آمریت کی سمت بڑھتی سیاست - ریحان خان

ممبئی میونسپل کارپوریشن سمیت مہاراشٹر کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے۔ دو کٹر پنتھی پارٹیاں ممبئی کی سب سے بڑی پارٹیاں بن کر سامنے آئی ہیں۔ بال ٹھاکرے کی شیوسینا 84 نشستوں اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی پروردہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 82 نشستوں پر قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ کامیابی نوٹ بندی کے بعد سیاسی ماہرین کی توقعات کے برخلاف بہت بڑی کامیابی ہے جس کی امید خود بی جے پی کو بھی نہیں رہی ہوگی۔

عین الیکشن سے قبل مہاراشٹر کی دو حلیف پارٹیوں کے مابین کچھ تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے بی جے پی کچھ بیک فٹ پر نظر آرہی تھی لیکن نتائج سامنے آنے کے بعد وہ شیوسینا سے محض دو سیٹ ہی پیچھے رہ گئی ہے۔ کانگریس محض 32 سیٹوں تک محدود ہوگئی ہے لیکن اس کی حیثیت ممبئی کارپوریشن میں کنگ میکر کی سی ہے۔ بی جے پی اور شیوسینا کے مابین رشتوں میں آئی دراڑ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کی مدد سے شیوسینا ممبئی میں اپنا میئر بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ کچھ جانکاروں کے مطابق ممبئی کارپوریشن الیکشن یو پی الیکشن کا ٹریلر تھا، جو بالکل غلط خیال ہے۔ کارپوریشن الیکشن اور اسمبلی الیکشن دو قطعی مختلف انتخابات ہیں۔

دو دن حقوق انسانی کے قبل بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں بین الاقوامی سیاست کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ پیش کیا گیا تھا کہ سیاستداں ایک نفرت انگیز دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے قبل ہی اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کے موضوع پر معاشرے کے دوطبقات میں نفرت کی خلیج پیدا کرنے کی کوشش سے اثبات دیا گیا تھا۔ یعنی دنیا میں ایسی سیاست فروغ پا رہی ہے جس کا مرکز و محور نفرت پر مبنی ہے۔ اور یہ سچ بھی ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ نسل پر مبنی اور "امریکہ فرسٹ" جیسے پروپیگنڈا کے زیر سایہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی صدارت پر فائز ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کے مخالف لاکھ احتجاج اور مظاہرے درست مگر وہ عوام ہی تھے جس نے ٹرمپ کے عزائم سے بحسن و خوبی باخبر رہتے ہوئے اسے قصر سفید میں جلوہ افروز کردیا۔ وہ بھی عوام ہی تھے جنہوں مسلم دشمنی پر قائم دو پارٹیوں کو ممبئی کارپوریشن الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔ گویا اس الیکشن میں رائے دہی اس بنیاد پر ہوئی کہ کس طبقے سے کون کتنی نفرت کرتا ہے۔

کیا ان حالات میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دنیا ایک ایسی سیاست کی جانب چل بڑھ رہی ہے جس میں حکمراں ک انتخاب جمہوری طریقے پر ہوتا ہے لیکن وہ حکمرانی کا انداز آمروں کا سا اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ اس کا انتخاب ایک نفرت کے تحت ہوا ہے اور نفرت کی کوکھ سے فاشزم اور آمریت جنم لیتے ہیں۔ 2014ء میں کانگریس سے نفرت پر بی جے پی کا انتخاب ہوا اور اس نے اپنے فیصلوں سے آمریت کی ایسی بدترین مثالیں قائم کیں جو خود کئی آمر نہ کرسکے۔ نسل پرستی اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر ڈونالڈ ٹرمپ کا انتخاب ہوا جس کے بعد ویزہ پابندیوں کی آمرانہ سوغات دنیا کو پیش کردی۔ بی جے پی اور شیوسینا کی بنیادیں بھی نفرت پر ہی رکھی گئی ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملے گا یہ فاشزم اور آمریت کو استحکام عطا کریں گے۔ کیونکہ ان کے لیڈران خوف، الزام تراشیوں اور تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔ پے بہ پے آنے والے نفرت پر مبنی بیانات سے یہ محسوس ہوتا ہے آمریت بنام جمہوریت کی فضا فروغ پا رہی ہے جو نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کے لیے تباہ کن ہے۔

ممبئی الیکشن کے نتائج سے واحد اچھی خبر یہ ہے کہ شیوسینا سپریمو ادھو ٹھاکرے نے بڑی کامیابی کے بعد مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کچھ دنوں قبل انہی صفحات پر ہم نے شیوسینا اور ادھو ٹھاکرے سے کچھ امیدوں کا تذکرہ کیا تھا جسے ادھو ٹھاکرے نے بڑی فتح کے بعد مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تقویت دی ہے۔ اب حقائق کیا ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ سچ ہے کہ امید ایک بہت بڑی متاع ہے جس سے دستبردار ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

(جنگ جدید، نئی دہلی)

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */