چراغ سب کے بجھیں گے - ریحان خان

تین چار سال قبل ک معاملہ ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کا پروگرام ہونا طے تھا۔ لیکن اجلاس سے کچھ دنوں ہی قبل ایک مکتب فکر کے کچھ ذمہ داران نے ممبئی پولیس سے رابطہ قائم کرکے اس پروگرام میں اڑچنیں پیدا کیں اور پروگرام ردّ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس پر کسی نے تبصرہ کیا تھا کہ شیطان کچھ خاص مواقعوں پر بہت زیادہ خوش ہوا تھا۔ مثلاً اس روز جب آدم علیہ السلام کو جنت سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا اس کے بعد جب حرمین شریفین میں چار مصلّے بچھے اس دن بھی شیطان بہت خوش تھا۔ رضا اکیڈمی کی کوششوں سے آئی آر ایف کا پروگرام رد کیا جانا بھی شیطان کے لیے بہت خوشی کا دن تھا۔ اس دن ہی کچھ اہل ایمان کے اخلاص سے ذاکر نائک اور ان کا فاؤنڈیشن حکومت کی زد میں آچکا تھا۔ اس کے بعد آئی آر ایف پر پابندی لگی اور آج ذاکر نائک کی املاک بھی ضبط ہوگئیں جو درحقیقت اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی املاک تھیں۔ آئی آر ایف اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی چلاتا تھا۔ ان تعلیمی اداروں کی ملکیت اتنی ہوسکتی ہے اور اسے کسی منی لانڈرنگ کے معاملے سے مربوط نہیں کیا جاسکتا۔ جس نہج پر آئی آر ایف کی املاک کو ضبط کیا گیا ہے اس سے ملک کی اسی فیصد تعلیمی اداروں پر بھی منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن ان تعلیمی اداروں اور آئی آر ایف میں یہ فرق ہے کہ دیگر ادارے مذہب کو فوکس نہیں کرتے جبکہ آئی آر ایف کے اداروں میں بنیادی فوکس ہی مذہب اسلام پر کیا جاتا تھا۔ آئی آر ایف مہاراشٹر میں سالانہ کروڑوں روپے کے اسکالر شپ میرٹ کہ بنیاد پر تقسیم کرتا تھا۔ اس میرٹ کے لیے اسکالر شپ کے امیدوار طلبہ کا تحریری امتحان لیا جاتا تھا اور اس امتحان سو فیصد سوالات قرآن سے ماخوذ ہوتے تھے۔

یہ نہایت شرم کا مقام ہے کہ اس ادارے کے خلاف اٹھنے والی سب سے پہلی آواز کسی بال ٹھاکرے یا پروین توگڑیا کی جانب سے نہیں بلکہ عاشقان رسول ہونے کے دعویدار ایک گروہ کی جانب سے اٹھی تھی۔ اس آواز پر ممبئی پولیس نے آناً فاناً الیکشن لیا اور پروگرام ردّ ہوگیا۔ مدح نبی کے متوالے آواز کے زیرو بم اور اس کی میٹھی راگنی میں مست ہوگئے اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے خلاف غیر رسمی حکومتی کاروائیوں کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بعد ایک اور شرمناک مقام مسلمانان ہند کے حصے میں آیا جب ایک مکتب فکر کی جانب سے دوسرے مکتب فکر کو داعش سے مربوط کرتے ہوئے پابندی عائد کردینے کی گزارش کی گئی۔ اس پابندی عائد کرنے کی گزارش تو قبول نہیں ہوئی لیکن ایوان کج کلاہ میں ایک عالمی صوفی کانفرنس کا انعقاد ضرور ہوا جس میں تمام صوفی و سالک امید لطف لیے بابجولاں شریک ہوئے۔ اس صوفی سمیلن کے بعد بھی حالات نارمل ہی رہےکہ ایک دن بنگلہ دیش میں ہوئی ایک دہشت گردانہ کارروائی کا مجرم فیس بک پر ذاکر نائک کا فالوور نکلا۔ ایجنسیوں کے لیے وہ سنہرا موقع آں موجود ہوا تھا جس کی تاک میں وہ عرصے سے تھیں۔ کسی مجرم کا کسی مشہور شخصیت کا فالوور ہونا اس مشہور شخصیت کو کیوں کر خاطی بنا سکتا ہے یہ تو حکومت ہند ہی بتا سکتی ہے۔ طرہ یہ کہ وہ حملہ آور فیس بک پر بالی ووڈ اداکارہ شروتی حسن کو بھی فالو کرتا ہو۔ لیکن اس جرم میں صرف ذاکر نائک کو مربوط کرنا ایک خاص منصوبے کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس وقت ذاکر نائک کے صرف فیس بک پر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور ان فالوورز میں سے کسی کی غیر قانونی حرکت یا شدت پسندی کی ذمہ داری ذاکر نائک پر کیوں کر عائد ہوسکتی ہے؟

بندشوں کے اس سلسلے کا یہاں اختتام نہیں ہوا ہے۔ آئی آر ایف پر پابندی کے بعد مسلم حلقوں کی جانب سے زبانی جمع خرچ کے بعد پایا جانے والا اطمینان پابندیوں کے اس سلسلے کو مہمیز کریگا۔ کل کلاں جمیعت العلماء بھی اس کی زد میں آسکتی ہے کیونکہ وہ ملک میں دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں گرفتار ہوئے مسلم نوجوانوں کی جانب سے قانونی جنگ لڑتی ہے۔ اس سے قبل کے یہ افتاد دیگر ملی تنظیموں پر آئے اس کا تدارک کرنا ہوگا۔ تدارک ایک شکل یہ بھی ہے کہ مسلم لیڈران بالخصوص ذاکر نائک اور آئی آر ایف کے دفاع کے لئے قانونی جنگ لڑیں۔ یہی ایک طریقہ ہے جس سے دیگر ملی تنظیموں کو محفو کیا جاسکتا ہے ورنہ
میں آج زد پہ ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */