جیم کا فساد - نورین تبسم

۔ اِسی ”جستجو“ میں دونوں ایک دوسرے کی اصل ”جھلک“ سے محروم رہتے ہیں۔ عورت کے نزدیک ”جیب“ کی آسودگی دوسرے تمام جذبوں، تمام احساسات، تمام رویوں کی ہمواریوں اور ناہمواریوں کی وجہ بنتی ہے اور مرد کے مطابق عورت کے ”جسم“ کی ناآسودگی اِس کے لیے ہر میدان کو میدانِ جنگ بنا دیتی ہے خواہ وہ میدان اُس کا اپنا ہی جسم کیوں نہ ہو۔

”پہلی نظر“ کے اس جائزے میں فرق صرف دیکھنے والی آنکھ کا ہے۔ کوئی آنکھ جیب میں مال دیکھتی ہے یا پھر اس جیب کے اندر حسب نسب کی تہہ در تہہ پرتیں۔ کبھی نگاہ اس جیب میں فہم و شعور کے موتی تلاش کرتی ہے تو کوئی تعلیم وتربیت کے نگینے ڈھونڈتی ہے۔ مرد کی آنکھ جب تماش بین کی آنکھ بن جائے تو ظاہری چمک دمک، بناؤ سنگھار اور ناز و ادا کے رقصِ مجازی میں کھو جاتی ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے اس جھنکار سے آگے کبھی نہیں دیکھ سکتی۔ یوں اس جادونگری میں وہ ساری عورت کہانی بُن لیتا ہے، ایسی کہانی، جو اُس کی عقل کے بند کمرے میں جنم لیتی ہے اور اُس کے احساس کی گھٹن کا شکار ہو کر فیصلہ سنا دیتی ہے۔

فطرت اور جبلت کے اپنے اپنے دائروں میں سفر کرتے، ایک دوسرے کی کشش کے مدار میں داخل ہوتے مرد و عورت کے تعلق میں جنسی رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس عورت کو اپنی نسوانیت کا احساس نہ ہو وہ ”حیوانیت“ اور ”مردانگی“ میں تمیز کھو دیتی ہے، دوسری طرف مرد کی محبت میں جب تک تحفظ کا احساس نہ ہو، وہ مکمل نہیں ہوتی۔نامکمل محبت ادھورے وجود کی طرح ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روگ بن جاتا ہے۔ جو محبت روگ بن جائے، وہ محبت نہیں محبت کا دھوکا ہے، اور دھوکا دکھ ہی دیتا ہے سُکھ نہیں۔ یہ زندگی کی کافی کا وہ ذائقہ ہے جو بغیر ”شِیر“ اور ”شیرینی“ کے ہر حال میں چکھنا ہے۔ جب تک مرد اور عورت اپنی ظاہری نگاہ سے بلند ہو کر اندر کی آواز پر دھیان نہیں دیں گے، وہ کبھی ایک دوسرے کے حقیقی رنگ کی جھلک محسوس نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مرد اور عورت کا رشتہ - نورین تبسم

آخری بات
رشتوں اور تعلقات کی آنکھ مچولی کھیلتے مرد اور عورت جب ایک جائز تعلق کے حصار میں آتے ہیں تو ہر احساس اور خواہش کو یکسر بھلا کر ہی ایک نئے سفر کا آغاز کرنا پڑتا ہے۔ جس کا علیحدہ نصاب اور مختلف زاویہ نگاہ بھی ہوتا ہے۔ کانچ کی سی نازکی والے اس بندھن کو استوار رکھنے کے لیے چٹان کی سی ہمت درکار ہے جس کے سرورق کا پہلا سبق بھی”جیم“ ہے، یعنی ”جی ہاں“، یس سر ہی وہ راز ہے جو مرد اور عورت کی تخصیص سے قطع نظر رویوں کے فطری تضادات کو باہم ٹکرانے سے روکتا ہے۔ اگر مرد یا عورت میں سے کوئی ایک ”جی ہاں“ کی دہلیز کو نہ چھوئے تو ”جیم کا یہ فساد“ ایک نہ ختم ہونے والی میراتھن ریس کی طرح چلتا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے جائز یا ناجائز طرزِعمل سے سمجھوتہ کرتے ہوئے کوئی ایک ”جھکنے“ کی ہار مان لے تو زندگی ٹھہری ہوئی ”جھیل“ کی مانند گزر ہی جاتی ہے۔ ورنہ ساری زندگی ”جوتیوں میں دال بٹتی“ ہے جس میں نہ تو ذائقہ ہوتا ہے اور نہ ہی پیٹ بھرتا ہے۔ ایک حرفِ انکار انسان کو پاتال میں گِرا دیتا ہے، پھر یہ کیسی خود فریبی، کیسا نشہ، کیسا خمار۔ آنکھ کُھلی اور زبان بند رہے، تب گاڑی چلتی ہے، اور احساس سویا ہی رہے تو بہتر ہے ”خواب انسان کو بیداری کی اذیّت سے بچاتے ہیں“۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں