کہانی کا راجا اور بوڑھا ملنگ - محمد زبیر قلندری

جیسے ہی ملاح نے چپو دریا میں ڈالا، کشتی ایک ہچکولے سے چل پڑی. یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا. ابّا جان گاؤں میں اپنے ایک دوست کو ملنے آئے تو مجھے بھی ساتھ لے آئے. دوست کا گھر دریا کے پار تھا!میں کچھ خوف اور کچھ دلچسپی سے کشتی کو پانی کا سینہ چیرتے دیکھ رہا تھا. اچانک سواریوں میں ایک شخص (جس کا حلیہ کسی ملنگ سے کم نہ لگتا تھا) نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کر دیا..
میرے بھائیو اور بہنو! میں آج آپ کو ایسی کہانیاں پیش کرنا چاہتا ہوں جسے پڑھنے کے بعد آپ کہانی کے اس کردار سے زندگی میں ایک بار ضرور ملیں گے، جس سے آپ سب سے زیادہ نفرت یا پیار محسوس کریں گے.
کشتی میں موجود کچھ لوگ بڑی دلچسپی سے اس ملنگ بابا کی باتیں سن رہے تھے اور کچھ یوں بیزار نظر آ رہے تھے جیسے یہ ان کے لیے روز کا معمول ہو. ان دنوں میں ایسی عمر میں تھا جب بچے ٹارزن، چڑیلوں اور پریوں جیسی کہانیاں شوق سے پڑھتے تھے. میری توجہ اب کشتی کے بجائے اس بوڑھے ملنگ پہ زیادہ مرکوز ہو گئی.
میرے ساتھیو! صرف دو روپے میں کہانی کے کردار، آپ کی حقیقی زندگی میں آجائیں، ہے ناں عجیب بات!!!
برخوردار پڑھو گے، لے دوں؟ ابا جان نے مجھے متجسس دیکھ کے پوچھا.
ارے باؤ جی! یہ تو بہروپیا ہے بہروپیا، روز ایسی ڈرامے بازیاں کر کے اپنی کہانیاں بیچتا ہے. ملاح نے ابّا جان کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا.
کوئی بات نہیں بھائی صاحب، دو روپے کی کیا بات ہے...
یہ کہہ کر ابّا جان نے ایک کہانی مجھے لے دی.

یہ ایک مختصر سی کہانی ظالم راجہ اور اس کی کنیز نوری کے گرد گھومتی تھی. قصہ مختصر وہ کہانی پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں راجہ سے شدید نفرت اور نوری کے لیے ہمدردی محسوس ہوئی، جسے راجہ اپنے ساتھ شادی نہ کرنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے. اس وقت ذہن کچا تھا اور یہ کہانی دماغ میں نقش ہو گئی. اس کے بعد میں نے بڑے بڑے ادیبوں کو پڑھا مگر وہ مختصر سی کہانی دماغ کے ایک کونے میں جوں کی توں رہی..گزرتے وقت کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں نے ایسا جکڑا کہ باوجود کوشش کے میں مطالعہ سے بالکل دور ہوگیا. پڑھنے سے زیادہ زندگی میں اور بہت سی چیزیں اہم ہو جاتی ہیں.

اس کے بہت برسوں بعد کی بات ہے جب میری پوسٹنگ ایک دیہاتی ایریا میں ہوئی تھی. جہاں کے گھنے جنگل میں اشتہاری ڈاکوؤں کا پورا گینگ چھپا ہوا تھا. اس بار ان کا قلع قمع کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا. اس کے لیے اضافی نفری اور جدید اسلحہ بھی فراہم کیا گیا تھا. بطور انسپکٹر اس مہم کو سر کرنے کے لیے میں بہت پرجوش تھا. ہمارا ایس ایچ او لطیف کھوسہ پورے سٹاف کے لیے سر درد بنا ہوا تھا. وہ صرف اپنی سنتا کسی اور کے معقول مشورے کو رد کرنا فرض عین سمجھتا. میں تو کیا ہر کوئی اس سے نالاں رہتا.

پولیس فورس نے پورے جنگل کو گھیرے میں لے رکھا تھا. ڈاکوؤں کے پاس کھانے پینے کا راشن تیزی ختم ہوتا جا رہا تھا ہم سب پرامید تھے کہ بغیر خون خرابے کے ڈاکو بہت جلد ہتھیار ڈال دیں گے. اس دوران ایک نوجوان لڑکی ڈاکوؤں کے چنگل سے بھاگ کے ہمیں ملی، جسے اسی مشہور گینگ نے اغوا کیا ہوا تھا، اب جب انھیں اپنی جان کے لالے پڑے تو وہ اس لڑکی سے غافل ہو گئے اور وہ موقع پا کر فرار ہو کر ہمارے پاس آگئی. اس کی حالت کافی خراب تھی جگہ جگہ سے کپڑے پھٹے ہوئے تھے. میں اسے ایس ایچ او کھوسہ کے پاس لے گیا.

ہاں بی بی کیا نام ہے کہاں سے تعلق رکھتی ہو؟ اس نے روایتی انداز میں پوچھا.
جی میرا نام سجل ہے اور پیار سے سب مجھے س... سجو کہتے ہیں، لڑکی کافی سہمی ہوئی تھی..
اس کے بعد جو اس نے بتایا، وہ یہ تھا کہ کہ وہ ہوسٹل میں رہتی ہے، ایک دن گینگ کے سربراہ نے اسے دیکھ لیا، اور اغوا کروا لیا، ایک ہفتے سے وہ ان کی قید میں تھی، جیسے ہی انھوں نے اسے اغوا کیا اسی دن پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا. اپنی ٹینشن میں انھوں نے اسے کہا تو کچھ نہیں مگر وہ اسے چھوڑنے کو بھی تیار نہیں تھے.
میں نے محسوس کیا کہ جتنی وہ حسین ہے، اس کی آواز اس سے زیادہ سریلی ہے. لطیف کھوسہ کی آنکھوں میں حریصانہ چمک میں بآسانی دیکھ سکتا تھا.
ٹھیک ہے لڑکی کو خیمے میں لے جاؤ، ذرا اپنا حلیہ ٹھیک کر لے، کل اسے گھر بھجوا دیں گے.
اس نے ساتھ کھڑے کانسٹیبل کو کہا.
سر کل کیوں؟ آج ہی بھجوا دیتے ہیں. میں نے فوراً کہا.
تمہیں جب کچھ کہنے کے لیے کہا جائے تب اپنی چونچ کھولا کرو، لطیف کھوسہ نے مجھے قہرآلود نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا.
میں غصے میں باہر نکل آیا، مگر میرا ذہن سجو میں الجھا ہوا تھا. میں کم از کم ڈاکوؤں سے بچ کے بھاگی ہوئی اس معصوم سجو کو بھیڑیے کے چنگل میں نہیں چھوڑ سکتا تھا.
اس وقت میرے ذہن میں پچپن میں پڑھی کہانی گھوم رہی تھی.
واقعی وہ ملنگ صحیح کہتا تھا. کہانی کے کردار میری حقیقی زندگی میں اس وقت میرے سامنے تھے. ایس ایچ او لطیف کھوسہ مجھے ظالم راجہ اور سجو نوری محسوس ہو رہی تھی. کھوسہ کی فطرت کو جانتے ہوئے میں اچھی طرح سمجھ سکتا تھا کہ اس نے سجو کو کل بھجوانے کا فیصلہ کیوں کیا ہے.

شام ہوتے ہی میں نے کھوسہ پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی. آدھی رات کو ایک ہیولا سا کھوسہ کے خیمے میں جاتا دیکھ کے میں ٹھٹھک گیا. پھر دو سائے لڑکی کے خیمے کی طرف بڑھنے لگے، رات کے اندھیرے میں میں انھیں پہچان تو نہیں سکا، مگر غالب امکان یہی تھا کہ یقیناً کھوسہ اور اس کا کوئی مددگار ہوگا.
میں نے پسٹل اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خاموشی سے ان کا پیچھا کرنے لگا..
اس وقت میں خود کو راجہ اور نوری کی کہانی کا ایک کردار سمجھ رہا تھا.
ابھی میں خیمے کا پردہ دھکیل کے اندر جانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک میرے سیل پہ کھوسہ کا نمبر آنے لگا، میں نے حیرت اور پریشانی میں اس کا فون ریسیو کیا. دوسری طرف ایس ایچ او کی بہت زیادہ گھبرائی ہوئی آواز آئی... سنو! مغرب کی طرف جو پولیس نے گھیرا ڈالا ہوا ہے، اس جگہ کو خالی کرنے کے آرڈر کرو جلدی... لگتا تھا ایس ایچ او بہت مشکل سے بات کر رہا ہے.
میں اچانک بدلتی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ فون میں وہی مترنم آواز گونجی..
ہیلو ڈئیر! اپنے ساتھیوں کو فورا آرڈر دو ورنہ تمھارے سر کی کھوپڑی اڑانے میں مجھے ایک سیکنڈ کا ٹائم نہیں لگے گا. آواز میں اب بھی بلا کا سحر تھا.
فرقان خدا کے لیے کچھ کرو ایس ایچ او کی گٹھی گٹھی آواز آئی.
میرے تو ہاتھ پاؤں حقیقت میں پھول گئے.
میں نے فورا سپیکر میں مغرب کی طرف سے گھیرا ہٹانے کا اعلان کیا.
وہ نرم و نازک سی حسینہ کھوسہ کے سر پر پستول رکھے ایک ہزار پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے ساتھیوں کو فرار کرا کے لے گئی.
دوسرے دن ایس ایچ او کی لاش ہمیں دریا کے کنارے پڑی ملی.
کہانی والا بھوت تو رات کو ہی اتر گیا تھا، ہاں البتہ ملاح کے جملے کانوں میں بار بار گونج رہے تھے.
باؤ جی! اس کا اعتبار نہ کرنا، یہ بہروپیا ہے بہروپیا.

واقعی زندگی میں ہمارا سامنا کچھ ایسے بہروپیوں سے ضرور پڑتا ہے جو ہمیں صرف اپنی ضرورت کے کردار میں ڈھال لیتے ہیں اور ہم صرف ایک کہانی بن کے رہ جاتے ہیں.