کالا جادو، سفلی علم، فرق کیا؟حقیقت کیاہے؟ سائرہ ممتاز

کالا علم یا سفلی علم کیا ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ اور اس سے کیسے حفاظت کی جائے؟

آج کل یہ سوال. ہر دوسرے بندے کو پریشان کر رہا ہے، مختلف ٹی وی چینلز پر اس بارے پروگرام پیش کیے جاتے رہے ہیں، اور روزنامہ امت کراچی نے کالے علم کے موضوع پر متعدد بار بہت ہی لاجواب فیچرز بھی شائع کیے ہیں، تاہم اکثریت اس بارے میں لاعلم ہے اور جنھوں نے اس سب سے استفادہ کیا بھی تو ایک الجھے ذہن کے ساتھ، عوام اب تک اس کو سمجھنے سے قاصر ہے. بہرحال میں اپنی پوری کوشش کروں گی کہ قارئین کو ہر ممکن حد تک تسلی بخش معلومات اور تجربات پیش کر سکوں. سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ جادو ٹونا یا سفلی کوئی ماورائی افسانہ یا سنی سنائی چیزیں نہیں ہیں، یہ ویسے ہی ایک علم ہے جیسے باقی علوم ہیں، لیکن آپ اسے منفی علم کہیں گے کہ یہ اللہ کی مخالفت مول لے کر پڑھا پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے. جادو کا ہونا تسلیم کیا گیا لیکن یہ کہا گیا کہ بحیثیت علم کے یہ ایک حقیقت ہے جو شیاطین اور ان کے پیروکار اختیار کرتے ہیں.

اگر آپ کالے جادو کی ابتداء کی بات کریں تو یہ حضرت آدم کی خلقت کے ساتھ ہی ہو گئی تھی کہ شیطان کو جو طاقت اور اختیارات دیے گئے، اس نے وہ ہر ناجائز اور ناپاک کام کے لیے اختیار کیے، ظاہر ہے یہی کالا جادو ہے، اور یہی کالے علم کی حقیقت ہے. ہر وہ لفظ جو خدائی احکامات یا اوصاف کی مخالفت میں کہا جائے، وہ جادو ہے یا ناپاک اور نجس شے ہے.

کالے علوم کا اصل منبع ہندو مذہب ہے جس کا سرچشمہ کالی ماتا یا درگا دیوی ہے. اسی طرح ہر مذہب میں مذہب مخالف لوگ یا عناصر موجود ہوتے ہیں، اور اپنی جگہ سفلی علوم کے ماہر ہیں، جو عیسائیت کا منکر ہے، عیسائی عقیدے پر یقین نہیں رکھتا، اور بائبل سے ہٹ کر کسی علم کے ذریعے کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو وہ جادوگر ہے. اسی طرح باقی الہامی مذاہب کی مثال پیش کی جا سکتی ہے سوائے ہندو مذہب کے، جس کی تعلیمات کا سرچشمہ یہی سفلی علم ہے.

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ یہ آخر ہے کیا، امت اخبار کے جس نمائندے نے وہ آرٹیکلز لکھے تھے، انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ جادو سیکھنے کی پہلی شرط قرآن کی بےحرمتی اور کچھ ایسی حرکات کرنا ہے جس سے کوئی بھی انسان سرے سے ہی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے. اب وہ حرکات کیا ہیں، انھیں بغور پڑھیے اور گانٹھ باندھ لیجیے.

جادو سیکھنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ قرآن کو نعوذ باللہ کسی بھی قرآنی صفحے یا صفحات کو پاؤں تلے رکھ کر وظیفہ کیا جاتا ہے، اس کے لیے گندی ترین جگہ جیسے باتھ روم یا نجاست والی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے، عورتوں کے حیض والے خون سے، اور ان کپڑوں پر جن پر خون لگا ہو، ان پر مقدس الفاظ الٹ کر لکھے جاتے ہیں، اس دوران چلہ کشی وغیرہ کی جاتی ہے، یہ عامل بننے کی ابتداء ہے. اب آپ دیکھ لیں کہ جس کام کی ابتداء یہ ہے، اس کی انتہا اور اسفلیت کیا ہوگی؟ آپ نے کہانیوں اور ناولز میں پڑھا ہوگا کہ الو کا گوشت اور کھال وغیرہ جادو ٹونوں میں استعمال کی جاتی ہے، صرف یہی نہیں، حالت جماع میں جو نجاست بدن سے نکلتی ہے اسے بھی تعویذ لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور انسان اسفل السافلین میں شمار ہونے لگتا ہے. انسانی بدن کی نجاست کے علاوہ ناپاک جانوروں کی غلاظت، خون، کھوپڑیاں عملیات میں استعمال کی جاتی ہیں، بغض اوقات جو لوگ قبرستان میں سخت قسم کی چلہ کشی وغیرہ کرتے یا کرواتے ہیں، اس میں مردوں کی توہین، ان کے ساتھ بد فعلی، اور اس قسم کے ہزاروں ایسے کام کیے جاتے ہیں جس کے بارے میں عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا.
............................
منتر تنتر کی اس پراسرار دنیا پر پہلے روزنامہ امت میں شائع ہونے والی ندیم محمود کی یہ تفصیلی رپورٹ دیکھیے:

”کوئی دس برس پرانا واقعہ ہے. خانیوال کی کھوکھراپار کالونی نمبر 3 میں مولوی خلیل نامی ایک عامل نے اپنے زیرعلاج ایک شخص سے یہ کہہ کر آٹھ نو ماہ کا بچہ ذبح کرا دیا تھا کہ تم پر کالی مائی کا جادو کرایا گیا ہے، لہٰذا اس کے توڑ کے لیے انسانی بھینٹ ضروری ہے. بعد میں عامل اپنے مریض سمیت گرفتار ہوگیا تھا. یہ واقعہ اس وقت اخبار کی شہ سرخی بنا تھا. سید اعجاز شاہ ہمیں یہ واقعہ سناتے ہوئے مریضوں کو بھی نمٹاتے جا رہے تھے. کسی کو پڑھا ہوا پانی دیتے اور کسی کو تعویذ، نارتھ کراچی سیکٹر 3 کے ایک چھوٹے مکان میں مقیم شاہ جی کے پاس لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا. کوئی اپنے کاروبار کی بندش کا رونا رو رہا تھا تو کسی کو اپنے عزیزوں سے شکوہ تھا کہ جن کے تعویذ گنڈوں نے اسے قبر کے دھانے پہنچا دیا تھا.

جب وہ سزا دینے کے لیے ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیتا تھا تو کوئی نادیدہ قوت ہمیں لاتیں، گھونسے مارتی، اس نے کئی بار یہ شعبدہ بھی دکھایا کہ موم بتی خود بخود جل اٹھی. نوجوان روبینہ ماضی کی راکھ کو کریدتے ہوئے آہستہ آہستہ بول رہی تھی. تین برس پہلے وہ میڈیا اور عوام کے لیے اجنبی نہیں تھی جب رینجز نے اسے اورنگی ٹاؤن کے ایک قبرستان کے نزدیک ایک عامل نثار کے ہمراہ پکڑا تھا. اس کے شاپنگ بیگ سے پانچ ماہ کا حمل برآمد ہوا تھا جسے وہ دفنانے جا رہی تھے. پھر دونوں سلاخوں کے پیچھے چلے گئے. کئی روز یہ واقعہ فالواپ کے طور پر اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں جگہ پتا رہا. (اس کا تفصیلی ذکر آگے چل کر کیا جائےگا)

جادو ٹونہ اور تعویذ گنڈے ہمارے معاشرے میں کوئی نئی چیز نہیں، لیکن آج کل یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی زوروں پر ہے. جادو کا ذکر قرآن پاک میں بھی ملتا ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے. اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شہر میں اس پائے کے جادوگر، عامل یا سفلی گر موجود ہیں جو اپنے عملیات اور تنتر منتر کے زور پر نفرت کو محبت اور محبت کو نفرت میں بدل دیتے ہیں؟ کاروبار کو باندھ کر انسان کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دیتے ہیں؟ طلاقیں دلوا کر ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتے ہیں؟ تالوں پر منتر پڑھ کر دماغ مقفل کر دیتے ہیں؟ خواتین کو شیطانی عمل کے ذریعے ہر جائز اور ناجائز کام پر راضی کر لیتے ہیں؟ اور یہ کہ سفلی عمل کے بعض عملیات میں واقعی انسانی بھینٹ دینا ضروری ہوتی ہے؟ جس کے نام پر المناک واقعات ہوتے ہیں. ذہن میں پیدا ہونے والے یہی سوالات ہمیں جادو ٹونے اور عاملوں کی پراسرار اور حیرت انگیز دنیا میں لے گئے. البتہ رپورٹ کی تیاری کے دوران ادراک ہوا کہ اس گورکھ دھندے کو سمجھنے کے لیے برسوں کا عرصہ چاہیے. سب سے بڑا مسلہ سفلی اور کالے جادو کے حقیقی عاملوں سے رابطے کا رہا کیونکہ کالے جادو کا کوئی بھی ماہر یا سفلی گر خود کو ظاہر نہیں کرتا البتہ شعبدے بازوں سے سارا شہر بھرا پڑا ہے. ہم اپنے دوستوں کے توسط سے کالا اور سفید علم کرنے، سیکھنے اور اس کی کاٹ کے ماہروں کے علاوہ چند ایسے افراد سے بھی ملے جو کسی نہ کسی طور پر جادو ٹونے سے وابستہ رہے، لہٰذا پہلے ان بنیادی معلومات کا ذکر کرتے چلیں، جو ان افراد سے حاصل ہوئی.

کتابی چلے اور منتر جنتر
کالے جادو، سفلی عمل یا روحانی چلوں کے حوالے سے مارکیٹ میں سینکڑوں کتابیں دستیاب ہے. ان میں سے کئی سو، ڈیڑھ سو سالہ قدیم بھی ہیں جنھیں ری پرنٹنگ کر کے مارکیٹ میں لایا گیا. جادو ٹونے کے عملیات کے مطابق ان کتابوں کی کم سے کم قیمت 25 روپے اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سے دو سو روپے تک ہے، تاہم عاملوں اور سفلی گروں کے مطابق کتابوں میں جو چلے اور عمل بیان کیے جاتے ہیں، ان میں کوئی ایک آدھ نقطہ چھوڑ دیا جاتا ہے، اس لیے یہ بیکار ثابت ہوتے ہیں، جس طرح شعر کے لیے ردیف قافیہ اور وزن کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل ایسے ہی منتر بھی عموما باوزن ہوتا ہے. ایک آدھ لفظ خذف یا آگے پیچھے کر دینے سے منتر جاتا رہتا ہے. ایک عامل کے بقول، اگر ایسا ممکن ہوتا تو پھر ان کاموں کے شوقین افراد کی اکثریت 20،25 روپے کی کتاب کے ذریعے عامل بنی پھر رہی ہوتی، صرف کتاب کی مدد سے کالے جادو کا عمل کامیاب ہونے کی تاریخ نہیں ملتی، عمل یا چلے کے لئے کسی عامل یا استاد کی اجازت اور رہنمائی ضروری ہوتی ہے کیونکہ اگر چلے یا عمل میں کوئی کوتاہی ہو جائے تو استاد سنبھال لیتا ہے. بعض لوگ کتابوں میں پڑھ کر چلہ یا عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس طرح نہ صرف یہ اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں بلکہ ان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے.

ہر کالا علم، سفلی نہیں
ہر کالا علم ضروری نہیں کہ سفلی ہو، سفلی عمل کا مقصد انسانیت کو سوائے نقصان پہنچانے کے اور کچھ نہیں ہوتا. کالے علم کے بعض عمل ایسے بھی ہیں جس میں عامل کو پاک صاف رہنا ضروری ہوتا ہے. اور دوران عمل جھوٹ بولنے سے لے کر زنا تک ہر برے فعل سے اجتناب برتنا لازم ہوتا ہے. دوسری جانب سفلی سراسر شیطانی عمل ہے اور اس عمل کے لیے غلیظ اور ناپاک رہنا اولین ہے. کالا علم سیکھنے والے ایک شخص استاد فیضو کا کہنا تھا کہ ”سفلی کے بعض عملیات ایسے بھی ہیں جس میں عامل کو 41 دن کے چلے میں روز شراب پینا اور زنا کرنا لازمی ہوتا ہے، ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ اسے اپنا فضلہ کھانا اور پیشاب پینا پڑتا ہے. نئی کراچی کا ایک سفلی گر وحید بھی ایسی ہی پستی میں گر چکا ہے، سفلی کے بعض 21 روزہ عمل بیت الخلا میں کرنے پڑتے ہیں.“ علاوہ ازیں سفلی عملیات میں عموما قرآن پاک کی آیات کو الٹا پڑھنا ہوتا ہے (نعوذباللہ) جس سے ان کا مفہوم بھی بالکل الٹ ہو جاتا ہے. لیاقت آباد کے رہائشی پرویز جو اپنے کپڑے کی دکان کی ’بندش‘ کھلوانے اور گھروالوں پر سفلی عمل کے وار کے توڑ کے لیے عاملوں کے پاس جاتا رہتا ہے اور اسی مقصد کے لیے کبھی کراچی میں اپنے وقت کے صف اول کے سفلی گر رتن سائیں کے پاس بھی گیا تھا. ”رتن سائیں مختلف لوگوں کو حیض کے خون سے تعویذ لکھ کر دیتا تھا، یہ منظر کئی بار خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس کے علاوہ اس کے پاس ایسی عورتوں کا بھی تانتا بندھا رہتا تھا جو شوہر کو تابع کرنے کی خواہش مند تھیں. ایسی خواتین سے وہ حیض کا کپڑا منگواتا پھر اس پر چند منتر پڑھ کر ہدایت کرتا تھا کہ کسی وقت موقع دیکھ کر اس کپڑے کو پانی میں گھول کر شوہر کو پلا دینا، وہ کتے سے زیادہ تمھارا وفادار ہو جائے گا، جو کرتی پھرو ، کوئی روک ٹوک نہیں کرے گا.“ ماضی کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پرویز کا کہنا تھا، ”یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کافی پریشان رہتا تھا کیونکہ مخالفین نے کالے جادو کے ذریعے نئی کراچی میں واقع میری کپڑے کی دکان ’باندھ‘ رکھی تھی، کاروبار ٹھپ ہونے کی وجہ سے جہاں معاشی تنگی تھی وہیں گھر کے بعض افراد بھی جادو کے زیر اثر بیمار رہتے تھے. میں نے کئی بار اپنی دکان اور گھر کے نزدیک دبائے پتلے اور تعویذ برآمد کیے تھے، اس کا ذکر میں نے اپنے قریبی عزیز سے کیا تو وہ مجھے رنچھوڑ نارائن پورہ میں رہائش پذیر رتن سائیں کے پاس لے گیا، جو اس وقت کالے جادو کا سفلی کا ’ٹاپ‘ کا عامل تھا اور مشہور تھا کہ اس نے کالی دیوی اور ہنومان کو تابع کر رکھا ہے. مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رتن سائیں نے کچھ پڑھ کر چند لونگیں، سوئیاں اور سیندور میرے حوالے کیا اور کہا کہ گائے کا دل درمیان سے چیر کر اس میں یہ تمام اشیاء رکھنے کے بعد اسے سوئی دھاگے سے دوبارہ سی کر دوپہر بارہ بجے کے قریب کسی ویرانے میں پھینک آنا. اس سے ایسی کاٹ ہوگی کہ تم پر جادو کرانے والے خود شکار ہو جائیں گے. دوسرے دن میں نے رتن سائیں کی ہدایت کے مطابق دل خریدا اور اس میں مذکورہ اشیاء رکھ کر نئی کراچی 6 نمبر پر صبا سنیما کے نزدیک ندی کے کنارے اس دل کو پھینک دیا. اچانک تین چار خوفناک کتوں نے مجھے گھیر لیا، میں نے اپنی زندگی میں اس قدر ڈراؤنی شکل والے کتے نہیں دیکھے تھے، وہ دل پر لپکنے کے بجائے مجھے گھور رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ بھونکتے بھی جا رہے تھے. میں بڑی مشکل سے جان بچاکر گھر پہنچا. اگلے دن رتن کو جاکر سارا ماجرا سنایا تو کہنے لگا، بیوقوف میں نے بکری کا دل کہا تھا تم گائے کا لے آئے، شکر کرو کہ زندہ بچ کر آگئے. خیر تمھیں سیندور اور لونگیں دوبارہ پڑھ کر دیتا ہوں، انھیں بکری کے دل میں چھپا کر پھینک آنا، تاہم میں اس قدر خوفزدہ ہو چکا تھا کہ میں نے ہامی تو بھر لی لیکن رتن کی ہدایت پر عمل نہیں کیا.“

رنچھوڑ لین کے رہائش سفلی گر رتن سائیں کو کئی برس پہلے ایک بلوچ نے قتل کر دیا تھا. اس بلوچ کی فیملی کے تقریبا تمام افراد کسی نامعلوم بیماری کا شکار ہو کر مرے تھے، اسے شک تھا کہ رتن سائیں نے اس کے مخالفین سے بھاری رقم لے کر اس کے اہل خانہ پر کالا جادو اور سفلی کرایا تھا لہٰذا ایک روز وہ بہانے سے رتن کو میوہ شاہ قبرستان لے گیا اور گولیاں مار کر ہلاک کر دیا. اس طرح اپنے زمانے کا بدنام ترین سفلی گر اپنے انجام تک پہنچا. کہا جاتا ہے کہ رتن کے نام کے بغیر کراچی میں کالے جادو اور سفلی عمل کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی اور جادو ٹونے سے وابستہ شاید ہی ایسا کوئی فرد ہو جو اس کے نام سے واقف نہ ہو. اس کے ایک شاگرد گوگا کے دعوے کے مطابق جو آج کل سید اعجاز حسین کے پاس روحانی علم بھی سیکھنے آ رہا ہے. ”رتن کے پاس ایک ایسا بھی عمل بھی تھا جسے پڑھ کر وہ کافی فاصلے تک اڑ بھی لیتا تھا.“ واللہ عالم بالصواب

شعبدے بازوں اور جادوگروں میں فرق
سفلی اور کالے جادو کے حقیقی عاملوں اور شعبدے بازوں میں واضح فرق ہے. شہر بھر میں اپنی دکانیں سجا کر بیٹھے عاملوں کی 99 فیصد تعداد جعلی ہے، جو مختلف شعبدے دکھا کر سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں، مثلاً کیمیکل کے ذریعے بغیر تیلی کے آگ لگا دینا، سرنج کے ذریعے لیموں کا رس نکل کر پھر سرنج کی مدد سے ہی اس میں سرخ رنگ بھر کر لیموں میں خون ٹپکتا دکھانا وغیرہ. اس کے برعکس اصل عامل اور حقیقی سفلی گر اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے. اس معاملے میں وہ سخت رازداری برتتے ہیں، اور ہمیشہ اپنے قابل اعتماد کارندوں کے ذریعے ہی بھروسے کی پارٹیوں سے سودا کرتے ہیں. وہ کبھی کسی اجنبی کے سامنے اعتراف نہیں کرتے کہ وہ سفلی گر ہیں یا کالے علوم کے ماہر، اکثریت ایسے سفلی گروں کی بھی ہے جو خود کو بظاہر روحانی عامل ظاہر کرتے ہیں لیکن اصل میں وہ کالے جادو اور سفلی کا کام کر رہے ہیں، اس وقت لسبیلہ کا ، کاکا، اورنگی ٹاؤن معمار شاہ، کورنگی سوکوارٹر کے بنگالی پاڑے کا انور، نیو کراچی کا سعید اور میر پر خاص کا بھگت سفلی اور کالے جادو کے ماہر کے تصور کیے جاتے ہیں.یہ بات طے شدہ ہے کہ سفلی گر یا عامل کتنا ہی نامور ہو، اپنے ساز و سامان اور حصار کے بغیر بےدست وپا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رتن جیسا نامی گرامی سفلی گر بھی ایک عام شخص کی گولیوں کا نشانہ بن گیا تھا.

کالی اور ہنومان کا جان لیوا عمل
کالے جادو اور سفلی عاملوں میں کالی مائی، کالی دیوی یا کالکا دیوی اور ہنومان سخت ترین تصور کیا جاتا ہے، اور جس کے قبضے میں ان میں سے ایک چیز بھی ہو، وہ انتہائی طاقتور عامل یا سفلی گر سمجھا جاتا ہے. استاد فیضو اس بارے میں کہتے ہیں: ”کالی دیوی یا ہنومان کراچی میں دو چار لوگوں کے پاس ہی ہے. کالی دیوی کو تابع کرنے کے لیے 41،41 دن کے تین چلے کیے جاتے ہیں، وہ بھی اگر کوئی زندہ بچ جائے. کالے جادو میں یہ سب سے سخت عمل کہلاتا ہے کیونکہ کالی مائی کو بار بار جانوروں کی بھینٹ دینا پڑتی ہے، تاکہ عامل یا اس کی اولاد پر سختی نہ آئے. بعض شیطانی عملیات کے ذریعے کالی تک پہنچنے کے لیے انسانی جان کی بھینٹ بھی دینی پڑتی ہے. جادو ٹونے کی دنیا میں یہ روایت مشہور ہے کہ کالی مائی تک پہنچنے کے لیے عامل کو سات ہزار میروں (پہریداروں) کو کراس کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا عامل ہو جس نے یہ تمام میر عبور کر رکھے ہوں، یعنی کالی دیوی اس کے مکمل قبضے میں ہو، البتہ شہر میں ایسے متعدد عامل ہیں جن میں سے کسی نے8، کسی نے 20 اور بعض نے سو ڈیڑھ سو میر کراس کر رکھے ہیں، اس طرح وہ چھوٹا موٹا عمل کر لیتے ہیں، یعنی ان کی طاقت صرف اتنی ہوتی ہے کہ وہ شیطانی عمل کے ذریعے دو دوستوں میں عداوت پیدا کر دیں یا کسی ہنستے بستے گھر میں فساد ڈلوا دیں، کسی غیر محرم عورت کو اپنے تابع کر لیں، کسی کا کاروبار متاثر کر دیں وغیرہ وغیرہ. ایسے عاملوں نے بھی اپنی دکان خوب چمکا رکھی ہے کیونکہ آج کل زیادہ تر کیس یہی آ رہے ہیں، دراصل ہندوؤں میں کالے جادو کرنے والے عاملوں کے دو فرقے ہیں، ایک رام کے ماننے والے اور دوسرے راون کے، رام کے ذریعے عمل کرنے والے عموما انسانیت کو نقصان پہنچانے کے کام نہیں کرتے جبکہ راون والے سر تا پا شیطان ہوتے ہیں.“ کالی دیوی کو قابو کرنے کے لیے عمل کرنے والے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے استاد فیضو نے بتایا ”نئی کراچی، نئی آبادی میں ایک لڈن نامی شخص تھا اس نے بھی 41 دن کا صرف ایک عمل ہی پورا کیا تھا کہ برباد ہوگیا. مسلمان ہونے کے باوجود اس گھر کے ایک کمرے کو مندر کا روپ دے رکھا تھا اور وہاں باقاعدہ مورتیاں سجا رکھی تھی. دوسری جانب اس کی اہلیہ نہایت نیک اور پنج وقتہ نمازی تھی لہٰذا شوہر کی یہ حالت دیکھ کر اس نے لڈن میاں کا کھانا پینا، برتن اور کپڑے سب الگ کر دیے تھے. لڈن نے جب 41 دن کا پہلا عمل مکمل کیا تو پتہ نہیں اس سے کیا غلطی ہوئی کہ سارے جسم پر موٹے موٹے پھوڑے ہوگئے، جبکہ نحوست اس قدر ہوگئی کہ اس نے پالتو بکری کے بچے پر ایک دن ہاتھ رکھا تو وہیں مر گیا، حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ بھی ہلاک ہو گیا. ان واقعات سے وحشت زدہ ہو کر اس کی پنج وقتہ نمازی بیوی نے ایک دن مندر نما کمرے کا سارا سامان اٹھا کر پھینک دیا لیکن لڈن میاں کی طبعیت نہ سنبھل سکی اور کچھ عرصے میں وہ لقمہ اجل بن گیا.“

کالی دیوی اور ہنومان کے سخت عمل کے بارے میں روحانی علاج کرنے والے سید اعجاز حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ”ان دونوں عمل سے پہلے اور بعد میں کسی جانور کی بھینٹ لازمی پڑتی ہے، اور جب کالی دیوی قابو میں آ جاتی ہے تو بعض اوقات وہ انسانی بھینٹ بھی طلب کر لیتی ہے.“

کالے جادو کے عامل کالی دیوی اور ہنومان کے علاوہ شمشانک دیوی، کملا دیوی، پدمنی دیوی، لکشمی دیوی، موہنی دیوی، کالا کلوا، گنیش جی، دیوتا سروپ، ہمادیو وغیرہ کو تابع کرنے کے لیے عمل کرتے ہیں جس کے لیے عمل کیا جا رہا ہو، عموما اس کی مورتی سامنے رکھنی پڑتی ہے. اس لیے اس وقت کراچی میں متعدد مسلمان عامل ایسے ہیں جن کے گھروں میں ہر قسم کی مورتیاں سجی ملیں گی. یہ عمل کسی دریا کے کنارے، قبرستان، کسی ویران مکان یا پیپل کے درخت کے نیچے کیے جاتے ہیں عمل یا چلہ عموما 7،11،21 اور زیادہ سے زیادہ 41 روز کا ہوتا ہے.

دست کی ہڈی اور کور برتن
گائے، بھینس، بکرے یا بکری کے دست یعنی شانے کی ثابت ہڈی کالے جادو اور سفلی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قصاب ہمیشہ اس پتلی اور چپٹی ہڈی کو گوشت الگ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں. اس حوالے سے ہم نے متعدد قصابوں سے بھی بات چیت کی، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی. اس کے علاوہ عموما بکری کے دل پر بھی کٹ لگا دیتے ہیں، کیونکہ ثابت دل پر عمل چلتا ہے، اسی طرح کمہار کبھی کورا یا کچا برتن فروخت نہیں کرتا. عامل چاچا رشید کے بقول کمہار، بھٹی سے اتارا گیا تازہ برتن کبھی حوالے نہیں کرے گا اور اسے پکا کر ہی فروخت کرے گا. سفلی اور کالا عمل کرنے والے لوگ جان پہچان کے کمہاروں سے کور برتن لے جاتے ہیں، جبکہ کمہار کے کام میں استعمال ہونے والا دھاگا بھی کالے علم میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے. دست کی ہڈی عموما محبوب کو تابع کرنے یا مخالف کو برباد کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے. بعض اسے عورت کی کوکھ باندھنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں. چند عملیات میں عورت کو کوکھ باندھنے کے لیے تلے پر عمل کر کے اسے کنویں، دریا یا سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے. اس کے علاوہ کالے جادو اور سفلی عمل میں کثرت سے استعمال ہونے والی اشیاء درج ذیل ہیں. گوگل، ماش کی ڈال، انڈے، سپاری، ناریل، زعفران، دھتورا، مور کے پر، کیز کے پھول، شہد، آک کا پودہ، کوے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی آنکھ اور دم، الو کی بیٹ، انسانی ناخن، جانوروں اور انسانوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں، سیندور، لونگ، سوئیاں، ہینگ، کسی خوبصورت عورت کے بال جو تازہ تازہ مری ہو اور انسانی کھوپڑی وغیرہ.

بنگال کا خطرناک جادو ”ڈھائیا“
بنگال کا ایک جادو ”ڈھائیا“ انتہائی سریع الاثر اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے. اسے ڈھائیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ڈھائی پل یا سیکنڈ، ڈھائی منٹ، ڈھائی گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے، اس سے زیادہ وقت نہیں لیتا. اس عمل کا سب سے کارآمد ہتھیار ”ہانڈی“ ہے جو کسی کی جان لینے کے لیے چڑھائی جاتی ہے. ہانڈی کے اندر عموما چاقو، چھری، قینچی، استرا، سوئیاں اور ایک دیا رکھا جاتا ہے. اس بارے میں مشہور ہے کہ کالے علم کے زور پر جلایا گیا یہ دیا اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ اگر کوئی طوفان بھی ہو تو یہ جلتا رہےگا اور منزل مقصود پر پہنچےگا. اسی طرح بھان متی کا جادو بھی انتہائی جان لیوا ہے اور اس کا توڑ بہت مشکل سے کیا جاتا ہے. یہ بھی سفلی عمل کی ایک قسم ہے.

کالے جادو کے زور پر شادی کر لی
ہم نے ایک ایسے شخص سے بھی ملاقات کی جس نے کالے جادو کے ذریعے ایک ایسی لڑکی سے شادی کر لی جو اس سے بدترین نفرت کرتی تھی. آج وہ دو بچوں کا باپ ہے. نارتھ ناظم آباد کے رہائشی 30، 32 سالہ امجد (مذکورہ شخص کی درخواست پر نام تبدیل کر دیا گیا ہے) سے ہماری ملاقات ایک قریبی دوست نے کرائی. پشاور کی زریں جو اپنے گھر سے بھاگ کر کراچی آئی تھی، یہاں اس کی ملاقات تندور پر روٹیاں لگانے والے ایک شخص امین سے ہوئی جس سے اس نے شادی کر لی، لیکن کچھ عرصے بعد امین نے طلاق دے دی. اس سے آگے کی داستان امجد کی زبانی سنیے.
”میری دکان امین کے گھر کے سامنے تھی، میں اکثر اس کی خوبصورت بیوی کو حسرت سے دیکھتا تھا. کئی بار اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے دھتکار دیا. اسے طلاق ہو گئی اور وہ بے یارومددگار ہوگئی تو میں نے اس سے راہ و رسم پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی. ایک روز وہ اپنے کرائے کے مکان میں پریشان بیٹھی تھی. مالک مکان اس سے کرائے کا تقاضا کر رہا تھا لیکن طلاق کے بعد کوڑی کوڑی کی محتاج تھی، لہٰذا مکان خالی کرنے کا حکم سن کر اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ رہے تھے. میں نے اس کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے یہ موقع غنیمت جانا اور مالک مکان کو کرایہ ادا کرنے کے کے علاوہ اسے پناہ دینے کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانی. اس دوران علاقے کی ہی ایک پٹھان فیملی نے اسے اپنے گھر رکھ لیا، مجھے سن گن ملی کہ اس فیملی کے دو بھائیوں میں سے ایک اس کے ساتھ شادی کی تیاری کر رہا ہے، اور لڑکی بھی رضامند ہے. میں نے اپنا اثر و سوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو تھانے میں بند کروا دیا. اس واقعہ کے بعد لڑکی کے دل میں میرے لیے نفرت مزید بڑھ گئی. قصہ مختصر پولیس نے لڑکی کو عائشہ منزل پر واقع دارالامان میں پہنچا دیا. میں اس کی ملاقات کا خواہش مند تھا، دارالامان پہنچا تو معلوم ہوا کہ ملاقات کے لیے اول ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ اور دوم لڑکی کی رضامندی ضروری ہے. ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ تو حاصل کر لیا لیکن لڑکی مجھ سے ملاقات پر تیار نہ ہوئی. میرے دور کا ایک عزیز اکمل کالا جادو سفلی عمل وغیرہ کرتا تھا، تھک ہار کر میں اس کے پاس پہنچ گیا. اس نے کہا کہ اگرچہ میری فیس بہت زیادہ ہے لیکن رشتہ دار اور دوست ہونے کے خاطر میں تم سے صرف پانچ سو روپے لوں گا، وہ بھی عمل کے لیے کچھ سامان وغیرہ لانا ہے، اس لیے بس تم مجھے لڑکی اور اس کی ماں کا نام لاکر دے دو. اس کے بعد لڑکی کی شادی تمھارے علاوہ اور کسی کے ساتھ نہیں ہو پائے گی اور یہ کہ عمل کے ذریعے ایسا حصار قائم کر دوں گا کہ شہر سے باہر نہ جا سکے گی. میں نے دوسرے روز اکمل کو پانچ سو روپے لاکر دے دیے. ایک ہفتے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ جاؤ لڑکی سے ملاقات کا انتظام کرو. میں نے ایک بار پھر کوشش کر کے ایس ڈی ایم کا اجازت نامہ حاصل کیا اور ملاقات کے لیے دارالامان پہنچ گیا لیکن لڑکی نے ملنے سے پھر انکار کر دیا. اکمل نے مجھے کہا کہ جاؤ اب تمھارا کام ہو جائےگا. میں نے پھر ایس ڈی ایم سے اجازت نامہ حاصل کیا اور دار الامان پہنچ گیا. اس بار خلاف توقع لڑکی نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کر دی، اس کے بعد ہماری دو تین ملاقاتیں اور ہوئیں، اور پھر ہم دونوں نے شادی کے بندھن میں بندھ گئے. آج ہمارے دو بچے ہیں اور ہم خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہے ہیں، البتہ آج بھی یہی سوچتا ہوں کہ شادی سے پہلے اہلیہ کے دل میں میرے لیے نرم گوشہ دارالامان کی سختیوں کے سبب پیدا ہوا تھا یا واقعی کالے جادو نے اپنا اثر دکھایا. اہلیہ سے آج جب ماضی کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو اس کا کہنا ہوتا ہے کہ بس اچانک میرے دل میں تمہاری ہمدردی اور محبت کا جذبہ موجزن ہو گیا تھا.“ امجد نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد گود میں بیٹھے تین چار سالہ گول مٹول اور خوبصورت بیٹے کو جیب سے پانچ روپے نکال کر دیتے ہوئے کہا کہ جاؤ چیز لے کر آجاؤ، لیکن وہ گھر جانے کی ضد کرتا رہا اور جب اس نے رونا شروع کردیا تو امجد نے ہم سے رخصت چاہی.

سفلی عمل کرنے والوں کی اکثریت بے اولاد ہوتی ہے
نوجوان سید اعجاز شاہ کا تعلق کبیر والا سے ہے. روحانی عمل کے ذریعے بلا معاوضہ جنات اور آسیب کا اثر جھاڑنے، کالے اور سفلی عمل کی کاٹ اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا روحانی آپریشن کرتے ہیں. نارتھ کراچی کے سیکٹر 3 کے ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں انہوں نے اپنا آستانہ بنا رکھا ہے جہاں مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے. ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے روحانی عمل کے ذریعے موکل تابع کر رکھا ہے، جس کی اجازت انہیں ان کے استاد سید راشد علی شاہ (سابق ایس ایس پی اسپشیل برانچ کوئٹہ) نے دی تھی. شاہ صاحب کا کہنا تھا ”میں استخارے کے ذریعے معلوم کرتا ہوں کہ کسی پر کالا جادو ہے، آسیب ہے یا پھر وہ محض جسمانی عارضے میں مبتلا ہے.“ کالے جادو یا سفلی عمل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عموما سفلی عمل کرنے والوں کی اولاد نہیں ہوتی، اگر ہوتی بھی ہے تو لنگڑی، لولی اور اپاہج، کیونکہ اس نے اپنا حصار تو رکھا ہوتا ہے لیکن ’شیطانی چیزیں‘ اس کی اولاد اور اہل خانہ کے دیگر ارکان پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ جنات، موکل یا کوئی بھی ناری چیز نہیں چاہتی کہ وہ مٹی (انسان) کے تابع ہو. عمل روحانی ہو یا شیطانی، دو باتیں ہوتی ہیں یا تو آپ نے اسے قابو کر لیا یا پھر وہ آپ پر حاوی ہو گئی، اگر وہ آپ پر حاوی ہو گئی تو ایسے ایسے کام کرائے گی جس کا آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا. میعادی پتلے کے حوالے سے شاہ جی کا کہنا تھا کہ ”میعاد پتلے کا تصور یہ کیا جاتا ہے کہ اگر چالیس دن کے اندر اس فرد کا علاج کرا دیا جائے جس کے نام کا پتلا بنایا گیا ہے تو صحیح ورنہ تقریبا لا علاج ہو جاتا ہے. کسی کی مستقبل بیماری اسے موت کے منہ میں پہنچانے کے لیے اس کے نام سے کپڑے، موم، یا آٹے کا پتلا بنایا جاتا ہے، جس سے ابتدائی طور پر ہدف بننے والے شخص کے جوڑوں میں درد رہنے لگتا ہے، یا وہ ان مقامات پر درد اور چبھن محسوس کرتا ہے. ڈاکٹر اسے گٹھیا کا مرض قرار دیتے رہے ہیں، بالآخر مریض موت کے منہ میں پہنچ جاتا ہے. اس پتلے کو عموما قبرستان میں کسی پرانی قبر کے اندر دفن کیا جاتا ہے. نوری عمل کے ذریعے بھی میعادی پتلا تیار کیا جاتا ہے، البتہ صرف کسی ظالم کو سزا دینے کے لیے.“ اعجاز شاہ کے بقول سب سے سخت اور شیطانی جادو ذکری فرقہ تصور کیا جاتا ہے یہ لوگ بیت الخلاء میں بیٹھ کر کئی کئی روز عمل کرتے ہیں اور تربت میں انہوں نے باقاعدہ اپنا (نعوذ بااللہ ) کعبہ بنا کر رکھا ہے جس کے گرد برہنہ ہو کر طواف کرتے ہیں.

اعجاز شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے پاس ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں جو حددرجہ توہم پرستی اور وہمی ہوتے ہیں. مثلا اگر انہیں کوئی جسمانی عارضہ بھی لاحق ہے تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو وغیرہ کر دیا ہے، یا پھر آسیب کا اثر ہے. ایسے ہی لوگوں کو شعبدے بعض یا جعلی عامل ذہنی مریض بنا دیتے ہیں. پچھلے دنوں اس قسم کا ایک شخص میرے پاس آیا، میں نے استخارہ کیا تو معلوم ہوا کہ اسے کوئی آسیب یا جادو کا اثر نہیں لیکن وہ بضد تھا کہ فلاں نے مجھ پر سفلی عمل کرایا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ میرے دل کی دھڑکن اچانک بڑھ جاتی ہے، سر اور پیٹ جکڑا رہتا ہے. بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ٹھوکر بھی لگ جائے تو سمجھتے ہیں کہ کسی نے کچھ کرا دیا ہے، بالخصوص خواتین زیادہ وہمی ہوتی ہیں.

ہمزاد کو قابو کرنا آسان نہیں
”ڈھائیاں“ کی طرح بھان متی بھی سفلی عمل ہے، اس کے عامل زیادہ تر بھنگی چمار یا نچلی ذات کے بدکار لوگ ہوتے ہیں. بھان متی پتلے پہ منتروں کا جاپ کر کے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا جاتا ہے. اور عامل کوسوں دور بیٹھ کر پتلے کے ساتھ جو سلوک کرے گا، اس کا دشمن پر بھرپور عمل ہوتا ہے. بھان متی کے جادوگروں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ہر سال دیوالی کی رات اپنا جادو جگاتے ہیں. اگر اس سال انھیں موقع نہ ملے تو سارے سال کے لیے بیکار ہو جاتے ہیں. صدر شاہین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ”قیام پاکستان سے بہت پہلے بھان متی ایک عرصے تک جنوبی ہند بالخصوص حیدرآباد کن میں رائج رہا جو عام طور پر مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا. ایک زمانے میں تو حیدرآباد دکن میں اس جادو کا اتنا زور تھا کہ اس کے خلاف ریاستی پولیس میں باقاعدہ اینٹی بھان متی اسٹاف مقرر کرنا پڑا. اس کا حکم انگریز ڈائریکٹر جنرل پولیس مسٹر ڈبلیو اے گیر نے دیا تھا اور اینٹی بھان متی اسٹاف کے پہلے سربراہ چھمن راؤ تھے.“ ہم نے مختلف ذرائع سے کسی بھان متی کے عامل سے ملاقات کی کوشش کی لیکن تلاش بسیار کے باوجود ایسا عامل نہ مل سکا. بعض کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی میں شاید ہی کوئی بھان متی کا ماہر عامل موجود ہو، البتہ نئی کراچی کے نامی گرامی عامل یعقوب عرف انگارے شاہ عرف بھوپ کا بارے میں مشہور تھا کہ وہ بھان متی کا ماہر ہے. اس کی تدفین میں شریک بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بھوپ مرا تو قبر نے اس کی لاش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا. لاش کو جب قبر میں اتارا جاتا تو وہ پراسرار طریقے سے باہر آجاتی، بالآخر ایک روحانی عامل کو بلایا گیا، اس نے قرآنی وظائف کے ذریعے تدفین کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا .

کاروبار کی بندش کے لیے جادو ٹونہ
روحانی عاملوں اور سفلی گروں کے علاوہ کیے گئے سروے سے معلوم ہوا کہ شہر میں زیادہ تر جادو ٹونہ اور تعویذ گنڈے ایک دوسرے کا کاروبار تباہ کرنے یا کسی کی دکان کا دھندہ چوپٹ کرنے کے لیے کرایا جاتا ہے. نئی کراچی سندھی ہوٹل، لیاقت آباد، ملیر، اورنگی ٹاؤن ، کورنگی اور جوڑیا بازار میں ہمیں متعدد ایسے دکاندار ملے جو اپنے دکانوں کی’بندش‘ کھلوانے کے لیے روحانی اور سفلی دونوں قسم کے عاملوں کے پاس چکر کاٹتے نہیں تھکتے. سندھی ہوٹل نئی کراچی میں ایک نہاری کے ہوٹل والے کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے ایسا زبردست عمل اور تعویز گنڈے کرا رکھے ہیں کہ اس کے قریب و جوار میں ایک میل کے فاصلے تک کوئی دوسرا نہاری کا ہوٹل اپنی دکانداری چمکانے سے قاصر ہے، ایک دو نے کوشش بھی کی تو ان کی نہاری میں چند گھنٹوں بعد ہی پر اسرار طریقے سے شدید بو کے بھبھکے اٹھنے شروع ہو جاتے تھے. بعض عاملوں نے تو مختلف دکانداروں سے اس بنیاد پر منتھلی باندھ رکھی ہے کہ ان کے کاروبار کو ہر طرح کے جادو ٹونے سے بچانے کے لیے حفاظتی حصار اور عمل کرتے ہیں. دوسرے نمبر پر جادو ٹونہ مخالفین کو جانی نقصان پہنچانے کے لیے کرایا جارہا ہے. اس میں دشمن کو ذہنی و جسمانی اذجیت سے لے کر جان لیوا عملیات کے لیے مختلف سفلی اور کالے جادو کے ماہرین سے میعادی پتلے اور تعویذ وغیرہ بنوائے جاتے ہیں. سید اعجاز حسین سمیت روحانی علاج کرنے والے چند دیگر عاملوں کے آستانے میں ہماری ملاقات ایسے متعدد افراد سے ہوئی جو اپنے کاروبار اور اہل خانہ پر کیے گئے جادو کی کاٹ کے لیے وہاں پہنچے تھے. مثلا خمیسہ گوٹھ کے امیر گل نے بتایا کہ ”میں نے اپنی والدہ کے علاج پر ڈیڑھ لاکھ خرچ کر ڈالے لیکن مرض کی تشخیص ہو سکی نہ کوئی افاقہ ہوا. والدہ کے کبھی سر میں شدید درد ہوتا تو کبھی وہ پیٹ کے درد سے دہری ہو جاتی تھیں. میں پرانی سبزی منڈی پر واقع ایک نجی اسپتال میں ان کا مسلسل علاج کرتا رہا. پہلا ٹیسٹ کرایا تو پیٹ میں رسولی کی رپورٹ آئی، دوسرا ٹیسٹ ٹیسٹ کرایا تو رسولی غائب تھی. ہار کر روحانی علاج کی طرف متوجہ ہوا تو معلوم ہوا کہ والدہ پر کسی نے سفلی عمل کرا رکھا ہے، اب دو ماہ سے روحانی علاج کرا رہا ہوں اور خاصا افاقہ ہے.“ مخالفین کی لڑکیوں کے رشتوں کی بندش، گھر میں فساد، شوہروں کی فرمانبرداری کے لیے بھی کثرت سے جادو ٹونہ، تعویذ گنڈے اور نقش بنوائے جا رہے ہیں، ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی بھی ہے جو من پسند محبوب کا دل جتنے کے لیے روحانی اور سفلی دونوں طرح کے عملیات پر رقم خرچ کر رہے ہیں. استاد فیضو کے پاس ایک ایسا شخص بھی آیا جو اپنے حریف کو تکلیف پہنچانے کے لیے سفلی کے ذریعے اس کا پیشاب بند کروانا چاہتا تھا . پہلے تو مذکورہ شخص نے ایک کتابی منتر پر عمل کیا جو اس طرح تھا. ”کسی اتوار کے دن ایک چھچھوندر شکار کر کے اس کی کھال اتار لو. پھر دشمن نے جہاں پیشاب کیا ہو، وہاں کی مٹی لے کر اس کھال میں بھر کر کسی اونچی جگہ ٹانگ دو تو دشمن کا پیشاب بند ہو جائے گا اور اس وقت تک نہ کھلے گا جب مٹی کو کھال میں نکال نہ دیا جائے.“ لیکن یہ عمل بیکار گیا، پھر وہ ایک جعلی عامل کے ہتھے چڑھ گیا جس نے اس سے ہزاروں روپے بٹور لیے، بالآخر وہ استاد فیضو کے پاس پہنچا. ایک عامل کے مطابق تعویذ گنڈے کرانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے، کوئی اپنی ساس پر حاوی ہونا چاہتی ہے تو کسی کو خواہش ہے کہ بیٹا، بہو سے زیادہ اس کی سنے.

مؤکل کو قابو کرنے کے لیے چلہ
مؤکل بھی دراصل جنات ہوتے ہیں، بعض لوگوں کے نزدیک یہ فرشتے ہیں. مؤکل روحانی عمل کے علاوہ کالے جادو اورسفلی عمل سے بھی تابع کیے جاتے ہیں. انہیں قابو کرنے کے لیے ہر قسم کے عمل میں چلہ کاٹنا ضروری ہے، البتہ نوری وظیفے کے دوران پانچوں وقت کی نماز پڑھنا اور پاک و صاف رہنا شرط ہے، اس کے برعکس سفلی عمل میں ناپاک رہنا لازمی ہوتا ہے. سید اعجاز شاہ جو خود بھی مؤکل کو تابع کرنے کے لیے روحانی چلہ کاٹ چکے ہیں، ان کا کہنا تھا. ”پاک اور صاف رہنے اور پنج وقتہ نماز کے علاوہ نوری چلہ کرنے والے کا دوران عمل کسی نجس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی ممنوع ہوتا ہے. جھوٹ نہ بولے حتیٰ کہ کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑے سے بھی گریز کی پابندی بھی کرنا پڑتی ہے جبکہ 41 دن تک وہ کسی دوسرے کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتا. اپنے لیے خود کھانا پکانا ہوتا ہے.“ اعجاز شاہ نے مزید بتایا ”اپنےاستاد کی جانب سے مؤکل کو تابع کرنے کی اجازت کے بعد میں 41 دن کے چلے میں روز گیارہ سو مرتبہ قل شریف پڑھتا تھا. چلہ مکمل ہونے پر نیاز کرائی جو بچوں میں تقسیم کرا دی.“ سفلی عمل کے ذریعے مؤکل کو قابو کرنے کے لیے بھی عموما 41 دن کا چلہ کاٹنا ضروری ہے. سفلی کیونکہ شیطانی عمل ہے لہٰذا اس کے اکثر عملیات میں ناپاک اور پلید رہنا پڑتا ہے، روز شراب پینا اور زنا لازمی ہوتا ہے. اگر سفلی گر دوران چلہ پاک رہے گا یا شیطانی کام نہیں کرے گا تو بدی کی قوتیں اسے تنگ کرتی ہیں. روحانی یا سفلی دونوں قسم کے عملیات کے لیے عامل اپنے گرد حصار کھینچ کر بیٹھتا ہے تاکہ وہ ماورائی قوتوں سے محفوظ رہے. کالے جادو یا سفلی عمل کے لیے زیادہ تر سیندور سے حصار کھینچ کر شیطانی قوتوں کے لیے سات قسم کی مٹھائیاں، شراب اور دیگر چیزیں توشے کے طور پر رکھی جاتی ہیں. اس قسم کے چلے ہزاروں میں ایک دو کامیاب ہوتے ہیں اکثر ناکامی سے دو چار ہوتے ہیں. بعض کے چلے الٹے بھی ہو جاتے ہیں جس سے عامل پاگل ہو جاتا ہے یا خود کو اور اپنے عزیزوں کو نقصان پہنچتا ہے. جادوگر میں یہ تصور عام ہے کہ یہ کام اس سے ”گندی چیزیں“ کراتی ہیں جو چلہ الٹا ہو جانے کے بعد اس پر حاوی ہو جاتی ہیں.

ہمزاد کا چلہ بڑا سخت ہوتا ہے
عاملوں اور جادوگروں میں ہمزاد کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہے. بعض کا خیال ہے کہ ہمزاد ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے، ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی مرتا ہے. کچھ کے نزدیک یہ شیطان ہے. اکثریت کا کہنا ہے کہ ہمزاد کا جسم لطیف، انسان کا سایہ ہے اس بارے میں مشہور ہے کہ اگر کوئی عامل کسی متقی، پرہیزگار اور پنج وقتہ نمازی کے خلاف ہمزاد کو استعمال کرے تو اسے الٹا نقصان ہوگا اور ہاتھ سے ہمزاد بھی جاتا رہے گا جب متقی شخص کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا. ہمزاد کی بہت سے قسمیں ہیں مثلا: علوی، عکسی یا غیبی وغیرہ، اس میں ہمزاد علوی قسم بہت قوی تصور کی جاتی ہے. یہ تصور عام ہے کہ ہمزاد کو قابو کرنا سب سے مشکل کام ہے اور اس کا چلہ خواہ نوری ہو یا سفلی بڑا سخت ہوتا ہے. اس وقت شہر میں شاید ہی کوئی عامل ہو جس نے ہمزاد کو تابع کر رکھا ہے. اس حوالے سے یہ بھی مشہور ہے کہ کسی دوسرے کے ہمزاد کو قابو کرنے سے اپنا ہمزاد پکڑنا آسان ہوتا ہے.

45 سالہ طارق نے اپنا لڑکپن اور جوانی حکمت سیکھنے، کیمیا گری کے ذریعے سونا بنانے کی بےسود کوششوں اور مؤکل و ہمزاد کو قابو کرنے کے مختلف چلے کاٹنے پر گزار دی. انہوں نے اب تک کل 12 چلے کاٹے ، 13 واں کر رہے ہیں لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی. طارق بھائی کبھی میرے روم میٹ ہوتے تھے. میں جب ڈیوٹی سے فارغ ہو کر رات دو تین بجے کے قریب گھر پہنچتا تو اکثر مکان کے دو کمروں میں سے ایک میں جائے نماز بچھائے کسی پڑھائی میں مصروف نظر آتے. ایک بار کہنے لگے کہ میں آج کل جو چلہ کاٹ رہا ہوں، اکتالیس دن مکمل ہونے پر اس رات کوئی ایک ڈیڑھ بجے مجھے کسی تازہ قبر پر جا کر پڑھائی کرنی ہے اور شرط یہ ہے کہ جاتے ہوئے اور واپسی میں گھر پہنچنے تک کسی سے بات نہیں کرنی، تم میرے ساتھ چلو، اگر کوئی راستے میں مل جائے تو اس سے نمٹ سکو یعنی مجھے بات نہ کرنا پڑے. میں کیونکہ ان چیزوں سے دور بھاگتا تھا اور بھاگتا ہوں لہٰذا میں نے ڈیوٹی کا بہانہ کر کے جان چھڑا لی. ان دنوں مجھے ان کے چلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن جب اس حوالے سے میں نے خصوصی رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا تو طارق بھائی یاد آئے چنانچہ ان کی تلاش شروع کی. معلوم ہوا آج کل صادق آباد میں اپنا مطب چلا رہے ہیں. بڑی تگ و دو کے بعد ان کے ایک عزیز سے موبائل نمبر حاصل کیا. طارق بھائی سے رابطہ کر کے ہم نے انہیں کہا کہ آپ نے جو اتنے چلے کیے ہیں، ان میں سے کوئی کامیاب ہوا؟ پہلے تو وہ حیران ہوئے کہ مجھے ان معاملات سے کیسے دلچسپی پیدا ہو گئی، جب انہیں مقصد بتایا گیا تو ان کا کہا تھا ”اب تک مختلف میعاد کے 12 چلے کاٹ چکا ہوں جو ناکام رہے، لیکن یہ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی الٹا نہیں ہوا، نہیں تو اس وقت تم سے بات نہ کر رہا ہوتا، اور یہ آج کل 13 واں چلہ کر رہا ہوں، بڑے کامل استاد نے دیا ہے. اس لیے امید ہے کہ اس بار کامیابی مل جائے گی.“

طارق بھائی کے مطابق انہوں نے زیادہ تر چلے مؤکل کو تابع کرنے کے لیے کیے جبکہ ہمزاد کو قابو کر نے کے لیے صرف ایک بار چلہ کاٹا تھا. تفصیل سے بتاؤں تو کئی صفحے بھر جائیں گے، مختصر ان کے الفاظ میں ”اس کے لیے استاد نے 41 دن تک مجھے عشاء کے وقت گلاب کے پھلوں پر آیت الکرسی پڑھنے کو بتائی تھی. میں روز ایک خالی کمرے میں وضو کرنے کے بعد چھری سے کڑا مار کر (حصار) بیٹھ جاتا، پیچھے چراغ جلا کر رکھتا، جس سے میرا سایہ سامنے پڑ رہا ہوتا جس پر نظر کر منتر پڑھتا. رات دو بجے کے قریب یہ عمل کر کے گلاب کے پھولوں کو اٹھاتا، ساتھ سرسوں کے تیل سے چراغ جلا کر ایک پیپل کے درخت کے نیچے رکھ آتا تھا لیکن یہ عمل کامیاب نہ ہوسکا.“ منتر کے بارے میں طارق بھائی کا کہنا تھا کہ ہر عامل عموما اپنی مادری زبان میں منتر بناتا ہے جو سینہ بہ سینہ چلتے ہیں. مؤکل کو تابع کرنے کے چلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ”اس کے لیے بھی میں نے 41 دن کا چلہ کاٹا تھا، روزانہ باوضو ہوکر ایک ہزار مرتبہ تین فرشتوں تنقا فیلہ، روماءلہ اور تنقاءلہ پڑھتا تھا. اس کے علاوہ سورہ مزمل بھی پڑھنی ہوتی تھی اس چلے کے دوران کسی نادیدہ طاقت نے مجھے غنودگی بہت دی. دماغ اور ذہن ہر وقت بھاری رہتا تھا خیر کسی نہ کسی طریقے سے 41 دن پورے ہوئے تو اس رات قبرستان میں کسی تازہ قبر پر جا کر آدھا گھنٹے پڑھائی کرنا تھا. یہ آخری مرحلہ تھا. جب میں نئی کراچی 6 نمبر کے قبرستان میں ایک تازہ قبر پر بیٹھا پڑھ رہا تھا تو آسمان سے کوئی تیز روشنی سی لپکی، میں کچھ خوفزدہ ہوا، لیکن ہمت کر کے پڑھتا رہا، واپس اپنے ٹھکانے کے نزدیک پہنچا تو ایک سائیکل والے نے پوچھا کہ قبرستان کو کون سا راستہ جاتا ہے؟ میں غیر ارادی طور پراسے پتہ سمجھانے لگا، پھر خیال آیا کہ استاد نے کہا تھا کہ ٹھکانے سے پہلے کسی سے بات نہیں کرنا لیکن میں یہ غلطی کر بیٹھا. آج بھی سوچتا ہوں کہ شاید اسی وجہ سے میرا وہ چلہ نا کام ہوا. ایک خیال بھی ستاتا ہے کہ اتنی رات ویرانے میں سائیکل والا کہاں سے آ گیا تھا؟“
(روزنامہ امت کی رپورٹ یہاں مکمل ہوئی.)
............................
جادو کا ذکر قرآن پاک میں بھی مختلف جگہوں پر آیا ہے، ہاروت ماروت کے قصہ میں اور اس کے علاوہ حضرت موسی علیہ. السلام اور فرعون کے جادوگروں کا واقعہ تو سبھی جانتے ہون گے، لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں جادو کے طریقے اور رسوم و رواج مختلف رہے ہیں. آج بھی عرب دنیا میں جہاں آپ سمجھتے ہون گے کہ یہ قبیح حرکات ناپید ہوں گی، وہاں بھی جادو ٹونے رائج اور عام ہیں، رسومات میں فرق ہے، یہی فرق پھر مختلف طریقوں میں واضح ہو جاتا ہے. عیسائیت اور مغربی دنیا میں اس وقت فری میسن اور اس جیسی تنظیموں کا چرچا زبان زد عام ہے، وہ فری میسن اور دوسری تنظیمیں جن کا نام لیا جاتا ہے، شیطان کے پیروکار کہلاتے ہیں اور اسی جادوئی دنیا کے پجاری ہیں، وہاں یہ الگ طریقوں سے رائج ہے، بد روحوں سے شگون وہاں بھی لیے جاتے ہیں. ہمارے ہاں جو زیادہ پڑھ لکھ جاتا ہے، وہ یہی سمجھتا ہے کہ جادو ٹونا جہالت کی باتیں ہیں جو خوامخواہ دہرائی جا رہی ہیں، جبکہ اس شے نے معاشروں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے، گھروں کے گھر تباہ کر دیے ہیں، اب ہم اس تذکرے کو یہیں روک کر ایک. نظر ان وجوہات پر ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے یہ برائی عام ہوئی ہے.

جادو ٹونے کے عام ہونے کی وجوہات
انسان جب حد سے زیادہ تعیش پسند اور مادہ پرست ہو جائے تو کچھ چیزیں اس کی فطرت میں خود بخود در آتی ہیں، مثلاً خود غرضی، احسان فراموشی، لالچ، حسد، کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسوں کے حصول کی خواہش، اور ان سب کے علاوہ میڈیا کا اثر، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک پلاننگ کے تحت معاشرے سے سادگی، حیا، وقار اور رکھ رکھاؤ کا جنازہ نکالا جا رہا ہے. زیادہ دور نہیں بس چالیس پچاس سال پیچھے نظر دوڑا لیں، امیر سے امیر اور غریب سے غریب گھرانوں میں بھی ایک وقار، تمدن، رکھ رکھاؤ اور تہذیب چھلکتی تھی، اپنے اپنے ماحول اور خطے کے مطابق ہر ایک بساط بھر وضع دار اور انٹلیکچوئل ہوا کرتا تھا، پھر کیا ہوا کہ اس میڈیا نے عورتوں کو کپڑوں، زیورات کی نمائش، ساس بہو کے جھگڑوں کے پیچھے لگا دیا اور گھر اجاڑنے، مشترکہ خاندانی نظام کے خاتمے کے وہ وہ طریقے پڑوسی ملک کے ڈراموں کے ذریعے سکھائے جانے لگے جو کسی کو معلوم نہ ہوتے تھے. دیکھتے ہی دیکھتے ملکی میڈیا بھی اسی لپیٹ میں آ گیا. مردوں کو انھی عورتوں نے پیسے کا پجاری اور ہوس کا غلام بنا دیا. ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی اس خواہش نے انتشار اور افراتفری پیدا کر دی ہے. رشتوں میں خود غرضی اور حسد در آیا، پھر بات جعلی پیروں سے ہوتی ہوئی دوسرے مذہب کے عاملین کے آستانوں اور ٹونوں تک جا پہنچی، فلاں دیورانی اپنے رشتے داروں میں سے بہو لانا چاہتی ہے کیسے روکا جائے؟ وہ جیٹھ زیادہ کما رہا ہے میرا میاں کیوں نہیں، تعویذ لاؤ کہ اس کا کاروبار تو ٹھپ ہو، خوامخواہ زیورات سے لدی رہتی ہے، ہر روز نیا سوٹ، فلاں ہمسائی کا شوہر اس محکمے میں اعلی افسر کیوں ہے؟ اس کزن کے بچے اتنا اچھا کیوں پڑھ لکھ گئے؟ کہاں سے آئیں یہ غلاظتیں، اتنی نفرت، وہ خاندانی نجابت کہاں گئی؟ کہاں کہاں پر کرپشن اور غیر ذمہ داری کا رونا رویا جائے، حرام کا پیسہ حرام میں ہی جاتا ہے سو جادو، تعویذات پر خرچ ہونے لگا ہے. معاشرے خود بخود ایسی چیزوں کو جگہیں دینے لگتے ہیں، یہی ہمارے ہاں بھی ہوا ہے، غیر محسوس طریقے سے. میں نے اعلی خاندانی رئیسوں، سیاسی خانوادوں کی بیگمات اور گھر کی خواتین کو ان جادوگروں اور ٹونے کرنے والوں سے تعلقات نبھاتے سنا اور پڑھا ہے. ایسی آکسفورڈ اور کیمبرج کی پڑھائی کا کیا فائدہ جو آپ کو دین دے سکے نہ دنیا اور نہ ہی آپ کو اس جادو اور سفلی علم جیسی جہالت سے چھٹکارا دلا سکے. رونا رویا جاتا ہے مذہب بیزاری کا اور یہاں ایسے مذہبی ٹھیکے دار بھی موجود ہیں جو کم وقت میں زیادہ شہرت حاصل کرنے کے لیے خود چل کر جادو اور کالا علم سیکھنے جاتے ہیں، اللہ ہی اس معاشرے کی حالت سدھارے!

جادو ٹونے سے کیسے بچا جائے!
اب آئیں اس طرف کہ اگر آپ کبھی اس موذی کا شکار ہو جائیں تو کیا کیا جائے؟ کس کے پاس جایا جائے؟ قرآن و سنت میں اس کا کیا حل ہے اور مذہب اس بارے کیا کہتا ہے؟

بعض اوقات کہہ دیا جاتا ہے کہ کالے کو کالا کاٹتا ہے جبکہ یہ سراسر غلط اور جہالت پر مبنی بات ہے. یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں جمعہ کو مبارک اور سعید دن مانا جاتا ہے یا جمعہ دنوں کا سردار کہا گیا ہے ایسے ہی ہندوستانی تہذیب اور ہندو مذہب میں منگل وار اور شنی وار کو خصوصیت حاصل. ہے، جادوگروں اور سفلی علوم کے ماہرین کے لیے پیر اور منگل کی درمیانی شب یعنی جب اگلے روز منگل ہوتا ہے، اور اسی طرح جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب بہت ہی شبھ گھڑیاں مانی جاتی ہیں. میں چونکہ عرصہ پندرہ سال سے انھیں بھگت رہی ہوں تو ان راتوں کو خاص کر چوکنا رہنا پڑتا ہے، اور جن لوگوں کے ساتھ یہ. سب بیت چکا ہے یعنی وہ کسی جادو ٹونے کا شکار رہے ہیں، وہ جانتے ہوں گے اور اگر نہیں جانتے تو بےشک اب مشاہدہ کر لیں کہ آپ پر سفلی اور کالے جادو کے حملے انھی دو راتوں میں زیادہ ہوتے ہیں یا پھر اماوس کی راتوں میں.

اللہ تعالی نے کوئی شے بے سبب نہیں بنائی تو ظاہر ہے مذہب اور مذہبی احکامات بھی بےوجہ نہیں ہیں، مخلوق خدا کو لوٹنے والے تو آج کل بہت ملیں گے لیکن فیض پہنچانے والا کوئی خال خال ہی ملتا ہے. فی زمانہ اہل اللہ کا ملنا سخت مشکل ہے، اور جو حقیقی اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنے منہ سے اس کا اقرار کبھی نہیں کریں گے دوسری. طرف درگاہ کے سجادہ نشینوں اور متولیوں سمیت بیعت لینے والوں کے پیروکار اپنی اپنی جگہ ہر ایک اپنے مرشد اور اپنے حلقے کے پیر کا دم بھرتا نظر آئے گا.

عام لوگ بالکل ہی کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب کیا کیا جائے، مولوی حضرات ویسے بھی تعویذات کے خلاف ہوتے ہیں، کہاں جایا جائے کیا کیا جائے؟
سب سے پہلے تو یاد رکھیں کہ برائی کتنی ہی طاقتور ہو اچھائی کے سامنے ٹک نہیں سکتی، گھپ اندھیرے میں چمکتا جگنو اس بات کی مثال ہے کہ اس نے اندھیرے کا جگر چیر دیا ہے، بالکل ایسے ہی کالا اور سفلی جادو کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قرآن پر حاوی نہیں ہو سکتا، اس بات کو اپنے دل و دماغ میں پیوست کر لیں، اچھی طرح بٹھا لیں. آپ کا اپنے رب پر حقیقی بھروسہ ہی آپ کی اس برائی کے خلاف جیت ہے. یقین کریں کہ میرے دل میں برائی ڈالنے کی بہت کوشش کی جاتی رہی ہے، اب بھی جاری ہے، میں ایک دن میں دو دو ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنے والی، ہر روز صلاۃ تسبیح تک پڑھنے والی کئی کئی دن بغیر وضو کے بھی گزار دیتی ہوں، اتنا بےبس کر دیا جاتا ہے کہ دل میں ہزار میل کچیل آ جائے، شاید نیت دیکھتے ہوئے رب میرا ساتھ نہیں چھوڑتا اور ہر صورت میرا یقین اس اللہ پر بڑھتا جاتا ہے. بس یہی کرنا ہے، اگر کبھی خدانخواستہ آپ کو جادو ٹونے کا سامنا کرنا پڑے. اور اگر اللہ کے فضل سے آپ اس کا شکار کبھی نہیں ہوئے تو بھی ہر وقت باوضو رہنے والا پچاس فیصد ویسے ہی قدرتی حصار میں آ جاتا ہے. صفائی نصف ایمان اسی لیے ہے کہ یہ آپ کو ہر برائی سے بچا لیتی ہے، اپنے دل و دماغ اور اپنی روح کو کثافتوں سے ہر ممکن پاک صاف رکھیں، لیکن پھر بھی انسان ہیں، بے بس اور لاچار ہو جائیں تو ہر وقت استغفراللہ ربی واتوب الیہ پڑھ کر اللہ کے قریب رہنے کی کوشش کریں، اس کے علاوہ بےشمار وظائف قرآن و سنت سے ثابت ہیں ان کا ورد کرتے رہیں. پھر بھی جیسے کینسر اور ہیپاٹائٹس کے لیے باقاعدہ علاج اور معالج کی ضرورت رہتی ہے، اس طرح روحانی معاملات میں بھی باقاعدہ معالج درکار ہوتا ہے. دو نفل پڑھ کر اپنے لیے دعا کریں، کہیں نہ کہیں سے ضرور بالضرور اپنا علاج اور معالج مل جائے گا، وہ آپ کے لیے بھیجا جائے گا، اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جو آپ سے طلب کرے گا وہ آپ کو عطا نہیں کر سکتا، اس لیے عطا کرنے والے کو تلاش کریں، لینے والے کو نہیں. روحانی وظائف اور اوراد پر کسی وقت تحریر پیش کروں گی.
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہر ایک کو ہدایت نصیب کرے اور ظالموں، حاسدوں کے شر سے پناہ میں رکھے. آمین

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.