جذبات کے تصور سے عاری ہوکر ترقی یافتہ حیوان کی صورت اختیار کر گیا ہے، یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم کے مصداق

ایک طرف تو وہ تعقلیت یعنی عقل پرستی، وحی کے مقابلے میں محدود علم اور نارسا عقل کو ترجیح دینے سے وجدانی اور روحانی طور پر ہزارہا امراض کا شکار ہو کر خوداعتمادی کے بحران میں مبتلا ہوگیا ہے. دوسری طرف اللہ کی محبت کے چشمے سے پھوٹ کر نکلنے والی اعلی انسانی صفات محبت وشفقت، رحم والفت، انسانیت نوازی، اخلاق حسنہ، مادی سود وزیاں سے بلند ہونے کا نکتہ نگاہ اور ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر تعلق خاطر رکھنا، دنیا کے کاروبار میں استغراق کی حالت کا نہ ہونا، ماں باپ اور رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا، شرم وحیا اور عفت وعصمت کے پاکیزہ تصورات کی پاسداری اور بے باک جنسی جذبات کا خون کرنا دوست احباب سے بے لوث مخلصانہ تعلقات قوم پرستی اور انفرادی مفادات کے تصورات سے بلند ہوکر انسانی نکتہ نگاہ سے دیکھنا اور معاملہ کرنا غرض کہ مغربی انسان ان سارے اوصاف حمیدہ سے محروم ہوگیا ہے.

مغربی نظام تعلیم کا ایک اور منفی اور تاریک پہلو جس کے مقابلے میں اس کی افادیت کا پہلو غیر اہم ہے وہ منفی پہلو سرمایہ دارانہ ذہنیت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی بےانتہاء ترقی ہے. انسان سائنسی اور ٹیکنالوجی ترقی کی وجہ سے قدرت کی ایسی قوتوں کو مسخر کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے، جن سے انسان کی حیثیت سے کام لینے کی صلاحیت سے وہ عاری ہے، چناچہ بڑھتی ہوئی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی انسانی ہلاکت کا موجب بن گئی ہے اور چند ہزار سرمایہ دار ملٹی نیشلنز کی صورت میں انسانیت کے دل و دماغ کو کنٹرول کرنے، انہیں مادہ پرستانہ کلچر کے سانچہ میں ڈھالنے، ان پر اپنے مادہ پرستانہ نظریات ٹھوسنے اور گلوبلائزیشن کے ذریعے سیاست، معیشت، معاشرت اور تعلیمی نظام میں ایسے حالات پیدا کر چکے ہیں جس سے پوری دنیا کی دولت کھینچ کر ملٹی نیشلنز کے ہاں پہنچ جائے. انسانوں کی عظیم اکثریت فاقوں کی وجہ سے بلبلا اٹھے، علاج و معالجہ کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے امراض کا شکار ہو جائے،گلوبلائزیشن کے علمبردار عالمی سرمایہ داروں کو اس سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ ان کے سینے میں دل نہیں پتھر کی سل ہے، انہیں تو سرمایہ اور فقط سرمایہ چاہیے، اس مقصد کے لیے ساری قدریں تباہ ہو جائیں اور انسانی کلچر بدترین حیوانی صورت اختیار کر جائے تو بھی کوئی حرج نہیں. عالمی سرمایہ داروں کو صرف سرمایہ چاہیے اور انسانی محنت کے خون پسینہ کا حاصل چاہیے. عالمی سرمایہ دار کے سامنے دنیا پر اپنی خداوندی کو مسلط کرنے اور انسانوں کو آخری حد تک اپنا زیردست بنانے کے علاوہ اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں ہے.

اسی نظام تعلیم کے غلبہ میں وہ نظام تمدن و تہذیب وجود میں آیا ہے جس نے پوری انسانیت کو مادیت پرستی کی آگ میں جھونک دیا ہے، مغرب کی مادیت پرستی پر مشتمل زندگی کو اختیار کرنے کے بعد اس کے جو نتائج نکل سکتے ہیں، وہ اہل مغرب کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ظاہر ہونے والے نتائج کے علاوہ دوسرے نکل سکیں ممکن ہی نہیں. قرآن کریم نے یہ اہم نکتہ بہت پہلے واضح فرما دیا تھا کہ ظالم قوموں کی طرف جھکنے کے نتیجے میں آگ کی لپیٹ سے بچنا ممکن نہیں. ظالم اور مادہ پرست قوموں کے مظاہر زندگی اور طرز زندگی سے نفرت کے بجائے ان سے دل بستگی اور ان پر فریفتگی کا لازمی نتیجہ دل روح اور نفسیات کا آگ کی لپیٹ میں آجانا ہے جہنم کی آگ سے پہلے اس دنیا میں بھی یہ آگ چھوئے بغیر نہیں رہ سکتی.

ظالم اور مادہ پرست قوموں کی طرف جھکنے ہی کے نتیجہ میں انسانی روح تھک چکی ہے، دل اپنی اصل غذا سے محروم ہو چکا ہے اور دماغ خالص مادی سوچ کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو گیا ہے. اگر عصری تعلیم کو قرآن و سنت کے مطابق کیا جائے اور تعلیم کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنایا جائے تو دنیا میں واضح تبدیلی نظر آسکتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کینیڈا کی ایک سڑک سے گاڑی میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ سفر میں تھے تو سڑک پر جابجا بورڈ پر لکھا تھا اسپیڈ 90 کلومیٹر Zero Tolerance (اس اسپیڈ سے ایک پوائنٹ بھی اوپر برداشت نہیں کی جائے گی). یہ ہی حال شریعت کا بھی ہے ایک انچ بھی روگردانی قبول نہیں تو تعلیم جیسے اہم معاملہ میں کیسے روگردانی کی جاسکتی ہے.