کیا ناچ گانا مسلم ثقافت ہے؟ سید معظم معین

جامعہ پنجاب میں ہونے والا واقعہ دو طلبہ گروپوں کی لڑائی تھا جو بعض طلبہ کے ناچ گانے کا پروگرام کرنے اور جمعیت کے اسے روکنے کی وجہ سے پیش آیا۔ جس کے بعد بعض طلبہ نے جمعیت طالبات کے پروگرام پر ہلہ بول کر اسے تہس نہس کر دیا۔ اس واقعے پر ہمیشہ کی طرح ہر طرف سے درعمل آیا اور ہر طبقہ فکر نے اپنے اپنے انداز میں اس پر اظہار خیال کیا۔ یہ واقعہ پہلا واقعہ نہیں تھا مگر اس سے بہت سی باتیں کھل کر سامنے آئیں۔ عام حالات میں جن باتوں کا پتہ نہیں چلتا خصوصی حالات میں ان پر سے بھی پردہ ہٹتا ہے۔

خاص واقعات بہت سے کرداروں کی اصلیت بے نقاب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں ہم رقص و موسیقی اور اس کے ہماری ثقافت کا جزو ہونے یا نہ ہونے پر یا اس کے حلال و حرام ہونے پر بات نہیں کریں گے کہ علمائے کرام اس موضوع پر رہنمائی کر سکتے ہیں۔ مسلمان کی زندگی دلیل سے عبارت ہوتی ہے اور دلیل قرآن و سنت سے لائی جاتی ہے۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ ناچ گانے کے مسلم ثقافت کا حصہ ہونے کی دلیل کیا ہے؟ موسیقی کو بعض علماء نے زیادہ سے زیادہ مباح قرار دیا ہے مگر کیا اسے اپنی ثقافت اور پہچان بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا ایک مسلمان معاشرے میں کوئی ایسی ناپسندیدہ چیز جس کا شائبہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے دور میں نہ تھا، کیا کوئی مسلمان معاشرہ اسے اپنی فخریہ ثقافت قرار دے کر زبردستی اسے معاشرے میں فروغ دے سکتا ہے۔ دلیل پر لکھنے جید علمائے کرام جناب مفتی منیب الرحمن، ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اور جناب ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہندومت کی وسعت قلبی کے پروپیگنڈے کی حقیقت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایسے میں لبرلز کا جو کردار سامنے آیا، وہ بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ طالبات کے پروگرام پر حملے کو نظر انداز کر کے سارا زور اپنے نظریاتی مخالفین کی کردار کشی اور ہجو میں صرف کیا گیا۔ خواتین کے حقوق کا نعرہ بلند کرنے والے طالبات کے پروگرام پر حملے کی مذمت نہ کر سکے۔ بعض لبرل جو عام حالات میں درمیانی صف میں کھڑے ہونے کا دعوی کرتے ہیں وہ ایسی ایسی لا یعنی پوسٹیں کرتے پائے گئے جو ناقابل حد تک غیر معیاری تھیں۔ مثلاً ایک معروف صحافی جو لبرلز اور اسلام پسندوں کی صف کے درمیان ہونے کا تاثر دیتے ہیں، وہ یہ کہتے پائے گئے کہ ہم رقص و سرود کو پسند کرتے ہیں، ہم ناچنا گانا چاہتے ہیں، ہم ہولی اور دیوالی منانا چاہتے ہیں، ہم انجیل کے گیت گانا چاہتے ہیں، جو نہیں پسند کرتے وہ ملک چھوڑ دیں۔ ایسے تاثرات لبرل طبقے کے لبرل ازم کو بے نقاب بھی کرتے ہیں کہ جو دوسروں کو تحمل اور برداشت کا سبق دیتے نہیں تھکتے، وہ خود کتنا تحمل رکھتے ہیں، نیز اس سے ان کے فہم دین کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

عرصہ ہوا لاہور کے ایک نجی کالج میں ہونے والے کنسرٹ میں بھگدڑ مچنے سے نصف درجن سے زائد طالبات جاں بحق ہو گئی تھیں۔ کیا اس کے بعد تعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی۔

ثقافت وہ ہوتی ہے جس پر قوم کے تمام افراد فخر کرتے ہیں اور اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے معاشرے میں عام افراد ناچ گانے اور رقص و موسیقی پر فخر کرتے ہیں اور اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟
کیا ناچ گانا مسلم تقافت کا حصہ ہو سکتا ہے؟
کیا صحابہ کرام اور مسلم علما و فقہا اس کے قائل رہے ہیں؟
کسی چیز کے مباح ہونے اور ثقافت کا جزو ہونے میں کیا کوئی فرق ہے؟
کیا گارنٹی ہے کہ صاف شفاف رقص کے دعوے سے شروع ہونے والی رقص و سرود کی محفلیں فحش مجرموں اور شراب و کباب کی محفلوں پر منتج نہیں ہوں گی؟

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

علمائے کرام کو ان سوالوں پر عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے کہ جب تک ان معاملات پر دلیل سے بات نہیں ہو گی اور کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جائے گا، ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.