اب تو کچھ آداب سیکھ لینے چاہییں - فیض اللہ خان

مسجد میں نکاح تھا اور ہماری شرکت لازمی، نماز کے لیے اقامت ہوچکی تھی، تب امام صیب صف بندی کے ہدایت دیتے ہوئے بولے، جن حضرات کے پاس موبائل فونز ہیں اس کی آواز بند کردیں۔ پہلی رکعت مکمل ہوئی تو کسی کا فون بجنے لگا، عام سی رنگ ٹون تھی، تمام نمازیوں کی طرح مجھے بھی لگا کہ ابھی یہ فون تلاش کر رہا ہوگا، اب اس کا ہاتھ جیب کے پاس پہنچ چکا ہوگا، بس اب بند ہونے والا ہے، شاید بٹن غلط دب گیا، اس واسطے نہیں بند ہوا، چلو کوئی بات نہیں اب بند ہو جائے گا، لیکن فون بند ہوکر ہی نہیں دیا، یہاں تک کہ رنگ ٹون چیخ چیخ کر خود ہی خاموش ہوگیا، سب نے سکون کا سانس لیا مگر ابھی وہ سانس ناک کے رستے خارج ہی نہ ہوا تھا کہ نوکیا کی مخصوص ٹون دوبارہ بجنے لگی یہ اسی نمازی کا فون تھا! ہمارا دماغ نماز چھوڑ کر دوبارہ وہاں الجھا اور قلب نے گواہی دی کہ اب کی بار یہ جوان رعنا لازما اپنی انگلیوں کا درست استعمال کرکے فون بند کردے گا، مگر وہ کوئی آخری ڈھیٹ تھا، فون بجتا رہا اور لوگ دل ہی دل میں برستے رہے، یہاں تک کے بج بج کے فون دوبارہ بند ہوگیا!

اب معاملہ یہ تھا کہ ہمارا سارا دھیان فون کی ٹون پہ لگ چکا تھا کہ اب بجے یا کب بجے، ہمیں مایوسی نہیں ہوئی اور تیسری بار اسی جگہ اور اسی شخص کا فون بول پڑا اور پھر وہ گذشتہ دوبار کی طرح بولتا رہا، بولتا رہا، یہاں تک کے بول بول کے تھک گیا اور چُپ اختیار کرلی۔ عقل بولی چوتھی بار تو یہ حرکت ہونے سے رہی لہذا اب امام پہ توجہ دو جس کی اقتداء میں خدا کے حضور کھڑے ہو، بہرحال یہ سب ہوتے سوچتے نماز مکمل ہوگئی۔

امام صیب نہایت ہی معقول آدمی تھے، دعا کے بعد گویا ہوئے کہ کتنے ہی برس بیت چکے، اب تو ہمیں موبائل فون کے آداب سیکھ لینے چاہییں!
فون بند کرنا بھول گئے، کوئی بات نہیں، نماز میں بجنے لگے، ایک ہاتھ استعمال کریں اور لوگوں کی نماز میں خلل دور کریں۔

اسی سے مجھے خیال آیا کہ ہم میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو کسی کو کال کر کے پہلے اپنا تعارف، کام اور مطلوبہ شخصیت سے بات کرتے ہیں؟
کتنے ایسے ہیں جو میسج پہ کام نکالتے ہیں؟
کتنے ہیں جو غیر ضروری پیغامات، تصاویر، آڈیو ویڈیو کی صورت میں واٹس اپ کے ذریعے بھیج کر اگلے کی فون کی بیٹری و میمیوری کی ایسی تیسی پھیر دیتے ہیں؟
کتنے ایسے ہیں جو پوچھ کر آپ کو کسی گروپ میں انڈیلتے ہیں؟
کتنے ایسے ہیں جو ان باکس میں سلام کے ساتھ مختصر اور کام سے متعلق پیغام چھوڑتے ہیں؟ چاہے ستائش کا ہو تنقید کا یا کسی کام کا؟

امام صیب کی یہ بات کہ کتنے ہی برس گزر گئے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے کرتے، اب ہمیں سیکھ ہی لینا چاہیے کہ کس کام کے کیا آداب ہیں۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.