گونگے لوگ، بولتی دیواریں--- محمد مبین امجد

میرا جواب "وہاں کے تو لوگ بھی گونگے ہیں جبکہ یہاں دیواریں بھی باتیں کرتی ہیں"۔ سن کر میرا بیٹا ہنس دیا تھا کیونکہ اسے میری یہ منطق سمجھ نہیں آئی تھی اور سمجھ آ بھی کیسے سکتی تھی کہ وہ ایک نئے دور کا پنچھی تھا جس کے ابھی نئے نئے پر نکلے تھے اور نہیں جانتا تھا کہ اپنے آشیانے کی کیا وقعت ہے۔۔؟ ٹھیک ہے وہ بلند سے بلند اڑان بھرنا چاہتا تھا مگر اس کا یہ مقصد تو نہیں کہ انسان ہواؤں میں اڑ کر اپنی زمین کو چھوڑ دے اور بے شک جو ایسا کرتا ہے وہ انتہائی بیوقوف ہے، وہ پڑھا لکھا جاہل ہے اور یہ بات مجھے میری ماں نے تب کہی تھی جب میں بھی اونچے سے اونچا اڑتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنا چاہتا تھا، مگر ماں کے کہنے پہ رک گیا تھا۔ مگر شاید یہی ناآسودہ خواہش جو میرے اندر تھی وہ جینز بن کر میرے بچوں کو منتقل ہو گئی تھی۔۔۔ شاید اسی لیے میں ان کو چاہ کر بھی نہ روک سکا اور پہلے ایک نے اپنی زمین چھوڑی اور ہواؤں میں اڑنے لگا پھر دوسرے نے بھی پہلے کی پیروی کی۔

شاید اس مایا میں اس قدر کشش اور قوت ہے کہ جسم میں دوڑنے والے مائع (خون) کی کشش اس کے آگے ماند پڑ جاتی ہے۔ ساری زندگی میں نے یہیں اسی ملک میں بسر کی کیونکہ یہ ملک ہمارے پرکھوں اور آباؤاجداد کی قربانیوں کی بدولت معرض وجود میں آیا ۔ اور اسے بنانے میں ہمارے بڑوں نے اپنی جانیں تک لٹائیں ، ہماری کتنی ہی بہن بیٹیوں کی عزت لوٹی گئی اور کئیوں نے تو عزتیں بچانے کے لیے اپنی جانیں تک قربان کر ڈالیں ، ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو نیزوں کی انیوں پہ اچھالا گیا، گویا اس ملک کی بنیادیں ہمارے بزرگوں کے خون سے اٹھائی گئیں۔ گوکہ یہ باتیں پہلے دن سے نصاب میں شامل رہی ہیں اور ہر نوجوان کی طرح میرے پڑھے لکھے بچے بھی ان باتوں کا علم رکھتے تھے، مگر ۔۔۔

مگر کتابوں میں پڑھ لینا اور تھااور خود ان مناظر کو دیکھنا اور تھا۔۔۔ اورشاید اسی لیے میرے بیٹے اس وطن کی قدر نہیں کر سکے کہ انہوں نے بس کتابوں میں پڑھا تھا ، اور شاید میری ماں اور ان کی دادی ان جیسے پڑھے لکھوں کو ہی جاہل کہا کرتی تھیں۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ اس دن سرکاری چھٹی تھی شاید تئیس مارچ کی۔۔۔ میں اپنی سٹڈی میں تھا جب وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے باہر سے بہت اچھی آفر آئی ہے اور میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس ملک میں اپنا ٹیلنٹ ضائع نہیں کر سکتا۔ ۔۔ جانے وہ اور کیا کچھ کہتا رہا مگر میرے ذہن میں صرف اس کی یہی بات گونجتی رہی کہ میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس ملک میں اپنا ٹیلنٹ ضائع نہیں کر سکتا۔۔۔ یونہی بے دھیانی میں میری نظر باہر لان پہ پڑی تو مجھے حیرت کا ایک جھٹکا لگا کہ لان میں روز اپنی خوش آواز میں گانے والا پرندہ سر نیہوڑائے چونچ پروں میں دیے خاموش بیٹھا تھا، شاید بیمار تھا اور مجھے لگا کہ وہ نہیں بلکہ میں بیمار ہوں، مجھے باہر تکتے ہوئے جانے کتنا سمے بیت گیا کہ میرے بیٹے نے میرا ہاتھ ہلایا اور میں لاشعور سے شعور میں آگیا۔ اور میرے ذہن میں پھر اس کی بات گونجنے لگی کہ میں اس ملک میں اپنا ٹیلنٹ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔

میں نے اسے پوچھا کہ بیٹا مجھے بتا رہے ہو یا مجھ سے اجازت لے رہے ہو اور اتنا پوچھنے میں ہی میرا سانس پھول گیا۔۔ وہ کہنے لگا کہ ابا اس طرح کے موقعے زندگی بار بار نہیں دیتی ، اگر مجھے اتنی اچھی آفر مل ہی گئی ہے تو پلیز مجھے جانے دیں۔۔ ابا انکار مت کرنا پلیز۔۔۔ گوکہ میں پہلے کے بعد دوسرا بیٹا کھونا نہیں چاہتا تھا ، مگر اس کے اصرار کے آگے بند نہ باندھ سکا، اور اسے روک نہ سکا۔ اور مجھ سے بات کرنے کے صرف تین دن بعد وہ چلا گیا۔ برسوں بیت گئے ہیں اس بات کو مگر مجھے لگتا ہے وہ ابھی آجائے گا ، جیسے بچپن میں سکول جاتا تھا اور پھر واپس بھی آجاتا تھا، مگر۔۔۔

اس نے جانے کی خوشی میں لان میں ایک پارٹی دی تھی جس میں رشتے دار اور اس کے یار بیلی آئے تھے، اس دن لان کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا رنگ برنگی لائٹیں لگائی گئی تھیں ہر طرف ہاؤ ہو کا شور تھا، کھانا تھا اور پینا تھا ہر کوئی خوش تھا مگر میرے اندر اداسی اور دکھ نے ڈیرے ڈال رکھے تھےاور شاید اسی وجہ سے لان میں پھولوں کے رنگ اڑ چکے تھے اور پورا لان بلیک اینڈ وائٹ منظر پیش کر رہا تھا اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ پرندے جب ہجرت کر جائیں تو باغ اجڑ جاتے ہیں اور پھر جن پرندوں کی سرشت میں ہجرت ہو وہ جاتے سمے نہیں دیکھتے کہ تنکہ تنکہ کر کے بنائے گئے اس گھونسلے پہ کیا بیتے گی۔۔؟ میرے بیٹے کو جانا تو تھا ہی مگر شاید جاتے جاتے بھی کچھ رسم الفت نبھانا چاہتا تھا کہنے لگا ابا آپ بھی میرے ساتھ چلیں نہ، یہاں اکیلے کیا کریں گے۔۔؟

میرا جواب "وہاں کے تو لوگ بھی گونگے ہیں جبکہ یہاں دیواریں بھی باتیں کرتی ہیں"۔ سن کر میرا بیٹا ہنس دیا تھا کیونکہ اسے میری یہ منطق سمجھ نہیں آئی تھی اور سمجھ آ بھی کیسے سکتی تھی کہ وہ ایک نئے دور کا پنچھی تھا جس کے ابھی نئے نئے پر نکلے تھے اور نہیں جانتا تھا کہ اپنے آشیانے کی کیا وقعت ہے۔۔؟ اور اس بات کو جانے کتنے برس بیت گئے ہیں، میرے بیٹے وہاں گونگوں کے دیس میں بستے ہیں ، اور وہاں رہ کر وہ بھی گونگے ہو چکے ہیں، جبکہ میں یہاں دیواروں میں رہتا ہوں اور یہ دیواریں مجھ سے بات کرتی ہیں، میرا دل لبھاتی ہیں مگر مجھے لگتا ہے ان دیواروں میں رہ کر میں بھی ایک دیوار بن چکا ہوں جو کسی بھی لمحے ڈھے جائے گی۔۔!

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.