پاک بھارت تعلقات میں تجارت کا کردار - پروفیسر جمیل چودھری

ایک لمبی سرحد رکھنے والے دونوں پڑوسیوں کے مابین آجکل مکمل خاموشی ہے۔ اس خاموشی کو فائرنگ اورجوابی فائرنگ ہی توڑ رہی ہیں۔ اس سے پہلے کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات ہوتے رہتے تھے۔ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے تھے۔ ان مذاکرات کے بارے نشتند وگفتند و برخاستند والا محاورہ درست محسوس ہوتا تھا۔ اگر مذاکرات نہ سہی تو بیک ڈور ڈپلومیسی تو کہیں گئی نہ تھی۔ مشرف دور کے بعد ان کے حامیوں نے شور ڈالا کہ ہم نے خفیہ ڈپلومیسی سے کشمیرجیسا مشکل مسئلہ تقریباً حل کرلیاتھا۔ اس پر کتابیں تک لکھ ڈالی گئیں۔ کرکٹ ڈپلومیسی اور ثقافتی روابط سے بھی سکوت ٹوٹتا رہتا تھا۔ آج کل تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ مودی کے آنے سے پہلے ہی بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے تزویراتی دوست بن چکے تھے۔ پاکستان کی بات بھارت پہلے بھی کم سنتا تھا۔ امریکی دوستی کے بعد اب بھارت سمجھتا ہے کہ پڑوسی کی بات سننا قطعی ضروری نہ ہے۔ جامع مذاکرات کی بحالی کو اب واحد سپر پاور کا پارٹنر وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔

پاکستان بھارت جھگڑوں کا مستقبل کیا ہے؟ دنیا میں کوئی بھی اس کے بارے میں قطعیت سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ کافی عرصے پہلے ممبئی حملہ کی وجہ سے مذاکرات منسوخ ہوگئے تھے۔اور ہمارے وزیر خارجہ کو دہلی سے بہت جلدی میں واپس آنا پڑا تھا۔ ماضی قریب میں پٹھانکوٹ اور اوڑی کے الزامات نے بات مزید بگاڑ دی۔ دونوں واقعات سے حکومت پاکستان کاکوئی تعلق ثابت ہی نہیں ہوا۔جھگڑوں اور مسائل کو اب تقریباً پون صدی ہونے کو آرہی ہے۔جمود ٹوٹنے میں نہیں آرہا۔کشمیر،سیاچن تو پہلے ہی مسائل تھے۔اب سندھ طاس معاہدے کے بارے یکطرفہ دھمکیاں دیکر بھارت نے حالات کو مزید نازک بنادیا ہے۔ہمارے دریاؤں پر بننے والے ڈیموں پر توبات ہوتی رہتی ہے۔اب بھی مذاکرات کادور لاہور میں ہونے والا ہے۔دونوں ملکوں میں گرما گرمی گھٹنے کی بجائے اب مزید بڑھتی نظر آتی ہے۔بھارت نے Sergical Strikes کے جھوٹے دعوے بھی کیے لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ ایسی بھڑکوں کو پاکستانی بہادر افواج نے دلائل کے ساتھ مسترد کر دیا۔

پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات نارمل نہیں ہیں۔ لاہور اور سیون شریف دھماکے کے بعد افغانستان سے تجارتی راستے بند کردیے تھے۔ حالات مغربی سرحد پر بھی معمول کے مطابق نظر نہیں آتے۔ بھارت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان پر مغرب سے بھی دباؤ بڑھایا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت سالہا سال سے جاری ہے لیکن ڈیورنڈ لائن کو افغانستان بھی سر حد ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ بھارت کے بڑے پیمانے پر تعاون کے بعد اب افغانستان بھی بھارت جیسا سخت رویہ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ان دونوں سے تعلقات نارمل کرنا اب وقت کی ضرورت ہے۔ افغان راستے تو اب بتدریج کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ بھارت کے ساتھ حالات کو ٹھنڈا رکھنا بھی ضروری ہے۔

پاک بھارت تجارت تقریباًہر دور میں کبھی کم اور کبھی زیادہ جاری رہی ہے۔ اور حالات کو نارمل رکھنے میں اپنا کردار اداکرتی رہی ہے ۔تجارت کو مکمل بندش کادورانیہ 1965ء سے 1974ء تک ہے۔ بعد میں دونوں ملکوں نے تجارتی راستے کھولے۔ ایک مسئلہ MFN کی حیثیت کا ہے۔ عالمی تجارت کو کنڑول کرنے والا ادارہ W.T.O چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک آپس میں کھلے عام تجارت کریں۔ ٹیرف اور نان ٹیرف پابندیاں ختم کر دیں۔ ایک ملک نے کسی دوسرے ملک کو جو تجارتی سہولتیں دی ہوں، اس کا اطلاق سب کے لئے ہو۔ یہW.T.O کے دور کی Demandsہیں۔ دنیا کے تمام ممالک تجارت کے راستے کی پابندیاں ختم کرتے جارہے ہیں۔ اس لئے گزشتہ 2دہائیوں میں عالمی تجارت کا حجم بھی کئی گنا بڑھا ہے۔ بیرونی تجارت کو اب Talk of the worldکہاجانے لگا ہے۔ اس پس منظر میں بھارت نے 1996ء میں ہی پاکستان کے لئے MFN کی حیثیت کا اعلان کر دیا تھا۔ جواب میں بھارت بھی پاکستان کی طرف سے ایسے ہی اعلان کا منتظر رہا۔ لیکن بھارت کے ساتھ پاکستان کے بڑے اہم اور بنیادی جھگڑے ہیں۔ مشرف جیسا آمر بھی اپنے دور میں بھارت کے لئے Most Favoured Nation (صرف تجارت کے لئے پسندیدہ قوم) کا اعلان نہیں کرسکا۔ پاکستانی سرکاری قیادت اور عوام کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اگر ہم نے بھارت کو MFN کی حیثیت دے دی تو ہم آئندہ مسائل پر گفتگو بھی نہیں کرسکیں گے۔ لیکن اس حیثیت کا تعلق جیسا کہ ماہرین بھی بتاتے ہیں صرف اور صرف تجارت کرنے سے ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں کابینہ نے اجلاس میں ایک دفعہ بھارت کے لئے ایسی حیثیت کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن عمل درآمد کے راستے میں اتنی رکاوٹیں تھیں کہ فیصلے کو صرف کاغذوں تک ہی محدود رکھنا بہتر سمجھا گیا۔ سیکیورٹی اور دفاع کے ادارے بھی بھارت جیسے ملک کے لیے یہ اعلان سننے کے لیے تیار نہیں۔ کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ یہ اعلان پلٹن میدان ڈھاکہ (سابق مشرقی پاکستان) میں ہتھیار پھینکنے سے بھی زیادہ تباہ کن ہوگا۔ جب دو ملکوں کے درمیان فضا دشمنی کی ہو تو پھر تجزیے بھی ایسے ہی ہوں گے۔ تجارت دونوں کے فائدے کے لئے ہوتی ہے۔ 25 سال پہلے جب ایک مطالعہ کے حوالے سے حکومت کو تجویز دی گئی کہ بھارت سے تجارت دونوں یعنی عوام اور حکومت دونوں کے لئے فائدہ مند ہوگی۔ تب بھی حکومت ایک لابی سے خوف زدہ تھی اور بڑے پیمانے کے بجائے تجارت محدود ہی رہی

۔ تجارتی تنظیموں کی رائے بھی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ کی رائے کے مطابق تجارت کا حجم بہت جلد کئی گنا بڑھ جائے گا۔ صارفین اور حکومت دونوں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ دوسرے کہتے ہیں کہ پاکستان کی کمزور اور چھوٹی صنعت بھارتی اشیاء کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ ایک بات ایسی تنظیموں کی درست بھی معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان خام مال اور نیم تیار شدہ اشیاء (Semi Finished Goods) برآمد کرتا ہے۔ ایسی اشیاء کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کو تجارت میں خسارہ رہتا ہے۔ بھارت پاکستان روایتی تجارت اگرچہ اب چھوٹے پیمانے پر ہو رہی ہے لیکن اس سے اب بھی پاکستان کو خسارہ ہوتا ہے۔ غیر روایتی تجارت (بذریعہ دبئی) میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔ بھارت کی4 ارب ڈالر کی اشیاء اب بھی بالواسطہ طور پر پاکستان میں آ کر فروخت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی بھارت کو برآمدات اب بھی70 کروڑ ڈالر سالانہ سے نہیں بڑھتی۔ پاکستان کی معیشت ہی بھارت سے چھوٹی ہے لہذا تجارت میں بھی یہ فرق قائم رہے گا۔ اس خسارے کے باوجود ایک کام دونوں ملکوں کے عوام کے لیے فائدہ مند نظر آتا ہے کہ جو تجارت اب دبئی کے راستے ہو رہی ہے، اسے بلاواسطہ Direct)) کر دیا جائے۔ اشیاء کے نرخ کافی کم ہوجائیں گے۔ پاکستانی اور بھارتی عوام کو دونوں ملکوں کی اشیاء سستی دستیاب ہوں گی۔ آخر پاکستانی صنعت کب تک تحفظات کے سہارے چلتی رہے گی؟ ہوسکتا ہے کہ تجارت، سیاسی مذاکرات کی بحالی کا بھی ذریعہ بن سکے۔ دونوں ملک تجارت کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے دیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */