عورت، نادان یا انجان – نورین تبسم

عورت اصلی پھول کی طرح ہے، نرم ونازک ،خوشبودار اور رنگین، جو اپنی چند روزہ زندگی میں مالا مال کر دیتا ہے۔ اپنے ہونے کا ثبوت اپنے وجود میں رقم کرتا، چہار سُو خوشبو بکھیرتا، احساس جگاتا ہے۔

لمس سے انجان کہ کوئی کس طور برتے۔ شہد کی مکھی کی طرح اُس کا عرق نکال کر طول و عرض میں پھیلا دے یا زردانوں کی صورت اُس کے وجود کے کلون بنا کر نسلیں آباد کرے یا طُوفان ِباد وباراں اُسے کِھلنے سے پہلے ہی اُجاڑ ڈالے۔ زمانے کی تپش کُمھلا کر اُس کا رس نچوڑ دے، کسی شاطر کی عیاری یا بےخبر کی معصومیت اُسے مٹھی میں لے کر مسل ڈالے۔
سب سے بےنیاز پھول کا صرف ایک کام ہے کھِلنا اور بےپروا کھِلنا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ پھولوں کی سیج منتظر ہے یا تازہ قبر اُس کے لمس کی متلاشی؟ کسی کی کلائی کا گجرا ہے یا جوڑے کا پھول؟ محبت کا پہلا تحفہ ہے یا عقیدت کا آخری نذرانہ؟ پتیوں کی صورت اُس کا وجود ریزہ ریزہ کر کے پہلے تھالی میں سجا کر پھر قدموں تلے روندا جائے گا یا پھر محبت کی یاد کی صورت کسی پُرانی ڈائری کے اوراق میں محفوظ کر لیا جائے گا؟

المیہ ہے تو فقط یہ کہ عورت کو اپنے مقام اپنی اہلیت اور اپنی وسعت کا احساس نہیں۔ اُس کے خیال میں چند روزہ زندگی اُس کے وجود کا حق ادا نہیں کر سکتی، وہ امر ہونا چاہتی ہے، محفوظ ہونا چاہتی ہے، بلاؤں سے وباؤں سے۔ وہ زندگی کے میوزیم میں حنوط ہو کر ”ممی“ کی طرح زمانوں کی قید سے آزاد زندگی کی تمنائی ہے۔ اُس کے اندر کا تخلیقی جوہر اُسے بےکل رکھتا ہے، وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے میں اپنی خوشبو کا یقین چاہتی ہے۔ اپنے رس کی پہچان کرانے کی ہوس نے اُسے بھکاری بنا دیا ہے، وہ گلی گلی خوبصورت پیکنگ میں عام سودا بیچنے والی سیلز گرلز کی طرح صدا لگاتی ہے۔ تلاش ِمعاش میں سرگرداں یہ کم نصیب جو تپتی دوپہروں میں دروازے کھٹکھٹاتی ہیں، اور اکثر اوقات بےتوجہی سے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں یا پھر بدقسمتی سے تماش بین راستہ روک لیتے ہیں۔

عورت خوشبو ہے اور خوشبو کبھی قید نہیں ہو سکی، اور وہ ہر ایک کے لیے یکساں ہے لیکن کم از کم خوشبو کو خود تو احساس ہو جائے کہ وہ کیا ہے۔ آج کل کی عورت خوشبو کے احساس سے ماورا ہار سنگھار کے دوسرے لوازمات سے آراستہ ہو کر شمع محفل بن کر قدم بہ قدم سفر طے کرنا چاہتی ہے۔ نہیں جانتی کہ یہ راستہ دُشوار گُزار بھی ہے اور پتھریلا بھی، جو سب سے پہلے اُس کی تازگی کا خراج مانگتا ہے اور نازکی کا رس چاہتا ہے اور پھول میں سے تازگی اور نازکی ختم ہو جائے تو فقط کاغذی وجود بچتا ہے جس کو سنوار کر ایک خوبصورت گلدستے کی صورت قیمتی گلدان میں سجا کر نظروں کو مسحور تو کیا جا سکتا ہے، لیکن دلوں کو مُسخر نہیں کیا جاسکتا۔

بصارت نہیں ”بصیرت“ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آنکھیں ”پتلی تماشا“ دیکھ کر پہلے ہی بہت تھک گئی ہیں۔ دل کی آنکھ جو دیکھتی ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے، لیکن سچ یہی ہے۔اس میں شک یا دو رائے ہرگز نہیں کہ جسمانی طور پر کمزور ہونے کے ناطےعورت کے ساتھ زیادتی، جبر اور ناانصافی ہوتی ہے، لیکن ”انصاف“ کی اس تحریک میں عورت نے خود ہی اپنے آپ کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا ہے۔ نادان عورت اپنے گھر سے باہر خود کسی کی محافظ بن گئی ہے تو کہیں اجنبی ”محافظوں“ کے سائے میں آزادی ڈھونڈ رہی ہے۔ کہیں ٹاک شوز میں بناؤ سنگھار کے ہتھیار سے آراستہ نہ جانے کس قیمت پر مخالف کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ عورت اپنا تماشا خود بنا رہی ہے چاہے وہ حکمران جماعت میں ہے یا اس کے مخالف۔ گھر سے بڑھ کر آزادی عورت کو کہیں نصیب نہیں۔ اس بحران سے ایک بات تو طے ہے کہ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ عورت کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اور بات کہ ”زن زر اور زمین“ کی پرانی کہاوت آج بھی سچی ہے اور عورت کی عقل کے بارے میں مرد کے فتوٰے بھی درست دکھتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ عورت اگر اپنے آپ کو پہچان جائے تو طوفانوں کے رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ترقی یافتہ عورت اور ان کی تنظیمیں صرف ڈھونگ ہیں۔ ایک فرار ہے گھر کی ذمہ داریوں سے اور کچھ بھی نہیں، اور یہی عورتیں عورت کو حق نہ ملنے کا رونا روتی ہیں۔ انھی کے زیراثر پڑھا لکھا مرد اپنے آپ کو ظالم تصور کرتا ہے۔ مرد ہو یا عورت فطرت کو بدلنا کسی کے اختیار میں نہیں لیکن اسے سمجھ کر اس سے سمجھوتہ کرنا زندگی گزارنے کی اصل کامیابی ہے، جو ہم اکثر اوقات بھول جاتے ہیں۔

اگر مرد اپنی قریبی اور پیاری ہستیوں کی قدر و قیمت کا احساس کرے اور غیر عورت کی ظاہری چکا چوند جو خواہ علم کی ہو یا ملبوس کی، اُس سے دور رہتے ہوئے رشتوں اور تعلقات کی اصلیت کو سمجھنے کی کوشش کرے تو اُسے بہت سے پیچیدہ سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ مرد کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ وہ ہر گھڑی اپنے فہم و شعور کو ساتھ رکھے، لمحے بھر کی بےفائدہ لذت کے لیے ہمیشہ کے گھاٹے کا سودا نہ کرے کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل بھی ہے، اعمال کا بدلہ اس دنیا میں ہی ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

حرفِ آخر
عورت بےشک ربِ کائنات کی انسانی تخلیق کی سب سے اہم اکائی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت سے بڑا مکر و فریب کا جالا اور کوئی نہیں بُن سکتا۔ اور برداشت کی انتہا کو پہنچ کر عورت کی سی سفاکیت کا مرد تصور بھی نہیں کر سکتا۔ عورت ہو یا مرد، جب تک اپنا اصل مقام اور اپنی اپنی حدود پہچانتے ہوئے فرائض ادا کرتے رہیں گے، انسان کا انسان پر اعتبار قائم رہےگا۔ اپنے آپ کو بُھلا کر ہی اپنے وجود کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ یہی عورت کا اصل امتحان بھی ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کی نفی کر کے اپنی شناخت برقرار رکھتی ہے، اور یہی اُس کی سچائی کی گواہی بھی، جو نہ صرف دیکھنے والی آنکھ کو نظر آتی ہے بلکہ خود اس کی ذات بھی تکمیل کی وہ منازل طے کرتی ہے جب ہار بھی جیت بن جاتی ہے۔

Comments

FB Login Required

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

Protected by WP Anti Spam