منیلا میں چند روز - نورین تبسم

فرار سدا سے انسان کی جبلت ہے۔ یہی فرار ہے جس نے انسان کو خُلد سے نکلوایا اور یہ جبلت ہی تو ہے جو بچے کو ماں کی کوکھ سے جلد از جلد باہر آنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔سات سمندروں کا سفر کس کا خواب نہیں ہوتا۔ دُنیا میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر شخص اپنے پاؤں میں پہیے لے کر پیدا ہوتا ہے اور ہمارے وطن میں تو ویسے ہی کچھ باقی نہیں سوائے ہمارے جسمانی وجود کے، وہ بھی جو ہوا کی زد پہ ٹمٹماتے دیے کی مانند ہے۔ مہنگائی سے لے کر کرپشن تک اور انفرادی سطح پر زیادتی سے اجتماعی طور پر ناانصافی تک، ماحول سے معاشرے تک، کہیں بھی تازہ ہوا میں سانس لینے کی ذرا سی گنجائش نہیں۔ یہ ہم سب کے دل کی آواز ہے اورثبوت کے طور پر آنکھیں جابجا اس کے نظارے دیکھتی ہیں۔

ایسی ہی پُکار اُس لڑکی کی بھی تھی جو برسوں سے باہر کے کسی ملک جانے کی خواہش لیے بیٹھی تھی۔ قسمت نے یاوری کی اور اللہ نے چاہا کہ اُسے اُس کے خواب کی اصلیت ایک بار تو دکھا دی جائے۔ خواب سے حقیقت تک کے اس سفر میں نہ صرف اس نے ایک نئی دنیا دریافت کی بلکہ اپنے وطن اوراس کی نعمتوں کا بھی ادراک ہوا۔

وہ ایک کانونٹ اسکول کی معلمہ تھی۔گرمیوں کی تعطیلات کے دوران کانونٹ کی تاریخ میں پہلی بار اپنی اساتذہ کے لیے فلپائن میں ایک گیارہ روزہ تعلیمی سیاحتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جاتے وقت جانے والے اور لے جانے والے دونوں بہت پُرجوش تھے۔ کانونٹ کی سسٹرز یہاں پاکستان میں اپنی اساتذہ کو بہت عزت دیتی ہیں اور اپنے ملک میں لے جانا اور وہاں کی ثقافت سے روشناس کرانا تو اُن کے لیے بہت ہی قابل ِفخر بات تھی۔ روانگی سے لے کر واپسی تک کا سارا شیڈول جانے سے ایک ماہ پہلے ہاتھ میں تھما دیا گیا اور باقاعدہ لیکچر دے کر ہر بات کی وضاحت کی گئی۔

اساتذہ کا یہ گروپ جس میں ہر عمر کی خواتین تو تھیں، لیکن اُن میں ایک قدر مشترک تھی، اپنی مرضی سے اپنی دُنیا سے باہر آزاد فضا میں سانس لینے کی خوشی۔ دس گیارہ گھنٹے کے سفر اور دو جہاز بدلنے کے بعد اپنے مقررہ مقام پر پہنچے تو رہائش سے لے کر کھانے تک نہایت عالیشان وی آئی پی ٹریٹمنٹ منتظر تھا۔ پاکستانی عورت خواہ وہ گھر پر کام کرے یا باہر کی ذمہ داریاں بھی نبٹائے، وہ اتنے پروٹوکول کا کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی۔ یہ پہلا احساس تھا جس نے روح سرشار کر دی۔ روح کی تسکین کے بعد جب پیٹ کی بھوک نے شور مچایا تو آنکھ نے انواع واقسام کے خوش رنگ کھانے میز پرسجے دیکھے۔ یہ بھی جنت کا نظارہ تھا کہ ہم خواتین جو سب کو کھانا کھلا کر اور برتن سمیٹ کر آخرمیں دیگچیاں صاف کر کے اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں۔ اپنے آپ کو معزز و محترم جانتے ہوئے دل پذیر دکھائی دیتی سجی نما روسٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو ساتھ بیٹھی دوست نے آنکھ کا اشارہ کیا ”حرام“۔ بس پھر کیا تھا سوچنے والے بڑھتے ہاتھ رُک گئے اور لذت محسوس کرنے والوں کو عجیب سی ناگواری کا احساس ہوا۔ مارے باندھے سفید چاول (خشک چاول) کھائے کہ یہ فلپائن تھا، جہاں روٹی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ تھوڑا بہت چکھ کر کمروں میں واپس آئے ہی تھے کہ سسٹر کی کال آئی ”واپس آؤ برتن سمیٹو“، یہ کیا انداز تھا؟ پہلے بادشاہوں کی طرح کھانا کھلایا اور اب برتن اُٹھانے کا کہا جا رہا ہے۔ تھکے ہارے الٹے قدموں لوٹے تو دیکھا میز کے اطراف ایک کاؤنٹر تھا جس میں استعمال شدہ چمچے، پلیٹیں، بچا ہوا کھانا اور باقی بچ جانے والی چیزوں کے لیے الگ الگ خانے بنے تھے۔ طریقے سے اپنی ٹرے کو ان جگہوں پر خالی کیا اور آئندہ کا یہ پہلا سبق ذہن نشیں کر لیا۔ آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ یہ جنت تو تھی لیکن ہم پاکستانیوں کے لیے جیل جیسے قوانین لیے ہوئے۔ وقت کم تھا اور ہر کام پہلے سے طے تھا، شروع شروع میں کچھ الجھن سی ہوئی کہ ہم پاکستانیوں کے پاس ایک آزادی کی دولت ہی تو ہے۔ لیکن پھر جلد ہی ”بندے دے پتر“ بن گئے۔ پیٹ گھڑی بہت باقاعدہ ہوتی ہے جب اس نے شور مچایا تو پتہ چلا کہ لال مرچ، دہی، روٹی اور تو اور چائے بھی اس جنت بےنظیر میں شجرِ ممنوعہ تھی، چائے کی کمی کافی سے پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے اور یا پھر”کیلا زندہ باد“۔

یہ ایک تعلیمی دورہ تھا، ہر روز تقریباً تین سکولوں میں جا کر وہاں کے سیکھنے سکھانے کے عمل کا جائزہ لینا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اپنے معلمی کے پیشے پر فخر محسوس ہوا جب ہر جگہ پُرتپاک استقبال کے ساتھ خوش آمدید کے طور پر خاص پروگرام بھی پیش کیے جاتے۔ چائے تو پورے منیلا میں شجرِممنوعہ تھی۔ کافی اور دوسرے مشروبات کے ساتھ کھانوں سے سجی میزیں خوش مزاج میزبانوں کی طرح استقبال کرتیں اورحلال حرام کے شش و پنج میں ہم میں سے اکثر پھلوں پر گزارا کرتے۔ اور پھل بھی تو قسم قسم کے تھے، ایسے جو ہم نے اپنے یہاں صرف کتابوں میں ہی دیکھے تھے۔ صرف میز پر جانے کی دیر ہوتی ہماری پسند پوچھ کر بہت اہتمام سے کاٹ کر پیش کیے جاتے۔ ایک بار تھکن سے بےحال جب متلی کی سی کیفیت پیدا ہوئی تو تازہ ہوا کی خاطر باہر جا بیٹھی۔ سسٹرکو جب ناسازی طبع کا پتہ چلا تو فوراً ملحقہ ریسٹ روم میں لے گئیں۔ وہاں نرسز نے اتنی چاہت سے دیکھ بھال کی، نرم نرم ہاتھوں سے مساج کیا، نہایت احتیاط سے جوتے اتارے۔ اتنی محبت اتنی توجہ تو کبھی اپنوں سے بھی نہ ملی تھی۔ ہمارے ہاں تو جب تک بندہ گر نہ جائے اُسے بیمار نہیں جانا جاتا اور سر درد تو محض ایک چونچل ہی سمجھا جاتا ہے۔

ایک اولڈ ہاؤس بھی گئے جو مدر ہاؤس تھا۔ یہاں مدرز نے بہت پیار سے خوش آمدید کہا۔ ہم سے باتوں کے دوران ہماری اردو کے لفظ ”خوش آمدید، شکریہ اور اللہ حافظ“ لمحوں میں یاد کر لیے۔ ہر مدر اپنے کاموں میں مصروف تھی اور بہت فخر سے اپنے بارے میں بتاتی تھیں۔ ہر چیز کی فراوانی اپنی جگہ لیکن تنہائی کا آسیب اس پُر رونق مدر ہاؤس میں پوری شان سے براجمان تھا۔ واپسی پر مدرز ”تھوڑی سی اور بات کر لیں ذرا دیر اور رک جائیں“ کہتی بہت دُکھی کر گئیں ۔ وسیع و عریض شاپنگ مالز میں گھومنا پھرنا اور پھر کھو جانا زندگی کا ایک نہ بھولنے والا تجربہ تھا۔ ہم نے بہت شوق سے جینز رکھیں کہ باہر جا کر بنا کسی روک ٹوک کے اپنی مرضی سے جو چاہے وہ پہنیں گے لیکن پھر یہ ہوا کہ جب پُرہجوم مالزمیں سب ایک دوسرے کو ڈھونڈتے اور دیار ِغیر میں کھو جانے کے خوف سے بوکھلانے لگے تو طے یہ پایا کہ اپنا لباس اپنا حجاب پہنا جائے تاکہ دور سے ایک دوسرے کو پہچانا جاسکے۔ وہ شناخت جو اپنے وطن میں بنیاد پرستی دکھائی دیتی تھی، اب انسانوں کے سمندر میں نعمت بن گئی اور تو اور آس پاس گزرنے والے رک کر پوچھتے ”انڈین“، ہم کہتے نہیں! پاکستانی۔ وہاں بھکاری اور بھیک کا تصور نہ تھا اور نہ سامان کی چوری کا خطرہ لیکن ہمیں خبردار کیا گیا کہ اپنے پرس کی حفاظت کریں، غیر ملکیوں کے بیگ اورپیسے لوٹنا یا چھیننا جسے انگریزی زبان میں سنیچنگ کہتے ہیں، عام ہے اور ایسا ہوا بھی، ہماری ایک ساتھی کے پرس سے پیسے غائب ہو گئے اور اسے پتہ بھی نہیں چلا۔

ایک نیا تجربہ، سسٹر کا آبائی گھر !!
یہ منیلا سے نو گھنٹے کی زمینی مسافت پر تھا، سسٹر نے ذاتی خرچ پر بذریعہ ہوائی جہاز اپنے گھر والوں سے ملوانے کا اہتمام کیا۔ منیلا میں بیرونِ ِملک پروازوں کے لیے الگ اور لوکل آنے جانے کے لیے علیحدہ ہوائی اڈے موجود تھے۔ سسٹر خود بھی کئی سال بعد اپنے گھر گئی تھیں۔ (سسٹرز کون ہوتی ہیں؟ جیسے مسلمانوں میں ہمارے گھر کا کوئی ایک بچہ مدرسے چلا جاتا ہے، دینی تعلیم حاصل کرتا ہے اور پھر دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح عیسائیت میں بھی ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو دین اور دنیا میں ایک توازن رکھا جاتا ہے لیکن عیسائیت میں دینی تعلیم کے بعد دنیا سے رابطہ فقط کبھی کبھار اپنے گھر والوں سے چند روز ملنے تک کا ہی ہوتا ہے۔ شادی شدہ زندگی اور عام پہناوا یہاں تک کہ لوگوں کے ساتھ زیادہ ہنسنا بولنا بھی ممنوع ہوتا ہے۔ کم عمر لڑکیاں ایک مخصوص لباس کے ساتھ سب کے سامنے سنجیدگی اور بردباری کا لبادہ بھی اوڑھ لیتی ہیں۔ ان کی معاشرتی زندگی کانونٹ تک ہی محدودہوتی ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں کر سکتی ہیں۔) سسٹر کے گھر بہت زیادہ عزت اور محبت ملی۔ سسٹر نے اپنے گھر میں اپنی والدہ کے ہاتھ سے بنے خاص کھانے کھلائے جن میں دنیا میں پائی جانے والی سب سے چھوٹی مچھلی (سیناراپان) کی ایک مہنگی ڈش بھی تھی۔ لیکن باقی کھانوں میں وہی حلال کھانے کا مسئلہ۔ اب احساس ہوا کہ جس طرح دنیا گول ہے اسی طرح ہر جذبہ بھی گول ہے، ہم محبت کو روٹی پر ترجیح دیتے ہیں۔ محبت کے خواہش مند ہوں، محبت مل جائے تو عزت کی چاہ کرتے ہیں، عزت مل جائے تو پھر بات دوبارہ روٹی پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ خیر ہم نے سسٹر کے کچن گارڈن سے نہایت چھوٹے سائزکی ڈھیروں ہری مرچیں توڑیں اورخوب مزے سے خشک چاولوں کے ساتھ کھائیں اور گھر والے کبھی ہمیں اور کبھی اپنے پُر اہتمام کھانوں کو دیکھتے تھے۔

واپسی!
پی آئی اے کی رات کی فلائٹ سے پہنچنے اور اگلی صبح دس بارہ روز کے بعد روٹی کی شکل دیکھنے اور میرے ہاتھوں کا گرماگرم پراٹھا کھاتے ہوئے یہ سب بہن کا بےساختہ اظہار تھا جسے میں نے اسی لمحے لکھ لیا، اسی لیے جب اس پورے آرٹیکل کا جائزہ لیا تو کھانا ہی سب سے بڑا موضوع دکھائی دیا اور اُس وقت بھی جب بہن نے بتایا کہ وہاں مٹی یا گرد کا نام و نشان نہ تھا، تو میں نے یہی کہا تھا... ...... ”مٹی پاؤ تےروٹی کھاؤ“۔

کہانیاں کہنے سننے کے بعد اصل مرحلہ سوٹ کیس کھلنے کا آیا۔ یہ ہماری فطرت ہے کہ محبت خلوص اپنی جگہ پر مگر باہر سے آنے والوں کے سامان کا بھی بڑے ذوق وشوق سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ لالچ کی بات نہیں، بس ایک تجسّس سا ہوتا ہے ورنہ ہمارے ملک میں دُنیا کی ہر چیز موجود ہے اور ہماری پاکستانی ذہنیت جب کسی شے کی قیمت کو اپنی کرنسی میں تبدیل کرتی ہے تو کوئی خاص فرق بھی دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ہر ملک کی خاص ثقافت اور اُس کی پہچان ہوتی ہے جو اس کی عام استعمال کی چیزوں میں نظر آتی ہے اور پھر یہ تو ایک طرح سے سرکاری دورہ تھا، اس لیے سسٹرز نے اپنے ملک کے تحائف (سوونئیر) دے کر رُخصت کیا اور ہم بھی بہت سی جگہ شاپنگ کرتے ہوئے جو مناسب لگا بھاگ دوڑ میں لیتے گئے۔ یہاں اپنی اس کمزوری کا بھی پتہ چلا جو ونڈو شاپنگ کہلاتی ہے۔ اپنے ملک میں تو وقت بھی اپنا ہوتا ہے اور جگہیں بھی اپنی۔ پہلے کئی جگہ سے تسلی کر کے پھر ہی کوئی چیز خریدتے ہیں لیکن یہاں جس جگہ ایک بار ہو آئے پھر دوبارہ وہاں جانے کا موقع ملا نہ وقت نے اجازت دی۔گھر آکر جب جائزہ لیا تو بہت سی چیزیں ہمارے ہاں کے مقابلے میں سستی لگیں، اسی طرح بہت سے تحائف ایسے اُٹھا لائے جو یہاں بھی مل سکتے تھے۔

منیلا کو مشرق کا موتی (اورینٹ آف دی ایسٹ) بھی کہا جاتا ہےاور وہاں کی خاص سوغات ”سچے موتی“ ہیں۔ خواتین اور زیور لازم و ملزوم ہیں۔ منیلا کے موتی بازار میں جا کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ بالکل اصلی سچے موتی جو دو طرح کے تھے۔ فریش واٹر اور میرین واٹر، اول الذکر ذرا کم قیمت کے تھے، لیکن اپنی کرنسی میں دیکھا تو بہت سستے لگے جیسے وہاں کے سو پیسو کی چیز ہمارے دو سو پاکستانی روپوں کے برابر تھی، موتیوں سےلدی پھندی دکانیں ہمارے بڑھتے قدم روکتی تھیں اور ہم چھوٹے بچوں کی طرح ان رنگ برنگ موتیوں کی دُنیا میں کھو جاتے تھے۔ واپس آ کر سب سے زیادہ افسوس یہی ہوا کہ اصلی خریداری تو کی ہی نہیں۔ وہ سچے موتی جن کی ہم نے وقت پر قدر نہ کی، اب رہ رہ کر یاد آتے تھے۔ یہی ہماری فطرت ہےاور المیہ بھی یہی۔ سچے موتیوں کی وقت پر قدر نہ کی جائے تو وقت کے گہرے سمندروں میں سیپ میں بند چپ چاپ کہیں کھو جاتے ہیں۔

آخری تاثر!
خواب سے حقیقت تک کے اس سفر میں ہمیں نہ صرف اپنے بارے میں بلکہ دوسروں کے بارے میں بھی بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ نوک جھونک، جھنجلانا، روٹھنا منانا اور پھر سب بھول کر گلے لگ جانا، ہمارے اس سفر کی نہ بھولنےوالی یادیں ہیں۔ اور یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ کسی انسان کی اصلیت اور اُس کے اندر کا اندر ہم کبھی بھی نہیں جان سکتے جب تک اس کے ساتھ رات نہ گزاریں یا سفر نہ کریں۔ اور اس سفر میں دن اگر خوشگوار حیرت کے مزے میں سب کے ساتھ گزرتے تھے، تو راتیں پردیس میں تنہا کسی غیرمذہب کی مقدس جگہ میں گزارنا عجیب تجربہ تھا۔ جہاں رات کے اندھیرے میں دیوار پر آویزاں اُن کی مقدس صلیب جگمگاتی اور پھر کھڑکیوں سے درختوں کو چھو کر آنے والی شائیں شائیں کی آوازیں ہمیں کسی دوست کے کمرے میں دستک دینے پر مجبور کرتیں۔ واپسی پر شاید سب کے دل کی آواز یہی تھی کہ ہم باہر سے جتنے بھی بدل جائیں، اندر سے وہی خالص پاکستانی ہیں، جن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں اور چھوٹے چھوٹےغم۔ جو لڑتے ہیں تو دل سے اور کسی پر مرتے ہیں تو بھی دل سے۔ ہمارا وطن جیسا بھی ہے ہمیں قبول ہے کہ ہم یہاں ایک نمبر شہری ہیں۔ ”پاکستان زندہ باد“

آخری بات!
اُن اجنبی، بےلوث مہربانوں کو سلام جن سے ہم شاید زندگی میں پہلی اور آخری بار ملےاور اُن سے ہمارا کسی بھی قسم کا رشتہ نہ تھا، مذہب کا نہ زمین کا، اور سب سے بڑھ کر نہ ہی مطلب کا۔ لیکن محض انسانیت کے ناطے ہمیں اتنا کچھ دے گئے کہ اُس محبت کا لمس، اُن آنکھوں کی تازگی اور بےغرض خلوص کی مہک تا زندگی ہمارے ساتھ رہے گی۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں