محبت ہے درمیاں - زینی سحر

اس کی پيدائش ايک مذہبی گھرانے میں ہوئی.
جہاں شروع سے پردے کی پابندی تھی، حتی کہ کزنز کے درميان بھی پردے کی روايت تھی.
ابا مسجد کے پيش امام تھے سو گھر میں نماز روزے کی بھی پابندی تھی.

وہ اس کی جوانی کے اولین ایام تھے جب اس کا پھوپھو زاد يونیورسٹی سے تعليم مکمل کر کے گھر آيا تھا نانا نانی سے ملنے. ابا نے آ کر اسے بتايا تھا کہ تمھارا پھوپھی زاد شہر سے آيا ہے، اس کے کھانے کا بندوبست کرو، تجسس نے اس کے دل میں سر اٹھايا کہ ديکھوں تو کون ہے؟ کيسا ہے؟ برآمدے کی چلمن کو ذرا سا کھسکا کر اس نے صحن میں بيٹھے ہوئے اسے ديکھا، وہ نانا کے پاس بيٹھا تھا. ٹھيک اسی لمحے اس نے بھی نگاہیں اٹھائیں، اور برآمدے کی طرف ديکھا.
وہیں کہیں محبت گھات لگائے بيٹھی تھی.
لاکھ پہرے بٹھا لو، لاکھ پردوں میں چھپ جاؤ، محبت صرف ايک نگاہ کا کمال ہے.
چاہے وہ نگاہ جھک جائے يا اٹھ جائے يا پھر کبھی نہ جھک پائے.
ايسا ہی کچھ ہوا تھا ان دونوں کے ساتھ، محبت نے ان پر وار کر ديا تھا، اور اس کا وار کبھی خالی نہيں جاتا.
اس نے گھبرا کر چلمن گرا دی.
اس کی سانسیں بےترتیب ہو رہی تھیں، دل مانو تو سينے سے باہر آنے کو مچل رہا تھا، کھانا مہمان کو دينے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی، اور اس نگاہ کوبار بار سوچنے لگی.
جو اٹھی تو اپنے ساتھ اس کا سب کچھ لے گئی تھی، ايسا کرتے ہوئے اسے خود سے ہی لجا آ رہی تھی، کب ظہر ہوئی کب عصر اسے پتہ ہی نہ چلا.
ابا نے آ کر کھڑکيوں کے پردے کھسکائے تو اسے وقت کا احساس ہوا.

کيا بات ہے پتر! آج تم نماز کے ليے بھی نہیں اٹھیں، طعبيت تو ٹھيک ہے ناں؟
ابا اس کے ليے يوں ہی فکرمند ہو جايا کرتے تھے. ماں کے اس دنيا سے جانے کے بعد ابا ہی ان دونوں بہنوں کے باپ بھی تھے اور ماں بھی.
کچھ نہیں ابا! بس آنکھ لگ گئی تھی، وہ اٹھی اور نماز کی تياری کرنے لگی.

ايک ہفتے بعد جب پھوپھو ان کے گھر آئیں تو ساتھ يہ نويد لائیں کہ وہ اس کو ابا سے مانگنے آئی ہیں، اس وقت اسے لگا کہ اس کا پھوپھی زاد ايک کامل مرد ہے‫‫‫.
ايک ايسا مرد جو محبت کو عزت بھی بنانا جانتا ہے.
نہ کہ صرف محبت کے ڈائيلاگ بول کر چھوڑ دينے والا.
محبت کی کامليت يہی ہے کہ جس سے ہو، اسے عزت بنا کر گھر لے آؤ.
محبت گناہ وہاں بنتی ہے جہاں چھچھورے طريقے اپنائے جاتے ہیں.

ابا نے چھوٹی کے ذريعے اس سے اس رشتے کی بابت پوچھا تھا، اس کی تو رضا مندی ہی رضا مندی تھی ليکن چھوٹی بہن نے کہا تھا کہ پھوپھو کے پہلے تین شادی شدہ بيٹے ہیں اور وہ سب ايک ساتھ رہتے ہیں.
سب سے تشويش ناک بات يہ تھی کہ ان کے يہاں اللہ نے رحمت نہيں دی تھی، وہ اس نعمت سے تاحال محروم تھے.
چھوٹی نے کہا تھا کہ اگر خدانخواستہ ان کے يہاں بھی اولاد نہ ہوئی تو؟
اس نے اس کی بات کا فقط اتنا جواب دياتھا کہ رب بہت مہربان ہے، اگر وہ دينا چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا ديتا ہے. صرف اس کے کن کی دير ہوتی ہے ليکن اگر اس نے ہمیں اس نعمت سے محروم رکھا تو ہمارے درميان محبت ہی کافی ہے اور کسی چيز کی ضرورت نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کے "مثالی" تعلقات اور عالمی سفارت کاری ( ذرا سی بات ) - محمد عاصم حفیظ

ڈھیروں خواب آنکھوں میں لے کر وہ بياہ کر پھوپھو کے گھر آگئی.
ہر لڑکی کی طرح اس کے خواب بھی محبوب شوہر کے ساتھ کے تھے، وہ خواب جس میں ہر دن سہانا ہوتا ہے، وہ نہیں جانتی تھی کہ زندگی کی حقيقتیں حسین خوابوں سے زيادہ تلخ ہوتی ہیں.
معيد، اس کا شوہر شادی کے کوئی ايک ہفتہ اس کے ساتھ رہا، پھر وہ شہر چلا گيا کيونکہ نوکری شہر میں ہی تھی، جانا تو تھا ہی، پيچھے وہ گھر بھر کے ہوتے ہوئے بھی اکيلی رہ گئی. گزرے سات دنوں ميں معيد نے ايک بار بھی اسے يہ نہیں کہا تھا کہ اسے اس سے محبت ہے ليکن اس کا نرم نرم سا خيال رکھنے والا تاثر اسے باور کرا رہا تھا کہ محبت ادھر بھی ہے. معيد ان مردوں میں سے تھا جو اظہار سے زيادہ عمل پہ يقين رکھتے ہیں.

دن مہینے بنتے گئے اور مہينے سال. وہ سسرال کے ساتھ رہتی تھی. معيد شہر میں نوکری کرتا تھا، ساس اسے اس کے ساتھ آنے نہیں ديتی تھی. ان کا خيال تھا کہ اگر بہو بھی بيٹے کے ساتھ چلی گئی تو بيٹا مڑ کر گاؤں آئے گا ہی نہیں. جب معيد گھر آتا تو اس کے ساتھ دن ايسے گزر جاتے کہ مانو پر لگے ہوئے ہیں ليکن اس کے جانےکے بعد ايک ايک دن صديوں برابر، کبھی کبھی اسے معيد پر غصہ بھی آتا کہ وہ اسے ساتھ لے کر کيوں نہیں جاتا. اسے يہ خيال بھی بری طرح ستاتا کہ شاید معيد کو اس سے محبت نہیں ہے، جہاں محبت ہو وہاں يہ وسوسے بھی دلوں کو کھائے جاتے ہیں، محبت ہو تو اس کا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے، تبھی تو محبت نمو پاتی ہے.

محبت ايسا بوٹا ہے جسے اظہار کی آبياری نہ ملے تو مرجھا جاتا. وہ بھی مرجھانے لگی تھی. معيد مہینے میں ايک بار ہی گھر آتا، اور ايک دن رک کے لوٹ جاتا. اس کے جانے کے بعد وہ بولائی پھرتی، کچھ سمجھ نہ آتا تو بيٹھ کر رونا شروع کر ديتی. اب تو ساس بھی اس سے جھگڑنے لگی تھی، بات بے بات ٹوکنا، اب تو اولاد نہ ہونے کی چہ مگوئياں بھی ہونے لگی تھیں. معاشرے کا الميہ يہ ہے کہ اگر شادی شدہ جوڑے کے يہاں اولاد نہ ہو تو اس کا سارا الزام عورت ہی کےسر تھوپا جاتا ہے، اُسے ہی بانجھ کہا جاتا ہے حالانکہ کمی مرد میں بھی ہو سکتی ہے، ليکن مرد کو کوئی کچھ نہیں کہتا، عورت کو ہی اس کی سزا ملتی ہے، جبکہ مرد کو نئی بيوی انعام کی صورت، حالانکہ اولاد پيدا کرنے پر انسان قادر نہیں، يہ تو سوہنے رب کی تقسیم ہے جسے چاہے نوازے اور جسے چاہے محروم رکھے.

ساس کے بہت تنگ کرنے پر اس نے معيد سے کہا کہ اسے شہر کسی اچھے سے ڈاکٹر کے پاس لے جائے، حالانکہ معيد نے اسے بہت سمجھايا تھا کہ جب رب کو منظور ہوا تو يہ خوشی مل جائے گی، اسے کوئی جلدی نہیں ہے، ليکن وہ نہ مانی اور ضد کر کے اس کے ساتھ شہر کے بڑے ہاسپٹل گئی، جہاں ڈاکٹر نے بہت سارے ٹيسٹ کرنے کے بعد اسے بتايا کہ وہ بلکل ٹھيک ہے، بچہ پيدا کر سکتی ہے، وہ بس دعا کريں کہ خدا انھیں نوازے..

یہ بھی پڑھیں:   بیگم کی خفگی - ام محمد سلمان

اس اميد کے ساتھ وہ شہر سے لوٹی کہ کبھی خدا مہربان ہو ہی جائے گا. اسی آس میں ان کی شادی کو دس سال کا عرصہ ہوگيا. ان دس سالوں میں کتنے موسم آ کر گزر گئے، کتنے تہوار آئے. ميعد کوگھر آنے کی چھٹی کبھی ملتی کبھی نہ ملتی، اب تو اس کو اپنا آپ کسی خالی گھر کی بدروح کی طرح لگنے لگا تھا.

انھی دنوں اس کی ساس نے معيد کی دوسری شادی کا شوشہ چھوڑ ديا، مگر معید سے بات کی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گيا کہ میں نے نہیں کرنی دوسری شادی، اگر خدا نے اولاد دينی ہوئی تو اسی میں سے دے گا، نہیں تو نہ سہی. ساس نے جب ديکھا کہ معید نہیں مان رہا تو اس نے اسی سے بات کی کہ تم معید کو مناؤ، تم خود غرض ہو، تم اپنی غرض کے ليے اس سے باپ بننے کی خوشی چھین رہی ہو، تم يہ چاہتی ہو کہ لوگ ميرے بيٹے کو بےاولاد اور بانجھ کہیں. وہ کچھ نہ بولی، بس چپ چاپ سنتی رہی، کہتی بھی کيا اور کيسے سمجھاتی کہ محبوب کی تقسيم کس قدر جان لیوا عمل ہے.

حد تو اس دن ہوئی جب اس کی ايک سہيلی نے اس سے کہا کہ سنا ہے تمھارا شوہر بانجھ ہے، اس ليے تمارے يہاں بچہ نہيں ہے. تب اس کی برداشت جواب دے گئی. بات جب اپنی ذات تک ہو تو انسان ہر چيز برداشت کر ليتا ہے ليکن اگر اس کے محبوب کے بارے میں کچھ کہا جائے تو وہ برداشت نہيں ہوتا. جب تک اسے بانجھ کہا جاتا رہا، وہ چپ چاپ سنتی رہی، ليکن آج اس نے معید سے بات کرنے کا فيصلہ کر ليا تھا.

معید چھٹی آيا تو وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی، معید تم دوسری شادی کر لو، اتنے سال میں نے بانجھ ہونے کا طعنہ اپنی ذات پر سہہ ليا ليکن کوئی آپ کو کہے، مجھ سے يہ سہا نہيں جاتا، کتنے برسوں کے بعد وہ معید کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی.
معید نے بھی اسے رونے ديا، جب وہ جی بھر کے رو چکی تو پھر دھيرے سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے پاس بٹھايا، اس کے آنسو صاف کيے پھر گويا ہوا،
برسوں پہلے جب تمھاری بہن نے تم سے کہا تھا کہ اگر تمھاری اولاد نہ ہوئی تو تم کيا کرو گی؟ تب تم نے کہا تھا کہ ہمارے درميان محبت ہی کافی ہوگی، آج میں تم سے کہتا ہوں کہ ہمارے درميان محبت ہی کافی ہے، میں، محبت اور تم کافی ہیں تم ميرے ساتھ ہو تو مجھے اور کچھ نہیں چاہيے، ہم يہاں نہيں رہیں گے، ہم شہر جا کر رہیں گے.
يہ باتیں سن کر اسے ايسا لگا جيسے برسوں کی تھکن اترگئی ہو، اب اسے يقین ہو گيا تھا کہ ان کے درميان محبت ہے.
اس نے آسودگی سے آنکھيں موند کر سر معيد کے کندھے پہ ٹکا ديا

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.