فیض کِسے نئیں پایا – نورین تبسم

فیض اللہ خان
تاریخ پیدائش ۔۔۔25 فروری 1968
بمقام راولپنڈی
تاریخ وفات۔۔۔6 مارچ 2015
جائےمدفن۔۔۔ ایچ الیون اسلام آباد

زندگی کا پرچہ حل کرتے وقت ہر گھڑی نئے سوال ہمارے سامنے آتے ہیں جن کے جواب جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں لیکن وقت ضرور ان کے جواب جانتا ہے۔ کبھی ہم اپنی زندگی میں کسی حد تک ان کے جواب جان جاتے ہیں، کبھی جواب کے لیے بھٹکتے پھرتے ہیں تو کبھی جان کر بھی نہیں جان پاتے۔ دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے اور محسوس کر کے بھی انجان بنے رہتے ہیں۔ شاید! اسی ”نادانی“ اسی”کم عقلی“ میں ہی ہماری بھلائی پوشیدہ ہو؟ کون جانے۔ ہماری زندگی میں خاموشی سے در آنے والے بہت سے سوالوں میں سے ایسا ہی ایک سوال وہ بھی تھا۔

فیض اللہ خان۔ ہم چار بہنوں کا ا کلوتا بھائی۔ لفظ کا رندہ بےرحمی سے چلاؤ تو ذہنی پسماندہ اور لفظ کو سلیقے کے غلاف میں لپیٹ دو تو خاص فرد۔ اسپیشل پرسن۔ یہ دو لفظ ہر طرح سے اس کی زندگی میں اس کی شخصیت پر کبھی پورا نہیں اُترے۔ برسوں سے اس کے قریب رہنے اس کی رگ رگ سے واقف ہونے کے بعد ہم بخوبی جانتے تھے کہ ذہنی طور پر وہ ہم بزعمِ خود نارمل لوگوں سے بہت آگے تھا۔ لمحوں میں کسی بات کسی اشارے کی تہہ تک پہنچنے والا۔ محبت کی نگاہ اور نفرت کے انداز کو پل میں جانچنے اور ہمیشہ کے لیے یاد میں محفوظ کرنے والا۔ اُس کی یادداشت کسی بھی عام سوچ سمجھ والے مکمل انسان سے کئی درجہ بلند تھی. سینتالیس سال کے سفر میں اسے دس برس کی عمر میں بچھڑ جانے والے رشتے یوں یاد تھے جیسے ابھی ملے ہوں۔ وہ اگر اس دنیا کے روایتی طرزفکر سے بےبہرہ تھا۔ پڑھے لکھے ڈگری یافتہ لوگوں کے بیچ ایک اُمی تھا تو ”خاص“ تو کسی طور سے کہیں بھی کبھی بھی نہ ہوا۔ تین برس پہلے تک، جنم دینے والی ماں کی زندگی میں صرف اس کے لیے، اس کے سامنے شاید خاص ہو تو ہو کہ وہ نہ صرف اُس کی ماں تھیں بلکہ صبر و برداشت کے اُس مقام پر تھیں جہاں کا سوچتے ہوئے بھی عام انسان کے پر جلتے ہیں۔ اُن کی زندگی میں وہ ہمیں کبھی نظر نہیں آیا کہ اُس کا عکس ماں کی آنکھ سے فلٹر ہو کر ہم تک پہنچتا، اور ماں کا دل دنیا کو جو منظر دِکھانا چاہے وہی دِکھتا تھا۔ یہ تو ماں کے جانے (4مارچ 2012) کے بعد پتہ چلا کہ اُنہوں نے نہ جانے کتنے پل صراط طے کرتے ہوئے امانت کا حق ادا کیا۔

ہم بہنوں نے اسے کبھی ”خاص“ سمجھا اور نہ ہی خاص ہونے کی اہمیت دی ۔وہ ہم جیسا ہی تو تھا، ہمارے ساتھ رہتا، ہمارے ساتھ سوتا، اسی لیے اس سے بات بھی ایسے ہی کرتے جیسے آپس میں ایک دوسرے سے اور اسی طور سمجھانے کی کوشش بھی کرتے۔ جب وہ سمجھتا نہ مانتا بلکہ ہنستا تو ہم بری طرح جھنجھلا جاتے۔ جیسے وہ سب جانتا ہو اور جان بوجھ کر ہمیں تنگ کر رہا ہو۔ برابری کے اس احساس میں اگر اس پرخاص توجہ نہ دینے کی خلش یا ملامت ہے تو اللہ کا شکر بھی ادا کرتے ہیں کہ مجبوری یا ترس کا عنصر بھی تو کبھی شامل نہ ہوا۔

ہم اگر سب جانتے ہوئے محض ایک ذمہ داری کی طرح اُس کا خیال رکھتے تو وہ دل سے کسی بھی غرض سے بےپروا بڑے چھوٹے سے محبت کرتا تھا، لیکن جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی، گھر میں محدود رہ کر صبح و شام کرنے سے وہ ذہنی طور پر تھکنے لگا۔ اس کی خوش مزاجی چڑچڑے پن اور غصے میں بدل گئی تھی، اور امی کے جانے کے بعد تو جیسے اس کی زندگی کا محور ہی غائب ہوگیا۔ جنم دینے والی ماں کی ڈھیروں ذمہ داریوں میں سے خاموشی سے پہلی توجہ کا مرکز اب دوسروں کی زندگی کی مصروفیات کی قطار میں سر جھکائے اپنے باری کا منتظر رہتا۔

”پچیس فروری“
ہر انسان کے لیے اس کا جنم دن خاص ہوتا ہے۔ زندگی نے چاہے اسے کچھ دیا ہو یا نہ ہو پھر بھی اس روز ہر شخص اپنے آپ اپنی ذات پر ٹھہر کر ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔ وہ اپنے سالوں، مہینوں اور دنوں کے شمار سے غافل تو تھا لیکن عید، بقرعید اور خوشی کی تقریبات سے مکمل باخبر رہتا جس کے منانے میں اس کا واحد شوق کپڑوں اور جوتوں کو سنبھال کر رکھنا اور گھر میں ہر آنے والے کو بطورِ خاص دِکھانا بھی ہوتا۔ اُس کا جنم دن خواہ کسی کو یاد ہو یا نہ ہو، امی ہمیشہ یاد رکھتیں اور اپنی ذات کی تنہائی میں اس کے لیے اہتمام بھی کیا کرتیں۔ اولاد چاہے زندہ ہو یا اپنی جھلک دکھا کر اللہ کے پاس چلی جائے، ہر ماں کے لیے اپنے بچوں کا جنم دن بہت خاص ہوتا ہے۔

”کبھی یہ دن زندگی میں ایک اذیت ناک احساس کی صورت ساری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے۔ یوں ہوتا ہے کہ وہ تصویر نہ جانے کس وجہ سے،اللہ کی کون سی آزمائش کے سبب مکمل نہیں ہو پاتی۔ ایک ادھوری تحریر کی صورت کہ نہ آغاز پر نظر اور نہ انجام کی خبر، پھر ساری عمر ان بکھرے حرفوں کو سمیٹنے میں ہی گُزر جاتی ہے،اپنے لمس سے جتنا بھی نکھار لو ،وہ تحریر کبھی مکمل نہیں ہوتی۔عمر بیت جاتی ہے وقت گزر جاتا ہے، زندگی نہیں گزرتی۔ یہ صرف ایک ماں کا ہی حوصلہ ہے جو اسے زندگی کے اس پل صراط پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔“

ساری زندگی ہم اس کے وجود کے ساتھ سوالوں کی آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔ اس کی زندگی ایک ایسا سوال رہی جس کو جتنا حل کرنے کی کوشش کرتے، اتنا ہی مشکل لگتا اور جتنا سلجھاتے اتنا ہی الجھتا جاتا۔ امی ابو کے جانے کے بعد اس کی زندگی کا جواز تلاش کرتے۔ کبھی اللہ کی نہ سمجھ آنے والی مصلحت تو کبھی آزمائش کہہ کر اِس پر پورا اترنے کی دعا کرتے۔

اللہ نے امی کی وفات کے بعد تین برس اور ابو کے انتقال کے بعد صرف ساٹھ دن کی زندگی ہی اس کے مقدر میں لکھی تھی۔مقدر؟ ہم اپنی عقلی صلاحیت سے کبھی نہیں جان سکے کہ اس کی تخلیق کا جواز کیا تھا؟ اگر وہ جنت کا مکین تھا تو دنیا میں اس کے لیے ہر طرف ناآسودگی اور بےاعتباری کیوں لکھی گئی؟ ہم میں سے کسی کو بھی اس کی پہچان نہیں تھی۔ بظاہر یہ اُس کی آزمائش تھی؟ لیکن درحقیقت یہ تو ہماری پہچان کی آزمائش تھی اور اصل حساب کتاب اللہ ہی جانتا ہے۔

”خاص“
ہاں ایک وجہ سے وہ ہم بہنوں کے لیے بہت خاص تھا کہ وہ جیسا بھی تھا، ہمارا بھائی تھا۔ اور اس بات پر ہم میں سے کسی کو بھی کبھی بھی دوسروں کے سامنے ہچکچاہٹ نہیں ہوتی تھی۔
قبر نمبر 4
پلاٹ نمبر 35
وہ ماں باپ کی وراثت اُن کے ترکے کا قانونی وارث تھا، مگر وہ زندگی بھر مال اور زمین کے فتنوں سے دور رہا۔ اگرچہ اُسے ہم زندہ انسانوں کی بھری دنیا میں اپنے نام کی تختی کی گنجائش نہ مل سکی، لیکن اللہ نے دُنیا کی زندگی میں اس کا حصہ ضرور مقرر کیا ہوا تھا، جو اُس کی آنکھ بند ہونے کے بعد ہم پر واضح ہوا۔ اسلام آباد کا گھر بننے کے بعد بارہ برس کی عمر میں سب کے ساتھ یہاں منتقل ہوا۔ پینتیس برس سے زائد کی رفاقت میں اپنے گھر کی گلی نمبر 35 اور اس کے مکینوں سےاُسے عجیب سی اُنسیت تھی۔ اگر سب اُسے جانتے تھے تو وہ بھی ہر ایک سے بڑی تمیز تہذیب سے ملتا۔ جانے انجانے سے ہاتھ بڑھا کر سلام کرنا اس کی عادت تھی۔ انجان یا خواتین سے ہاتھ ملانے کی اس عادت سے ہم شرمندہ بھی ہوتے اور اُس کو منع بھی کرتے۔ برسوں اپنی گلی میں خصوصاً شام کے وقت بچوں کو کھیلتے دیکھنا ہی اُس کی روزمرہ کی واحد تفریح تھی جس کے لیے وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوتا۔

”آگئے“
”آ گئے“، اُس کا نعرہ کہہ لیں یا تکیہ کلام کہ وہ گھر میں ہر وقت کسی نہ کسی کی آمد کا منتظر رہتا اور جب کسی کے آنے کی سُن گُن ملتی تو بآوازِ بلند ”آ گئے“ کہہ کر سارے محلے کو خبر کرتا۔ ایک لمبی رفاقت میں سب اُس کے اشارے پہچانتے تھے اور جان جاتے کہ کوئی آنے والا ہے۔ اس کی وفات کے بعد جب چھوٹی چچی قبر پر گئیں تو بےاختیار اُن کے منہ سے نکلا ۔ ”لو بھئی آج ہم آگئے“۔ پھر اُنہوں نے ہی کہا کہ اِس کے کتبے پر لکھوانا۔۔۔۔ ”آگئے“۔

آخری بات!
اللہ سے اُس کے فضل کی دعا ہے کہ وہ ہماری خطاؤں سے درگزر کرے جو اُس کے ساتھ رہتے ہوئے اُس کے حوالے سے ہم سے سرزد ہوئیں۔ وہ تو بلاشبہ جنت کا مکین تھا کہ اس عارضی سرائے کے حساب کتاب کے کھاتے میں اس کا کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔ اللہ کی رحمت اور بھائی کی محبت پر کامل یقین ہے کہ جس طرح یہاں رہتے ہوئے اور ہم سب کی اپنے اپنے ظرف کے مطابق بےاعتنائی کے باوجود وہ ہم سے بےغرض محبت کرتا تھا تو اُس ابدی دنیا میں کسی خسارے کے موقع پر اپنے پیاروں کو مشکل میں پڑنے سے بچانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam