کاش یہ قاتل دیکھ سکیں - حمیرا اشرف

وہ ہر دم مسکراتا، زندگی سے بھرپور ہنستا کھیلتا لڑکا تھا۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اس کے نوجوان چہرے پر پریشانی کے آثار کم ہی نظر آتے، کیونکہ ماں کی دعا کے ہم قدم ہونے کا احساس اسے مسرور رکھتا۔ روز صبح گھر سے نکلتے ہوئے پیچھے ماں کی دعائیں اور فکرمند چہرہ ہوتا جو اسے یقین دلاتا کہ آگے کا دن اس کے لیے سازگار ہے۔ خدا جانے کس کی نظر لگ گئی، کہاں اس کی ماں کی دعائیں اپنا راستہ بھول گئیں اور کیسے قضا نے اسے آ دبوچا۔ موت بھی کیسی ظالم ہے، کبھی نہیں دیکھتی کہ جسے لے جا رہی ہے، وہ کون ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ کیسا بانکا سجیلا ہے، کیسے ارمان رکھتا ہے، کیا امنگیں اور خواہشیں اس کے دل میں پلتی ہیں، اس کی کیا ذات پات ہے، کس نسل اور زبان سے تعلق ہے، زندگی کے لیے وہ کس نظریے کا حامل ہے؟ ہاں! موت کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔ لیکن! لیکن قاتل کو ان سب سے غرض ہوتی ہے، قاتل کو اپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے اور اس کے مفادات کی اندھی بربریت میں کون خس و خاشاک کی طرح ٹوٹ کر بکھر رہا ہے، کتنے گھرانے تباہ ہو رہے ہیں ، کاش یہ قاتل دیکھ سکیں۔

تیمور ایک بائیس سالہ نوجوان، وہ عمر جو ہنسنے کھیلنے کی تھی، جو محبت کرنے اور زندگی کے رنگوں کو محسوس کرنے، ساحل پر بھاگنے اور اپنے قدموں کے نشان دیکھ کر ہنستے چلے جانے کی تھی، اس الھڑ عمر میں تیمور نے کتنا بڑا بار سنبھالا ہوا تھا۔ ایک خاندان کی کفالت کا بار۔ تیمور کے والد کو فالج ہوچکا تھا اور وہ کام کاج سے معذور تھے۔ گھر کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے تیمور نے اپنی عمر سے بڑا بننے اپنی ماں کا سہارا بننے اور اپنی بہنوں کا باپ بن جانے کا فیصلہ کیا۔ معصوم تیمور جو سما ٹی وی میں اسسٹنٹ کیمرہ مین تھا اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ سچ دکھانے اور سچ کی آواز بننے کے جرم کی پاداش میں اس کی آواز خاموش کر دی گئی۔ سما کی ڈی ایس این جی وین پر حملہ کیا گیا اور قاتلوں نے یہ نہ دیکھا کہ ان کی گولیوں کی زد پر کون کون موجود ہے۔ اندھی گولیوں نے ایک گھر کا کفیل ایک چراغ بجھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

بات تیمور کی بھی نہیں، بات ایک انسانی زندگی کی ہے جو ختم ہوگئی۔ یہاں تیمور نہ ہوتا تو کوئی اور ملازم ہوتا۔ سبھی ملازمین کی ایک سی کہانی ہے۔ ایک سی غربت اور سچ کی آواز بننے کا ایک سا عزم۔ لیکن کتنی آوازیں خاموش کی جائیں گی؟ کتنی جانیں لی جائیں گی؟ کیا ان جانوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ اب تیمور کے گھرانے کا کون پرسان حال ہوگا؟ ان سانحات کے سدباب کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ حکومت اور نظام کیوں خاموش تماشائی ہیں۔ زندگی اتنی ارزاں کیوں ہوگئی ہے؟ کون ان سوالات کے جواب دے گا۔ مجھے فکر ہے، مجھے تکلیف ہے تو صرف اسی وجہ سے کہ یہ جو آج تیمور کے ساتھ ہوا کل میرے اپنے کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ میری دعاؤں میں، صدقات دینے کی رفتار میں تیزی بھی آجائے گی لیکن کب تک، میری دعائیں تیمور کی ماں کی طرح راستہ نہ بھول جائیں، اس سے پہلے، ہاں! اس پہلے یہ امر یقینی بنانا ضروری ہے کہ میرے اپنے سمیت تمام لوگوں کے اپنے محفوظ ہوں۔ یہ وحشت و بربریت کا جو سلسلہ ہے یہ بزور روک دیا جائے۔

Comments

حمیرا اشرف

حمیرا اشرف

حمیرا اشرف، ترجمہ نگار، لغت نگار اور لکھاری ہیں۔ اپنے ماحول میں موجود شدت پسند رویوں میں کمی اور انسانوں کے لیے ایک پرامن ماحول کی خواہاں ہیں۔ حمیرا کا پسندیدہ موضوع محبت ہے، انسانی محبت، اور انسان سے محبت۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.