لائی حیات، آئے – ڈاکٹر رضوان اسد خان

ایک ساتھ پیدا ہونے کے بعد بچپن سے جوانی تک ہر کام ایک ساتھ کرنے والے عمران اور عرفان نے فیصلہ کیا کہ شادیاں بھی ایک ہی دن کریں گے. عمران کی منگ اس کی خالہ زاد ’’ملکہ‘‘ تھی اور اسی کی بہن ’’رانی‘‘ عرفان کی منگیتر تھی.

اور یوں شریف آباد گاؤں میں ان کی چھوٹی سی ریاست میں حکمرانی کے لیے ملکہ اور رانی ایک ساتھ آ گئیں. والدین پہلے ہی ایک حادثے میں اللہ کو پیارے ہو چکے تھے. اس وقت دونوں بھائی میٹرک میں تھے. عمران نے اس المیے کا اتنا اثر لیا کہ پڑھائی چھوڑ چھاڑ کر اپنی چھوٹی سی زمین پر ہی کھیتی باڑی شروع کر دی. عرفان البتہ زیادہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا اور پڑھائی کا شوقین بھی. وہ گریجویشن تک تندہی سے لگا رہا اور پھر موقع ملتے ہی کلرک بھرتی ہو گیا.

خدا کا کرنا کہ ملکہ اور رانی نے ایک صبح شرماتے ہوئے ’’خوش خبری‘‘ بھی دونوں بھائیوں کو ایک ہی دن سنائی. عمران نے فوراً گاؤں کی ’’قدیم‘‘ دائی، ’’دانی آپا‘‘ کو فون کیا اور عرفان نے اپنی رانی کے ساتھ شہر کے سرکاری ہسپتال کا رخ کیا.

پڑھائی کے معاملے کے بعد یہ دوسرا موقع تھا کہ دونوں بھائیوں میں اختلاف ہوا. عمران کو گاؤں کے دوسرے ہاریوں نے سرکاری ہسپتال کی جو ہولناک کہانیاں سنا رکھی تھیں، اس پر اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ چاہے کچھ ہو جائے، ہسپتال نہیں جانا. شروع میں عرفان کے بھی کچھ ایسے ہی خیالات تھے پر جب سے اس کی پوسٹنگ اسی ہسپتال کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی تھی، وہ جان گیا تھا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں. اسے تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا مکمل علم تھا کہ کون اس معمولی سی تنخواہ کے باوجود ایمانداری اور محنت سے مریضوں کی خدمت کرتا ہے اور کس کس کے فارما کمپنیوں کے ساتھ ’’ناجائز تعلقات‘‘ ہیں اور جن کے لیے مریض محض ’’گنے‘‘ کی طرح ہے جسے ’’ویلنے‘‘ میں ڈال کر نچوڑنا ہی اصل کامیابی اور مہارت ہے. عرفان نے اپنے بھائی کو کافی سمجھایا کہ وہ سفارش کر کے سب سے اچھی لیڈی ڈاکٹر سے ملکہ کو چیک کروا دے گا، پر زمین جنبد، نہ جنبد گل محمد کے مصداق عمران نے صاف انکار کر دیا.

اب رانی تو باقاعدگی سے ہسپتال جاتی وزن کرواتی، ٹیسٹ اور الٹرا ساؤنڈ ہوتے، حفاظتی ٹیکے وغیرہ لگتے. ساتھ ہی کیلشیم اور فولاد کی گولیاں بھی وہاں سے مفت مل جاتیں. جبکہ ملکہ کو وقتاً فوقتاً دانی آپا آ کر دبا جاتی، کچھ خوراک سے متعلق مشورے دیتی، عرفان اور رانی کی ’’گمراہی‘‘ پر افسوس کرتی.. اور یونہی نو ماہ گزر گئے.. اس دوران ملکہ کا وزن اور پیٹ رانی کی نسبت کافی بڑا ہو گیا تھا جس پہ وہ فخر کرتی کہ دانی کے مشوروں کی وجہ سے اس کا بچہ کتنا ’’صحت مند‘‘ بن رہا ہے، جبکہ رانی کا بلڈ پریشر بھی زیادہ ہو چکا تھا اور وزن میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا تھا.

اگلی نسل نے بھی گویا ساتھ جینے مرنے کی قسم کھائی تھی کیونکہ دردیں بھی دونوں بہنوں کو ایک ساتھ ہی شروع ہو گئیں. رات کے دو بجے کا وقت تھا. عمران دانی کو بلانے بھاگا تو عرفان رانی کو لیکر ہسپتال..

ہسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹر نے بی پی چیک کیا تو کافی زیادہ تھا. فوراً ڈرپ اور دردوں کے ساتھ بچے کے دل کی دھڑکن کا حساب رکھنے والی مشین ’’سی ٹی جی‘‘ بھی لگا دی گئی. کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحبہ نے بتایا کہ بلڈ پریشر کی وجہ سے بچے کی دھڑکن کم ہو رہی ہے، لہٰذا زچہ و بچہ کی زندگی کے لیے فوری طور پر بڑا آپریشن کرنا پڑے گا. عرفان اور رانی کو بڑی ڈاکٹر صاحبہ، ڈاکٹر ناہید نے بتا رکھا تھا کہ اگر بی پی کا مسئلہ کنٹرول نہ ہوا تو اس کی نوبت آ سکتی ہے. سو وہ ذہنی طور پر تیار تھے.

ڈاکٹر ناہید کے ساتھ ساتھ بچوں کے ڈاکٹر، ڈاکٹر علی کو بھی فون کر دیا گیا کہ فوراً پہنچ جائیں. آناً فاناً آپریشن ہوا، چاند سی بیٹی تھی پر بالکل بے سدھ سی نکلی. ڈاکٹر علی نے پریشان ہوئے بغیر اسے تھاما اور الگ کمرے میں لے جا کر ایک مخصوص مشین پر لٹا دیا، جس کے اوپر ایک ہیٹر اور پیچھے کی طرف آکسیجن سلنڈر اور موٹر نما کوئی چھوٹی سی مشین لگی تھی. عرفان اس کمرے کے دروازے میں لگے چوکور شیشے سے اندر جھانک رہا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ اس کی بچی کی قسمت میں کیا لکھا ہے. نیلی پڑی بچی سانس بھی نہیں لے رہی تھی..

ڈاکٹر علی نے فوراً مشین پر لگا ٹائمر آن کیا اور ساتھ کھڑی نرس کو کہا کہ سکشن مشین آن کرے. ساتھ ہی پیچھے لگی موٹر چل پڑی. اس دوران ڈاکٹر علی بچی پر لگا مواد صاف کر چکے تھے اور سٹیتھوسکوپ سے بچی کی دل کی دھڑکن بھی چیک کر لی تھی. انہوں نے ایک نالی بچی کے منہ میں ڈالی اور عرفان نے گدلا سا ریشہ موٹر سے لگی شیشے کی بوتل میں جاتے دیکھا. چند سیکنڈ کے اندر منہ کی صفائی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جلدی سے ایک پلاسٹک کا گول سا غبارہ نما آلہ پکڑا جس کے آگے ماسک جیسی چیز لگی تھی. نرس نے اس کے ساتھ آکسیجن کی نالی جوڑی اور ڈاکٹر علی نے ربڑ کا ماسک بچی کے ناک اور منہ پر رکھ کر غبارے نما حصے کو دبایا. عرفان سمجھ گیا کہ یہ مصنوعی سانس ہیں جو اس کی بیٹی کو دی جا رہی ہے.

اسے اپنی سانس سینے کے اندر کہیں پھنستی ہوئی محسوس ہوئی. ساتھ ہی اسے گاؤں والوں کی نصیحتیں یاد آنے لگیں کہ جو بھی ہو ہسپتال نہ جانا. پر جب اس نے دیکھا کہ بچی کا رنگ اب سرخی مائل ہو گیا ہے اور اس نے حرکت بھی شروع کر دی ہے تو اسکی جان میں جان آئی. اسے جتنی دعائیں اور وظائف یاد تھے، سب پڑھ ڈالے. کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر نے وہ بیگ اور ماسک ہٹا لیا اور آکسیجن والی نالی بچی کے نتھنوں میں لگا دی. بچی اب خود سے سانس لے رہی تھی، ٹانگیں بازو چلا رہی تھی، بلکہ رو بھی رہی تھی. ڈاکٹر نے ایک بار سر تا پیر اسکا مکمل معائنہ کیا، نرس کو بچی کا وزن کرنے کو کہا، فائل میں نوٹس لکھے اور پھر باہر آ کر مسکرا کر عرفان کو مبارکباد دی.

’’مجھے پتہ ہے کہ آپ پریشان ہیں اور بہت سے سوال آپ کے ذہن میں کلبلا رہے ہوں گے. پر تسلی رکھیں، آپ کی بیٹی اب خطرے سے باہر ہے، الحمدللہ. والدہ کے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اس کی طرف خون کا بہاؤ متاثر ہوا تھا جو کہ اس طرح کے کیسز میں عام بات ہے. اسی وجہ سے ہم نارمل ڈلیوری کا رسک نہیں لے سکتے تھے، کیونکہ اس صورت میں بچی کی آکسیجن سپلائی مکمل طور پر رک جاتی اور اس کی اور والدہ کی جان کو بھی خطرہ تھا. یا کم از کم بھی بچی کا مستقل دماغی نقصان تو ضرور ہو جاتا. اس ساری بروقت کارروائی کے باوجود آپ نے دیکھا کہ بچی کافی حد تک متاثر ہو چکی تھی. لیکن فوری طبی امداد سے اب ماشاءاللہ بالکل ٹھیک ہے. بس صبح تک مزید تسلی کے لیے ہم اسے نرسری میں رکھیں گے جس کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا جائے گا.‘‘

ڈاکٹر کے یہ الفاظ گویا آب حیات بن کر عرفان کے جسم میں اتر رہے تھے. اسے اچانک رانی کا خیال آیا اور ساتھ ہی اسے ڈاکٹر ناہید تھیٹر سے نکلتی نظر آئیں. ڈاکٹر علی کا شکریہ ادا کر کے وہ ان کی طرف لپکا.
’’عرفان صاحب مبارک ہو. رانی بالکل ٹھیک ہے. بی پی بھی نارمل ہو گیا ہے. بس وہ جو خون کی بوتل کا جو آپ نے بندوبست کیا تھا، وہ لا کر لگوا دیں.‘‘
’’جی، بہت شکریہ میڈم. معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو رات کے اس پہر آنا پڑا.‘‘ عرفان لجاتے ہوئے بولا.
’’ارے اس میں معذرت کی کیا بات. یہ تو میری ڈیوٹی ہے.‘‘ ڈاکٹر صاحبہ نے مسکرا کر کہا اور چل دیں.
عرفان سجدے میں گر چکا تھا کہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجی….
……..
ادھر دانی آپا نے آتے ساتھ ہی اپنی کارروائی شروع کی. اندر سے پہلے تو ملکہ کی آوازیں آتی رہیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، ان میں کمزوری آتی گئی. گھنٹے پر گھنٹا گزر رہا تھا اور باہر عمران بےچینی سے ٹہل رہا تھا. جب فجر کی اذانیں شروع ہو گئیں پر اندر سے کوئی خبر نہ آئی تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پردہ اٹھایا اور اندر گھس گیا.
’’ارے کیا بےصبری ہے. کچھ شرم کرو..‘‘
دانی آپا بولی.
لیکن اندر کا منظر دیکھ کر عمران کی سٹی گم ہو چکی تھی. ملکہ نیم بےہوشی کی حالت میں نڈھال پڑی تھی جبکہ ارد گرد کی چادریں خون سے ایسے بھری تھیں گویا کسی کو وہاں ذبح کر دیا گیا ہو. اور بچے کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے.
عمران کو اور تو کچھ نہ سوجھا، فوراً جیب سے موبائل نکالا اور عرفان کا نمبر ملانے لگا.
عرفان نے جیسے ہی صورتحال سنی، فوراً ایمبولینس لے کر گھر پہنچا، ملکہ کو ڈالا اور ہسپتال پہنچ گیا. ڈاکٹر صاحبہ ابھی ہسپتال میں ہی تھیں.
انہوں نے ملکہ کی حالت دیکھتے ساتھ ہی سارے عملے کو ادھر ادھر دوڑانا شروع کر دیا.
تھا اور باہر عمران بےچینی سے ٹہل رہا تھا. جب فجر کی اذانیں شروع ہو گئیں پر اندر سے کوئی خبر نہ آئی تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پردہ اٹھایا اور اندر گھس گیا.
’’تم آکسیجن لاؤ، تم ڈرپ لگاؤ، تم بی پی دیکھو، تم شوگر چیک کرو… خون کا گروپ کیا ہے….. کیا کہا؟!!…. کبھی چیک ہی نہیں کروایا؟!!….اچھا بھاگ کے یہ سیمپل لے کر بلڈ بنک جاؤ اور او نیگیٹو خون لے کر آؤ… جلدی جاؤ، میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ تمھی اس کے شوہر عمران ہو نا؟‘‘
سب کی دوڑیں لگوا کر ملکہ کو تھیٹر میں شفٹ کر کے آپریشن شروع کیا گیا. چند ہی منٹوں میں ایک موٹا تازہ بچہ نکال کر ڈاکٹر علی کے ہاتھ میں پکڑا دیا گیا.

وہ اسے پہلے کی طرح سائیڈ روم میں لے گئے. لیکن اس بار تقریباً 20 منٹ بعد برآمد ہوئے تو بچہ ان کی گود میں تھا، منہ میں ایک نالی ڈلی تھی جو اسی بیگ کے ساتھ جڑی تھی جو پہلے عرفان کی بچی پر استعمال ہو چکا تھا اور اب اس کے ذریعے نرس مسلسل مصنوعی سانس دے رہی تھی. اور پھر تقریباً دوڑتے ہوئے وہ دونوں اسے نرسری میں لے گئے جہاں جاتے ساتھ ہی بچے کو وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا.
آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر علی تھکے ماندے نمودار ہوئے تو عمران ان کی طرف بے چینی سے لپکا. لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ڈاکٹر علی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے ساتھ آنے کو کہا. اپنے کمرے میں لے جا کر انہوں نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا اور پھر گویا ہوئے،
’’دیکھیں عمران صاحب! میرے پاس کوئی بہت اچھی خبر نہیں ہے. اصل میں بچے کی والدہ کو حمل کے دوران شوگر ہو گئی تھی جس کا بروقت پتہ نہ چل سکا. اس کی وجہ سے ان کے رحم میں پانی کی مقدار بھی زیادہ ہوگئی اور بچے کا سائز بھی ضرورت سے زیادہ بڑھ گیا جسے شاید آپ لوگ صحت کی علامت سمجھتے رہے. کم از کم ایک الٹرا ساؤنڈ ہی ہو جاتا تو مسئلے کا اندازہ ہو جاتا. اب 11 پاؤنڈ کے بچے کی نارمل ڈلیوری کہاں ممکن تھی پر دائی گھنٹوں زور لگواتی رہی. اس دوران بچے کی خون اور آکسیجن کی سپلائی بھی متاثر ہوئی اور بچے نے ماں کے پیٹ میں ہی پاخانہ بھی کر دیا. یہاں پہنچ کر جب بچہ باہر آیا تو نیم مردہ حالت میں تھا. میں نے مصنوعی سانس دے کر اور دل کا مساج کر کے اور کچھ دواؤں کے ساتھ اللہ کے حکم سے دل کی دھڑکن کو تو رواں کر دیا ہے پر بچے کا اپنا سانس بالکل نہیں. اس کے علاوہ سانس کی نالی کی اندر تک صفائی کے باوجود کچھ نہ کچھ اس کے پاخانے کے ذرات اس کے پھیپھڑوں میں جا چکے ہیں. اس پر مستزاد یہ کہ والدہ کی شوگر کی وجہ سے اس کے دل میں سوراخ بھی ہے. اب بچہ وینٹی لیٹر پر ہے. اور یہ بھی آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آج وینٹی لیٹر فارغ تھا ورنہ ہاتھوں سے مسلسل بیگ ماسک کے ذریعے مصنوعی سانس دینا بڑا تکلیف دہ عمل ہے.. بہرحال ہم اپنی پوری کوشش کریں گے. آپ دعا کریں…‘‘

عمران کو یہ سب کچھ سن کر اپنی دھڑکنیں اتھل پتھل ہوتی محسوس ہوئیں.
اچانک اسے ملکہ کا خیال آیا. وہ فوراً تھیٹر کی طرف دوڑا تو دیکھا تقریباً پورا گاؤں اکٹھا ہو چکا تھا. پتہ لگا کہ عرفان نے خون کے لیے سب کو بلایا ہے. ملکہ کا خون بہت زیادہ بہہ چکا تھا اور اس وقت تشویشناک حالت میں آئی سی یو میں تھی. پانچ بوتلیں خون کی لگنے کے بعد اب کہیں جا کر بلیڈنگ کو فرق پڑا تھا. عمران کی تو گویا دنیا ہی اندھیر ہو چکی تھی. اسے رہ رہ کر عرفان کی باتیں یاد آتیں اور ایک پچھتاوا تھا کہ اسے کھائے جا رہا تھا. ملکہ کی حالت سدھرتے دس دن لگ گئے. ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں سے اس کی جان تو بچ گئی تھی پر سوکھ کر ڈھانچہ بن چکی تھی.

ادھر نرسری میں ان کا بیٹا ابھی تک زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا. پندرھویں دن خوش خبری ملی کہ وینٹی لیٹر سے اتار لیا گیا ہے اور اب خود سے سانس لے رہا ہے. اس دوران عمران نے دیکھا کہ نرسری میں ایک بچہ پیدائشی تشنج کے ساتھ بڑی سیریس حالت میں ایک تاریک کونے میں انکیوبیٹر کے اندر اکڑا پڑا ہے. وجہ یہ تھی کہ والدہ نے حمل کے دوران تشنج کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے، اور دائی نے ڈلیوری کے دوران صفائی کا خیال نہیں رکھا. کئی ایک بچے پیدائشی معذوریوں کے ساتھ تھے جن کی الٹرا ساؤنڈ نہ کروانے کی وجہ سے بروقت تشخیص نہ ہو سکی؛ کسی کے سر میں پانی تھا، کسی کی کمر پر پھوڑا تھا، کسی کے پاؤں ٹیڑھے تھے. پھر کچھ بچے وہ تھے جو وقت سے پہلے پیدا ہو گئے تھے. ان میں سے بھی کئی وہ تھے جو احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیے جانے کی وجہ سے ایسے تھے کیونکہ پورے حمل میں کسی ڈاکٹر سے رابطہ ہی نہیں کیا گیا تھا. اور عمران کے بچے جیسے تو کئی بچے تھے جو دائی، ایل ایچ وی یا کسی عطائی کی لاپرواہی کا خمیازہ دماغ کے مختلف درجے کے نقصانات کی صورت میں بھگت رہے تھے. ان میں سے، عمران کے بیٹے سمیت، اکثر کو جب دورے پڑتے تو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا. بالآخر پورے ایک ماہ بعد بچے کو چھٹی ملی. لیکن بیچارہ پانچ کلو کا بچہ اب سوکھ کر ڈھائی کلو کا رہ گیا تھا اور یرقان کے علاج کے لیے لگنے والی شعاؤں سے رنگ بھی سیاہ پڑ گیا تھا….

اب بھی عمران کبھی اسے جھٹکوں کی وجہ سے رات گئے ہسپتال لے کر بھاگ رہا ہوتا ہے، کبھی نمونیے کی وجہ سے، کبھی الٹیاں لگ جاتی ہیں تو کبھی خون کی کمی. دو سال کا ہونے کے باوجود ابھی تک گردن بھی نہیں سنبھال پاتا تو بیٹھنے، چلنے بولنے کا تو سوال ہی کیا. اور سر کا سائز اور دماغی عمر محض دو ماہ کے بچے جتنے ہیں. باقاعدہ فزیوتھراپی نہ کروائیں تو ٹانگیں اور بازو اکڑنے لگ جاتے ہیں. دل کا علاج الگ سے چل رہا ہے. ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ جب تک کم از کم دس کلو کا نہیں ہوتا، اس کا آپریشن نہیں ہو سکتا..

ادھر عرفان کی بیٹی پورے گاؤں میں بھاگتی پھرتی ہے، اپنی عمر سے بڑی باتیں کرتی ہے، اور سب کو ہنساتی ہے. پورے گاؤں کی رونق ہے.
عمران چڑچڑا اور اداس رہتا ہے اور جو بھی ملتا ہے اسے یہی کہتا ہے کہ،
’’یار! بیوی کے حمل میں اس کا باقاعدہ چیک اپ بڑی ڈاکٹرنی سے کروانا اور بچہ ہسپتال میں ہی پیدا کروانا جہاں اس کی پیدائش کے وقت بچوں کا ڈاکٹر ضرور موجود ہو.. ورنہ:
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو….!!‘‘

Comments

FB Login Required

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

Protected by WP Anti Spam