سیکولرازم لادینیت کی ایکویشن - ڈاکٹر غیث المعرفہ

لادینیت

ویسے ایک ایکویشن بنانے میں کیا ہرج ہے
اس بات پر سیکولرز احباب بھی کھچے کھچے رہتے ہیں، سیکولرازم کو لادینت کہہ لو، یہ ویسا ہی جوش ایمانی دکھاتے ہیں جیسا کہ ہمارے عام مسلمان ناموس رسالت ﷺ پر دکھاتے ہیں، کلمہ کے ورد کریں گے اور دعویٰ کریں گے ہمیں جنت کا اوپر والا درجہ ملے گا۔
یہی نہیں اسلام پسند بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں جب ان کے سامنے دیوبند کے سیکولرسٹوں اور رجب طیب اردگان کو رکھ دیا جاتا ہے، وہ جی دیکھے باہر سے وہ بے شک ہیں، آپ ان کا اندر تودیکھیں، وہ جو کہتے رہیں مگر ہیں تو اسلام پسند ہی۔
دیکھو بھائیو۔ بات سادہ سی ہے۔ میرا سوال دونوں نہیں چاروں اطراف سے ہے۔
کیا سیکولرازم انفرادی نظام ہے؟ کیا یہ فرد بارے کسی چیز کا تعین کرتا ہے؟
ڈکشنریز ہی نہیں سیکولرازم پرمستند غیر مستند جو مرضی کتاب دیکھ لو کہیں نہیں لکھا ملے گا کہ ہاں سیکولرازم فرد کے مذہب اور عقیدے کا تعین کرتا ہے۔
سیکولرازم مذہب اور عقیدے کو انفرادی معاملہ قرار دیتا ہے۔
سیکولرازم اجتماعی نظریہ ہے۔ اجتماعی زندگی بارے اس کا فیصلہ ہے کہ وہ "لادین" ہو گی۔ مطلب وہ کسی بھی دین کو اختیار نہیں کرے گی۔
یہ بات صرف ڈکشنریز ہی نہیں دنیا جہان کے کسی چلاک ترین سیکولر سے پوچھ لیں کہ کیا ایسا کوئی سیکولرنظام ہے جہاں کسی بھی مخصوص عقیدے یا مذہب کو کسی عمرانی معاہدے میں جگہ دی جائے۔ منفی تو کجا وہ مذاہب کے مثبت کردار کا بھی انکار کرے گا۔ کندھے اچکائے گا فوراً کہے لا، لا، لا دینا۔ "وہ دیکھیں جی۔۔۔" کی بات ثانوی ہیں۔ وہ سیکولرازم کے نظام میں کسی بھی دین کو جگہ دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ اب بتائیے لادین کا مطلب اور کیا ہوتا ہے؟
دو باتیں طے ہو گئیں
فرد بارے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
سیکولرازم اجتماعی زندگی میں لادینیت کا نظریہ ہے۔
آپ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سیکولرازم کو لادینیت کہہ سکتے ہیں اور اس چیز کا سیکولرز بھی بُرا نہیں منائیں گے اگر وہ واقعی ہی سیکولرز ہیں۔ اگر کوئی سیکولر سیکولرازم کو لادینیت نہیں سمجھتا تو اسے مسلمانیت کے بجائے پہلے اپنی سیکولرپسندی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
باقی رہ گیا فرد۔ جو مسلمان ہو کر سیکولرازم پر یقین رکھتا ہے چہ جائیکہ اس کی وجوہات کوئی بھی ہو۔
فرد بارے تعین کرنا کافی مشکل کام ہے۔ ابھی وہ انفرادی زندگی میں مسلمان بھی ہے اور اجتماعی زندگی میں لادین بھی ہے۔ میری طالب علمانہ رائے یہ ہے اس لحاظ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دراصل سیکولر فرد ایک درمیانی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ اجتماعی زندگی کو تو لادین کر دیتا ہے لیکن انفرادی زندگی میں دین کو ساتھ رکھتا۔ جتنے امکانات اس کے پاس یہ ہوتے ہیں کہ کسی دن انفرادی دین کا عکس اس کی اجتماعی زندگی میں نظر آنا شروع ہو جائے گا اتنے ہی امکانات یہ ہوتے ہیں اجتماعی زندگی میں دین کو کالعدم قرار دے کر کسی دن انفرادی زندگی میں بھی دین کو غیر ضروری سمجھ بیٹھے۔
رجب طیب اردگان اولین کیفیت سے گزر رہے ہیں، وہ انفرادی طور پر اس قدر مضبوط اور طاقتور اسلام پسند ہیں کہ اس کا عکس ان کے اجتماعی کردار پر بھی نظر آتا ہے۔ اس بات کا وہ علی اعلان اظہار بھی کرتے ہیں کہ فرد کبھی بھی سیکولر نہیں ہو سکتا۔ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے کہ یا تو وہ مسلمان ہوگا یا پھر کافر۔ پھر انہوں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ ایک مسلمان صدر ہیں اس لیے اسلام کے لیے لڑیں گے۔ دوسری طرف اگر ایک سیکولر قرآن مجید کی صریح ممانعت کے باوجود شراب پیتا ہے، سور کھاتا ہے اور کوئی اس انگلی اٹھائے تو اسے انفرادی زندگی میں دخل اندازی قرار دیتا ہے تو دراصل وہ اپنی انفرادی زندگی کو بھی لادین بناتا جا رہا ہے اور اس میں اتنی ہمت نہیں کہ مسلمانوں کے سامنے اس کا اقرار کر سکے۔
پس ایکویشن یہ بنتی ہیں
فرد= اجتماعی زندگی + انفرادی زندگی
پہلی صورت
فرد= لادین + دین/لادین
دوسری صورت
فرد= دین + دین
پس ثابت یہ ہوا کہ فرد تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن سیکولرازم اپنے تمام تر پہلوؤں میں لادینیت ہی ہے-

Comments

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈاکٹر محمد غیث المعرفہ

ڈی وی ایم، ایم فل جینیات۔ 2012ء سے بلاگنگ سے وابستہ ہیں۔ اسلام، سائنس، جدید رحجانات اور عالمی اسلامی تحریکیں پسندیدہ موضوع ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.