میں ہندو ہوں، شرابی نہیں - سعید بن عبد الغفار

بھائی اس کولر میں پانی ہے؟ کیا میں پانی پی لوں؟
ہاں ہاں بھائی! کیوں نہیں؟ یہ پانی پینے کے لیے ہی تو ہے.
یہ سنتے ہی وہ لڑکا جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہوگی، گلاس لے کر غٹاغٹ دو گلاس پانی پی گیا، اور تشکر آمیز نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے گلاس واپس رکھ ہی رہا تھا کہ ایک زور دار تھپڑ سے وہ جامد و ساکت اور گنگ رہ گیا، میں بھی سناٹے میں آگیا ، پورے وجود پہ جیسے چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔

یکلخت ایک چنگھاڑتی آواز سنائی دی: تم باگڑی ہو! ہندو اور غیر مسلم ہو، تمہارے لیے وہ الگ گلاس رکھا ہے نا؛ اس والے سے کیوں پیا؟ ہمارے گلاس کو تم نے گندا کر دیا؛ اس لڑکے سے زیادہ شاک مجھے لگا کیونکہ تھپڑ لگانے والا کوئی اور نہیں، میرا وہ دوست تھا جو اس دکان کا مالک تھا، اور جہاں وہ کولر ثواب دارین کی نیت سے رکھا تھا، اب معلوم نہیں کہ وہ گناہ سمیٹ رہا تھا یا نیکیاں؟

ڈبڈباتی آنکھوں سے شکوہ کناں نگاہیں جیسے مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا میں جانور سے بھی بدتر ہوں؟ کہ جب گائے بھینس پانی میں منہ لگا لے تب بھی اتنا غصہ نہیں کیا جاتا، جتنا وہ اس وقت سہ رہا تھا، کپکپاتے ہونٹ، لرزتی ہکلاتی زبان اور رندھے ہوئے لہجے میں بمشکل وہ یہ کہہ سکا کہ بھائی! وہ والا گلاس بہت ہی گندا اور میلا ہے، اور یہ شاید اس کی دوسری غلطی تھی، کیوں کہ اس کا جواب ذرا اور اونچی آواز میں آیا، ’’تو تم کون سے اچھے ہو، شرابی، میلے،گندے اور خنزیرکھانے والے۔‘‘
’’نہیں نہیں، میں ہندو ہوں شرابی نہیں، ہم تو ماس، مچھلی بالکل نہیں کھاتے اور میں تو مسلمانوں والا ہی کھانا کھاتا ہوں‘‘۔

یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا لیکن میرے لیے سوچ کا ایک دروازہ کھول کر گیا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ میرے دوست کے پاس اتنی ایمانی غیرت ہے کہ برتنوں میں بھی چھوت چھات کا لحاظ کر رہا ہے، کیوں کہ کچھ ہی عرصہ پہلے ایک وڈیرہ جب اس سے ملنے آیا تو اسے انھی برتنوں میں کھانا پیش کیا گیا جو وہ گھر میں استعمال کیا کرتے تھے، اور اس وڈیرے کی آنکھوں کے حلقے صاف چغلی کھا رہے تھے کہ وہ مے نوش ہے۔ مگر شاید کلمے کی برکت سے اس کے منہ کی نجاست طہارت میں بدل گئی تھی، اور لباس کی تراش خراش اور نام نے لگتا ہے اس کے سارے پاپ دھو دیے تھے، اور پاکی کے سارے معیارات پورے کر دیے تھے، جبھی تو دونوں پر ردِعمل مختلف تھا۔

اپنے آپ سے الجھتا سوچتا رہاکہ میرے نبیﷺ نے تو اپنی پہلی دعوتِ توحید کا آغاز ہی جن غیرمسلموں سے کیا تھا، وہ تو پکے شرابی کبابی تھے۔ ان کو کھانے کی دعوت پر بلایا تو کیا ان کے جانے کے بعد استعمال شدہ برتن توڑ دیے، یا ان کے لیے الگ برتنوں کا انتظام کیا تھا؟ یہ نفرت اور حقارت کے سمندر کہاں سے مستعار لیے گئے ہیں؟ میرے محبوبﷺ کا اسوہ تو ہرگز یہ نہ تھا، وہ تو غیر مسلم کی لاش کا احترام کر کے کھڑے ہو جایا کرتے تھے، یہ اسی نبیﷺ سے محبت کا دم بھرنے والے کیسے لوگ ہیں؟ جو زندہ و متحرک، دھڑکتے دل کے ساتھ، سانس لینے والے وجود سے نفرت کو مذہب کی آڑ لے کر سندِجواز بخشتے ہیں۔

اور اب برسنے کی باری میری تھی۔
’’بھائی! آپ نے اچھا نہیں کیا؟ قرآن و حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ غیرمسلم کے استعمال کرنے سے برتن ناپاک ہوجاتے ہیں؟ اپنی خود ساختہ شریعت سے کیوں معاشرے کی چولیں ہلا رہے ہو؟ اگر اسلام کے اچھے داعی نہیں بن سکتے تو برے سفیر تو مت بنو۔ شریعت میں شراب حرام ہے جو وہ ہندو ہو کر نہیں پی رہا، پھر بھی وہ گندے سے مٹی کے گلاس کا استعمال کرے گا، اور یہ وڈیرے حرام نوشی کر کے بھی کانچ کے صاف ستھرے گلاس کے حقدار ٹھہرے. اسلام کے اولین دور سے لے کر قرونِ وسطیٰ تک مجھے تو اس طرح کا کوئی فقہی مسئلہ نظر نہیں آیا. سوچو! اگرآپ کے اور میرے جیسے مسلمان یہاں تبلیغ کرنے آتے تو شاید یہاں ایک بھی مسلمان نظر نہ آتا۔ میرے بھائی! ہم سندھ کے رہنے والے ہیں جہاں پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت پائی جاتی ہے۔ اس دھرتی کی مٹی میں محبت بسی ہوئی ہے جسے اسلام کی بارش نے سوندھی سوندھی سے خوشبو میں ڈھال دیا، اسے بدبودار نہ کرو، آپ کے اور ہمارے رویے ہماری پہچان ہیں، اپنی پہچان مسخ نہ کرو ورنہ روزِقیامت اللہ پاک کے سامنے حاضر ہو کر حضور پاک ﷺ کی نظروں کا سامنا کیسے کر پاؤگے؟‘‘
آخری بات سن کر اس کی آنکھوں میں ننھے منے سے جگنو نظرآنے لگے جو اس بات کی وضاحت تھی کہ وہ دل سے اپنی حرکت پر پشیمان بھی ہے اور دکھی بھی، اور بالآخر اس نے معافی مانگ کر میرا دل بھی جیت لیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com