دہشت گردی کے بیانیے - غلام نبی مدنی

اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں سائنسی ترقی اپنے عروج پر ہے۔ سائنسی ترقی کی وجہ سے انسانی زندگی میں جتنی آسانیاں آج کے دور میں ہوئیں دنیا کی معلوم تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔ چاند اورمریخ تک انسان جا پہنچا۔ مصنوعی بارشوں،مصنوعی زلزوں، مصنوعی کھیتیوں، سبزیوں، پھلوں اورمصنوعی گوشت سے لے کر انسانی و حیوانی اعضاء کے متبادل اور زمین وآسمان کی فضاؤں اور تہوں تک پرانسان نے گرفت حاصل کرلی۔ موت و حیات پر قابو پانے کے لیے زبردست کوششیں جاری ہیں۔ مشیتِ خداوندی کی وجہ سے مکمل طور پر اگرچہ قابو نہیں پایا جا سکتا، لیکن بہرحال ابتدائی طور پر بڑے بڑے ہسپتالوں اور جدید قسم کی ادویہ کی صورت اس پر کسی حد تک کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اکیسویں صدی کے سائنسی دور کے اس قدر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود آج تک سائنس دہشت گردی کے بیانیے کی کوئی واضح اور متفق علیہ تعریف کرپائی ہے، نہ دنیا کے ذہین دماغ دنیا کو کسی دہشت گردی کے کسی ایک بیانیے پر جمع کرپائے ہیں۔ ہر ملک، ہر قوم، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں دہشت گردی کا بیانیہ الگ الگ ہے۔ کہیں دہشت گردی کے بیانیے کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے تو کہیں صلیبیوں اور صہیونیوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ کہیں معصوم لوگوں پر وحشیانہ بمباری کرنے والوں کو دہشت گردی کے بیانیے کا حامل ٹھہرایا جاتا ہے تو کہیں خودکش بمباروں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، کہیں طالبان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے تو کہیں داعش کو۔ کہیں اچھے اور برے طالبان کی تفریق کرکے دہشت گردی کے بیانیے میں تبدیلی کی جاتی ہے، تو کہیں حقانی گروپ اور افغان طالبان گروپ سے مذاکرت کرکے دہشت گردی کے بیانیے میں استثناء پیداکیاجاتاہے۔ کبھی سیاسی جماعتوں کے ٹارگٹ کلرز کو دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑا جاتاہے تو کبھی عام مسلکی جماعتوں کو اس بیانیے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیکن دہشت گردی کے مروجہ بیانیے کا بغور جائزہ لیا جائے تو آج کے دور میں اسلام کو دہشت گردی کا بیانیہ سمجھا جانے لگا ہے۔ بین الاقوامی منظرنامے میں دہشت گردی کے اسی بیانیے کو زبان زد عام کروایا گیا۔ اسلام ایسے دنیا کے پرامن مذہب کے خلاف تاریخ کی یہ بدترین خیانت دراصل اسلام کے دشمنوں نے کی ہے۔ لیکن افسوس ان دشمنوں کی دیکھا دیکھی آج بہت سے مسلمان شعوری اور لاشعوری طور پر دہشت گردی کے اس مزعومہ بیانیے کو مذہبِ اسلام سے جوڑنے لگے ہیں۔ منافقت یا جہالت کا حال دیکھیے کہ یہی لوگ ڈھنڈورا پیٹتے پائے گئے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

دہشت گردی کا دوسرا بیانیہ وہ ہے جو ہمارے ہاں رائج ہے۔ حالیہ دنوں پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی جو مذموم لہر بڑھکائی گئی، بجائے اس کے کہ درندگی کرنے والے اصل عناصر کو پکڑ کر پوری قوم کے سامنے لایا جاتا اور انہیں سرعام پھانسی دی جاتی تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔ لیکن افسوس پہلے کی طرح اس بار بھی ہر مسلک، ہر فکر، ہر جماعت اور ہرادارے نے دہشت گردی کی اس مذموم لہر کو دہشت گردی کے بیانیے کے نام پر اپنے مخالفین کے سر تھونپ کر عوام کو خاموش کرا دیا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حالیہ المناک سانحات پر روٹین کے مطابق عوام کی حفاظت اور ان کی نمائندگی کا دم بھرنے والوں کے مذمتی بیانات سامنے آ گئے، زخمیوں کی عیادت کے نام پر فوٹوسیشن کر لیا گیا۔ مظلوم مرنے والوں کے لاوارث اور یتیم بچوں کو کچھ پیسے دے کر خاموش کرا دیا گیا۔ عوام کی حفاظت کرنے والوں نے پہلے کی طرح دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد چند دہشت گردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ رہی عوام تو وہ بھی روٹین کے مطابق ان سانحات کو دوچاردن میں بھول جائے گی، جبکہ حکومت گزشتہ پندرہ سالوں کے سانحات کی طرح ان سانحات کو بھی داخل دفتر کر کے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجائے گی۔

یہ ہے دہشت گردی کاوہ بیانیہ اور اس بیانیے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال جوگزشتہ دس سالوں سے ہمارے ہاں رواج پذیر ہے۔ دہشت گردی کے اس بیانیے سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری قوم، ادارے دہشت گردی کے اس بیانیے سے کس قدر واقف ہیں اور کس قدر اس بیانیے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غور کیا جائے تو دونوں بیانیوں میں فرق بس اتنا ہے کہ بین الاقوامی منظرنامے میں دہشت گردی کے بیانیے کو مذہب اسلام سے جوڑا جات اہے، جبکہ ہمارے ہاں مذکورہ تفصیل کی شکل میں وسعت دی جاتی ہے، اگرچہ کچھ بیمار ذہن ہمارے ہاں بھی اسلام اور مذہبی فکر کو دہشت گردی کے بیانیے سے جوڑتے پائے گئے ہیں۔

بہرحال دہشت گری کے دونوں بیانیوں کوسامنے رکھ کر اگر ہر قسم کی دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دینا اور ملک کو پرامن بنانا ہو تو اس کے لیے سب سے پہلا کام ہمیں اپنے نظام انصاف کو آزاد اور خود مختار کرنا ہوگا۔ بھلاجس نظام میں ایک آدمی سو سے زائد قتل کرنے کے بعد بھی زندہ رہے، جس نظام میں ٹارگٹ کلرز رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں اور پھر انہیں آنکھوں سے اوجھل کر دیا جائے، جس نظام میں سیاسی جماعت کے مشیر اور اہم عہدیدار پیسوں کے لیے مطلوب مجرموں کا ہسپتال میں علاج کرائیں، جس نظام میں منی لانڈرنگ کرنے والے کرپٹ لوگوں کے ایجنٹوں کوایمان دار افسر گرفتار کریں اور اگلے دن انہیں ابدی نیند سلا دیا جائے،جس نظام میں کرپٹ اور خائن حکمران واضح ثبوتوں کے باوجود عدالتوں سے سزا نہ پاسکیں، بتائیے ایسے نظام کے ہوتے ہوئے ملک میں دہشت گردی کے بیانیے کو کیسے شکست ہوگی۔

دہشت گردی کاایک تیسرا بیانیہ یہ ہے، جس کو کسی خاص فکر، مسلک، مذہب، زبان، قوم، قبیلہ، صوبہ، شہر اور ملک سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ دہشت گردی کے اس بیانیے کا مقصد نظام ِ عدل کا گلا گھونٹنا اورمجرموں کو سزاؤں سے بچانا ہے، جس کے نتیجے میں بدترین سانحات رونما ہوتے ہیں۔ غور کیا جائے توآج تک ہمارے ہاں دہشت گردی کے جتنے افسوس ناک سانحات ہوئے ان کے پیچھے دہشت گردی کا یہی بیانیہ کارفرما رہا۔ دہشت گردی کے اس بیانیے کو لوگوں کی نظروں سے محو کرنے کے لیے دہشت گردی کو کبھی کسی خاص فکر سے جوڑا گیا تو کبھی کسی خاص جماعت سے اس کے تعلق کو دکھایاگیا۔ نتیجتاًاصل مجرم درندگی کرنے کے بعد ہمیشہ چھپتے رہے اور عوام کو باہم لڑا کر وقتا فوقتاخون میں نہلایا جاتا رہا۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک دہشت گردی کے موہوم بیانیے کی وجہ سے خون میں لت پت ہوتے رہیں گے؟ عوام اور وطن عزیز کو پرامن بنانے کے لیے صرف ایک کام کر لیاجائے تو ان شاء اللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف ہر قسم کی دہشت گردی کا بیانیہ ختم ہوجائے، بلکہ دہشت گردی کی متنازع تعریف بھی حل ہوجائے اور وہ ہے بلاتفریق، بغیر کسی دباؤ کے فورا انصاف مہیاکرنا، مجرموں کو بغیر کسی لالچ یا دباؤ یا پسند ناپسند کی بنیاد پر کیفر کردار تک پہنچانا اور جو لوگ مسلکی یاقومی یا ملکی یا خاندانی افکار کی بنیاد پر لوگوں کو متہم کریں، انہیں کٹہرے میں لاکر ان کا احتساب کرنا۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.