چار آنے کی مرغی اور بارہ آنے کا مصالحہ - ساجد ناموس

آنٹی کی بات سن کر میں ششدر رہ گیا تھا ، اور سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس تبدیلی پر کیا کہوں؟ آنٹی سےایک سال پہلے ہونے والی ملاقات یاد آئی، انہوں نے درخواست کی کہ میرے بیٹے نے خاندان کا نام ڈبو دیا ہے، بزنس کا بیڑا غرق کر لیا ہے، اس کو کسی طرح سمجھاؤں کہ وہ اپنی حرکتیں درست کرے اور باز آ جائے.

استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اپنے ایک دوست کے ساتھ موبائل کی شاپ چلاتا ہے جس میں دونوں پارٹنر ہیں، اور دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے، کاروبار اچھا اور کامیاب جا رہا ہے، لیکن میرا بیٹا بزنس پارٹنر کی بیوی میں ”انوالو“ ہوگیا ہے ایک سال سے، جس کی بھنک اگر بزنس پارٹنر کو پڑ گئی تو کاروبار کے ساتھ کئی خاندان تباہ ہوجائیں گے، اس لیے کسی طرح اس کو سمجھاؤ. معاملات چلتے رہے، بار بار سمجھانے کے باوجود بیٹا ”ٹارزن“ بنا رہا اور وعدے، قسمیں، قرآن پر حلف کے باوجود عملا باز نہ آیا. بالآخر حالات اس نہج پر پہنچے کہ ایک مرتبہ آنٹی نے بلایا، پہنچا تو دیکھا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، شدید غم اور اذیت سے دوچار۔کہنے لگیں، بےشرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، بندہ بےحیا ہوجائے تو اس کے نزدیک محرم رشتوں کا تقدس بھی نہیں رہتا، میں تو اب گھر پر اس کو بہنوں کے پاس چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتی. بیٹے نے باز آنا تھا نہ آیا، اور پھر اس کا خمیازہ سب نے بھگتا، کاروبار ختم، آنٹی کو تیس سال بعد لاہور سے پورے گھرانے سمیت ہجرت پر مجبور ہونا پڑا.

مگر حیرت ہوئی کہ اس واقعہ کی گرد ابھی ٹھیک سے بیٹھی نہیں تھی، جب آنٹی نے یہ بات کی کہ میرا بیٹا تو اتنا حیا والا، سمجھدار اور سلجھا ہوا ہے کہ کیا بتاؤں، جاننا چاہا کہ وہ کیسے ؟ تو بولیں کہ مجھے ایک عزیز کے گھر جانا تھا تو بیٹے سے کہا کہ آؤ چلیں تو کہنے لگا کہ ابھی نہیں جانا، گھر پر کوئی مرد نہیں ہوتا، شام کے وقت چلیں گے۔ اور بات سناتے ہوئے آنٹی جس طرح نہال ہوئے جا رہی تھیں، ایسے لگا جیسے ان کا بیٹا شاید فرشتہ ہے۔ بالکل آنٹی جیسا رویہ عوام کا سیاستدانوں اور پارٹیوں کے ساتھ ہے، عوام کو اپنے حلقے کے امیدواروں کا پتہ ہوتا ہے کہ کون بدیانت ہے، کون قبضہ مافیا ہے، کون منشیات فروشوں کا سرپرست ہے اور کون لاقانونیت کو اپنی مقبولیت کا عنوان سمجھتا ہے۔ عوام کو سب پتہ ہوتا ہے کہ کون سی سیاسی جماعت موروثی سیاست کی حامل ہے، اور کون سی جماعت کے عسکری ونگز ہیں ، کون سی چائنہ کٹنگ ، بھتہ ، اور بوری بند لاشوں کی موجد ہے، کون سی سیاسی جماعت کرپشن کے لیے اقتدار میں آتی ہے،

اور کس سیاسی جماعت کے قائدین کا بزنس حکومت میں آنے کے بعد میزائل کی رفتار سے ترقی کرتا ہے۔ سب جانتے بوجھتے عوام کا رویہ بالکل آنٹی والا ہے جس کو پتہ ہے کہ کاروبار، خاندانوں کی تباہی کی وجہ اس کا بیٹا ہے، بالکل ایسے ہی عوام کو پتہ ہے کہ ملک کی پسماندگی، جہالت اور کرپشن، اور دیگر مسائل کی وجہ ان کے نمائندے اور سیاسی جماعتیں ہیں، مسائل میں پستے ہوئے عوام ان کو کوستے رہیں گے لیکن جیسے ہی انتخابات آئیں گے، یہ عوام انھی نمائندوں اور سیاسی جماعتیں کی سب خامیوں کو پش پشت ڈال کر دوبارہ انہی کو یا انہی جیسے کردار کے حامل افراد کو منتخب کرلیں گے۔ یعنی کہ چار آنے کی مرغی پر بارہ آنے کا مصالحہ لگا کر بھی عوام کے حصے میں اچار یا دال ہی آتی ہے، کیونکہ چار آنے والوں کو بارہ مصالحوں کی عادت جو پڑ گئی ہے۔

Comments

ساجد ناموس

ساجد ناموس

ساجد ناموس دشتِ صحافت کے سیاح ہیں۔ دنیا نیوز سے بطور اسائنمنٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغ عامہ کے گریجویٹ سیاسی میدان کی خاک بھی چھانتے رہے۔ کاٹ دار جملے اور نوک دار الفاظ تحریر کا خاصہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */