راہ رواں اور بابا صاحبا - نورین تبسم

ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہے کہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔ یہ دونوں کتب محترمہ بانو قدسیہ کی جانب سے مرتب کی گئیں اور جناب اشفاق احمد کی وفات (7 ستمبر 2004ء) کے بعد آنے والے سالوں میں شائع ہوئیں۔

”بابا صاحبا“ کے پہلے نصف میں محترم اشفاق احمد ارض رومِ میں قیام کے دوران حیران کن واقعات، تجربات اور شخصیات سے ملواتے ہیں تو اختتام تک آتے آتے ڈیروں اور باطنی سفر کے مرحلوں میں قاری کو شریک کرتے ہیں۔ ”بابا صاحبا“ میں دل کی ان کہی سرگوشیاں اور انمول یادوں کی ایسی سوغاتیں ہیں جنھیں وہ اپنی کسی کتاب کی جلد میں قید کر سکے اور نہ ہی کبھی ”زاویہ“ کی بیٹھک میں اپنے سامعین کے روبرو بیان کیا۔

”راہِ رواں“ دو انسانوں کے بیچ ایک تعلق کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ”باباصاحبا“ جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو ”راہِ رواں“ اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ انمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے، راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظر اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس کے اندر کا حال بیان کرنے لگتے ہیں۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے ”بہشتی زیور“ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیے، جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں، ان کے لیے اس میں رہنمائی موجود ہے۔

راہ رواں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ کی سفر کہانی ہے، دونوں کی ساری کتب اور ہر تحریر کا عکس اس کتاب کے آئینے میں جھلکتا ہے، جس نے ”راہِ رواں“ نہیں پڑھی، وہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے خیال کی گہرائی کو چھو نہیں سکا۔ اس بیش بہا کتاب میں ہر عمر اور ہر سوچ کے قاری کے ذہن میں اٹھنے والے زندگی کے پیچ و خم کے بہت سے راز کھلتے ہیں۔ رشتوں اور تعلقات کے رکھ رکھاؤ اور محبت و عشق کی بھول بھلیوں کے ساتھ ساتھ دین اور دنیا کے اسرار و رموز اپنی ذہنی سطح کے مطابق سمجھنے کے لیے اپنی زبان میں آج تک اس سے بہتر اور جامع تخلیق سامنے نہیں آئی، اس کتاب کا ہر لفظ بار بار پڑھے جانےکے قابل ہے۔ 620 صفحات اور 1200 روپے قیمت کے ساتھ آج کے اس تیز رفتار دور میں یہ کتاب ہر کسی کی پہنچ میں نہیں لیکن ٹیکنالوجی کا شکریہ کہ اب نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھی جا سکتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ کا لنک
http://www.novelshouse.com/rahe-rawan-urdu-book-by-bano-qudsia
http://zubiweb.net/read-rahe-rawan-bano-qudsia

”راہ رواں“ صرف ایک راہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل شاہراہ ہے۔ زندگی کو جاننے کی، رشتوں کو برتنے کی، تعلقات کو سمجھنے کی، بندھن کو پرکھنے کی۔ یہ وہ داستان الف لیلٰی ہے جو پڑھنے والے کی اس کے معیار، اُس کے مزاج پر آ کر تسکین کرتی ہے، چاہے کوئی تاریخ کا طالب ِعلم ہو یا محبت کے مدرسے کا طفل ِمکتب اور یا پھر زندگی کے اسباق بار بار پڑھ کر اُکتا چکا ہو۔ یہ کتاب ہر ایک کو ماں کی آغوش کی طرح اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ کتاب کے فنی اور ادبی محاسن سے قطع نظر اس کی خوشبو اتنی دل آویز ہے کہ اس پر بات کرنے کے لیے صفحات بھی کم پڑتے ہیں۔

کچھ اقتباسات اور ساتھ ان شخصیات اور اہم واقعات کا حوالہ بھی جو جناب اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی زندگی کہانی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

پہلا صفحہ : 7
گھر سے گھر تک ( آغاز ِکتاب) ۔
ساتھ رہتے ہوئے بھی خاں صاحب ہر انسان کی طرح میرے لیے مانوس اجنبی تھے۔ میں انہیں کالج میں ملی۔ پھر ہم نےگھر بسایا ۔ کرائے کے مکان بدلے اور آخری مرحلے میں اپنا گھر 121 سی، ماڈل ٹاؤن میں بنا لیا جہاں سے وہ اپنے اصلی گھر کو روانہ ہو گئے۔ یہ گھر اُن کی رُخصتی کے بعد گھر نہ رہا، شہرت مابعد کا خزینہ بن گیا۔

صفحہ 9
ہمارے بابا جی نو روالے کہا کرتے تھے کہ جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات عمر کے آخری حصے میں سمجھ آئی لیکن اُس وقت خاں صاحب کو خط لکھ کر، خط پا کر کچھ ایسا سرور ملتا تھا کہ اس شغل سے چھٹکارا ممکن نہ تھا۔ محبت کا دماغ میں وہیں وقوف ہے جہاں عادت، نشہ، اُکساہٹ اور لذت کا مقام ہے۔ سگریٹ، ہیروئن، چرس، بھنگ، افیون یہ سارے شوق ”ھل من مزید“ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی کیفیت محبت کی بھی ہے۔ یہ آخری بار مل لوں، آخری باردیکھ لوں، بس یہی آخری لمس ہوگا۔ غالباً جنس اور محبت دو علیحدہ دماغی حصوں میں بسرام کرتے ہیں۔ محبت تسلسل کی آروز مند ہے جبکہ سیکس اُبال کی شکل میں گھیرا ڈالتی ہے۔ محبت کا متلاشی کبھی کبھی جان سے گزر جانے کو بھی کھیل سمجھتا ہے، مشکل تب پیش آتی ہے جب محبت میں اعتراف کی گانٹھ دونوں رسیوں میں مضبوط ہو جاتی ہے۔
اب اس محبت کو دائمی بنانے کی اُلجھن شادی کا کہا اور ان کہا وعدہ بن جاتی ہے۔ روز ازل سے مرد اور عورت جب کبھی محبت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، اُنہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ سفر جو اُنہیں ایک دوسرے سے کمٹ کر رہا ہے، لمبا بھی ہے اور پُرخطر بھی۔ اس میں وعدے کا پاس بسا اوقات گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ جس طرح کبھی کبھی منشیات بڑی قیمت وصول کرتی ہیں۔ ایسے ہی محبت اور شادی پر منتج ہونے والی محبت ایک بہت بڑا چیلنج بن کر زندگی میں داخل ہوتی ہے۔
جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان کر چکنے کے بعد آدمی کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ روزمرہ زندگی میں نشہ آور سرور کہاں گم ہوگیا؟ وہ ربط باہمی کس مقام پر کیوں اور کیسے کل ایش میں بدل گیا۔ انسان چونکہ فطرتاً آزاد ہے۔ اس شادی کے بندھن میں جو سب سے بڑا چیلنج اُسے پیش آتا ہے ۔وہ یہی فری ول کی آزادی ہے۔
...... free will...... clash..... commit.

یہ بھی پڑھیں:   ہمارے رہنما بابے - ڈاکٹر عظمیٰ سلیم

صفحہ: 13 تا 31
اشفاق صاحب، خاندان، تعارف
مہمند پٹھان، پنجاب میں ہوشیارپور آباؤ اجداد کا پہلا ٹھکانہ
پردادا، معظم خان
دادا، دوست محمد خان، ریاست حیدرآباد دکن۔ دربار میں اپنی فضیلت، فارسی دانی اور علم دوستی کے باعث اتالیق کے عہدے پر فائز رہے۔
والد، محمد خان، گورنمنٹ کالج سے ملحق موٹمورنسی کالج میں (جسے عوام ڈنگر ہسپتال کہتے تھے) تعلیم حاصل کی، بعد میں مُکستر مشرقی پنجاب کے ایک قصباتی گاؤں میں رہائش اختیار کی۔
والدہ، بی بی سردار بیگم

صفحہ: 19
بابا محمد خاں کے گھر نو بچوں نے جنم لیا۔ عجیب سی بات ہے کہ سب بچے دو دو سال کے وقفے کے بعد 20 مئی کو پیدا ہوئے. صرف اشفاق صاحب 22 اگست 1925ء میں اس دُنیا میں تشریف لائے۔ سنا ہے اسی دن بابا دوست محمد خاں دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے. سنا ہے خاں صاحب ہوبہو اپنے دادا سے مشابہ تھے۔

صفحہ: 32
خاندان کا شجرۂ نسب

صفحہ: 45
کھڑکی کے ساتھ لگ کر ایک نوجوان کھڑا تھا۔ گورا چٹا خوبصورت لڑکا، جس نے کھڑکی کے ساتھ کہنی ٹیک رکھی تھی۔ جس وقت میں وہاں پہنچی، وہ فوراً مؤدب انداز میں ایک طرف ہوگیا۔ نظریں نیچی رکھیں اور مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہ کی۔ جب میں فیس دے چکی تو برسر صاحب نے تعارف کے انداز میں کہا ”بی بی! یہ اشفاق صاحب ہیں۔ یہ آپ کے ساتھ ایم اے اُردو کریں گے۔ ان کی فیس میں نے ابھی جمع کی ہے“۔
یہ میرا خاں صاحب سے پہلا تعارف تھا۔

صفحہ: 47
ابھی کتابیں کاپیاں رکھ کر سیٹل ہو ہی رہی تھی کہ ایک خوبصورت گورا چٹا اطالوی شکل و صورت کا نوجون اندر داخل ہوا۔ اس نے لٹھے کی شلوار، نیلی لکیروں والا سفید کُرتا اور پشاوری چپل پہن رکھی تھی۔ وہ ملائمت کے ساتھ آگے بڑھا اور مردانہ قطار میں مولوی طوطا کے ساتھ بیٹھ گیا۔ چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر نوجوان نے اپنا تعارف کرانے کے انداز میں کہا، ”خواتین وحضرات! میرا نام اشفاق احمد ہے۔ میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور سے آیا ہوں۔ ہمارے قصباتی شہر کا نام مکستر ہے۔ میرے والد وہاں ڈنگر ڈاکٹر تھے، پھر رفتہ رفتہ حیوان ِناطق کا علاج کرنے لگے۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں اوراس وقت موج ِدریا کے بالمقابل 1مزنگ روڈ میں رہتا ہوں۔ میرے پاس ایک سائیکل ہے جس پر اس وقت میں آیا ہوں“۔
یہ کہہ کر اشفاق احمد نے کلاس کے لڑکے لڑکیوں پر نظر دوڑائی۔ سب خاموش تھے، ابھی اورینٹیشن کی کلاسوں کا رواج نہ تھا۔ لوگ اپنا تعارف، حدود اربعہ، ہسٹری بتاتے ہوئے شرماتے تھے، صرف اشفاق احمد نے سب کی سہولت کو مدنظر رکھ کر اپنا آپ تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا۔

صفحہ: 54 تا 62 بڑھاپا، از اشفاق احمد، عمر 26 سال

صفحہ: 79
ہر انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کر مڈل لائف کے کرائسز اور اس سے جنم لینے والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجیے، لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے اور عمل میں ناپختگی کا ثبوت دیتا ہے۔ تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا امیج سوسائٹی میں بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ پے درپے شادیاں، معاشقے، معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے دربدرکی ٹھوکریں، ماں باپ سے ہیجانی تصادم، اولاد سے بےتوازن رابطہ، غرض یہ کہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امربیل - بانو قدسیہ

صفحہ: 80 چاند کا سفر (گورنمنٹ کالج) مضمون از اشفاق احمد

صفحہ: 87
ذاتی ڈائری، اشفاق احمد 1951ء
جب زندگی کے سارے باب بند ہو جاتے ہیں اور فرار کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تو موت چور دروازے سے آکرکہتی ہے۔ ”آؤ بھاگ چلیں“۔
میرے لیے ماں کا وجود اُس ٹائم پیس کی طرح ہے جسے میں نے مدت سے چابی نہیں دی، لیکن جسے میں کسی خاص صبح جاگنے کے لیے چلا بھی دیتا ہوں اور الارم بھی لگا دیتا ہوں۔

صفحہ: 92
پہلی باقاعدہ بےقاعدہ بات چیت

صفحہ: 96
بانو قدسیہ، نام کہانی
میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میرا پہلا افسانہ ”داماندگی شوق“ ادب لطیف میں چھپ گیا۔ وہ یہ رسالہ لے کر دستی میرے پاس آئے۔ لیجیے مبارک ہو، ادبی سفر شروع ہو گیا. رسالے کے اوپر لکھا تھا ”کاش میں بھی ایسا ایک افسانہ لکھ سکتا.“
کہانی پر میرا نام بانو قدسیہ لکھا تھا۔ یہ نام خاں صاحب نے اپنی طرف سے عنایت کیا تھا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ میرا یہی نام شہرت پکڑتا گیا اور میں اپنا آبائی نام قدسیہ چٹھہ خود بھی بھول گئی۔ یہ ”نام“ کی بھی عجیب کہانی ہے۔ میری والدہ نے کبھی مجھے قدسیہ کہہ کر نہ پکارا۔ وہ مجھے کاکی اور ریزی بھائی کو کاکا کہتی تھیں۔ لیڈی میکلیگن میں میری سہیلیاں جمیلہ ظفر، امینہ ملک، انورملک اور آپی اقبال ملک مجھے ”کو“ کہہ کر پکارتیں۔ میں بھی اس نام پر خوش رہی۔ مفتی صاحب مجھے قدسی پکارتے رہے لیکن شہاب صاحب نے جب مجھے بانو کہہ کر بلانا شروع کیا تو ہر نام ماند پڑ گیا۔ اب تک یہی نام مستعمل ہے۔ چھوٹے بڑے مجھے ”بانو آپا“ کہہ کر پکارتے ہیں۔

٭ ”ہم آ گئے“ ریڈیو پروگرام ”تراڑکھیل“، 98۔۔
٭ نکاح، شادی۔24،25 ۔۔ 170 ۔171

16دسمبر 1956ء، 455 این سمن آباد
اس دن میں نے پرانا سفید شلوار قمیض پہنا، قمیض تھوڑی سی پھٹی ہوئی تھی، اشفاق صاحب معمولی لکیروں والے کرتے میں ملبوس تھے۔ مفتی جی، محمد حسین آرٹسٹ اور ڈیڈی جی براتی تھے۔ ریزی اور محمودہ اصغر میری والدہ سمیت مائیکہ والے تھے۔ نہ کوئی ڈھولک بجی نہ کوئی مہندی کی رسم ہی ہوئی۔ نکاح کے بعد اشفاق احمد خاں صاحب نے اپنی پاس بک میرے ہاتھوں میں چپ چاپ تھما دی۔ اس میں نو سو روپے جمع تھے۔
٭بچے۔176 تا 179
٭ فلم دھوپ سائے 201،282۔۔
٭121سی کی بنیاد رکھی گئی 290،293
٭شادی کا نظام۔ 287،290
٭اشفاق احمد اور پاکستان۔۔۔۔319
٭براڈ کاسٹر تلقین شاہ۔۔۔199۔200،201،341،349
۔٭برکلے ایکسچینج۔۔۔428
٭راجہ گدھ ۔۔۔437
٭ بلڈ کینسر بانوقدسیہ۔۔485،479
٭جناب اشفاق احمد کےآخری ایام کی باتیں 491،494
٭ جناب اشفاق احمدکی آخری رات کا احوال،457
٭ جناب اشفاق احمد کی زندگی کاآخری دن اور آخری وقت 466
۔۔۔۔۔
لوگ لوگ"۔۔"
٭قدرت اللہ شہاب۔۔۔۔230۔۔۔
۔۔مردِابریشم،۔۔۔۔187،188،352،353
٭ٹرائیکا۔۔۔مفتی،شہاب،اشفاق۔۔۔352
٭عفت شہاب۔۔۔۔382،419
٭سرفرازشاہ صاحب۔۔۔۔420،421
٭محمد یحیٰ خان(بابا یحیٰ۔۔۔500
٭میرزا ادیب،صوفی غلام معطر۔۔501
٭چچا غلام علی۔۔۔۔503
٭قرۂ العین حیدر۔۔۔۔508
٭ممتاز مفتی۔۔508،512
٭عکسی مفتی۔۔۔۔184،185
٭انورخاور۔۔533
٭واجدہ تبسم۔۔553
535 ٭عبدالرحٰمن چغتائی۔۔
٭ابنِ انشاء۔۔537
٭انتظار حسین۔۔۔541
٭احمد ندیم قاسمی۔۔۔546
٭آذر زوبی۔۔۔547
٭ڈاکٹر محمودالرحٰمن۔۔۔549
٭الطاف فاطمہ۔۔۔۔551
٭محسن احسان،شفقت۔۔۔۔552
٭واجدہ تبسم۔۔۔553
٭احمد فراز۔۔۔۔555
٭سلیم اختر،وزیرآغا،انورسدید۔۔۔۔554
٭مسعود کھدرپوش۔۔۔556
٭خواجہ جی/ نیلم خواجہ۔۔۔۔557
٭اصغرندیم سید۔۔۔۔559
٭ احمدعلی۔۔۔۔۔558
٭ اجمل نیازی۔۔۔560
٭قاضی جاوید۔۔565
٭محمدطفیل،جاوید طفیل۔۔۔567
٭ بیپسی سدھوا٭ مینوبھنڈارا۔۔۔567،569
٭افضل توصیف۔۔۔570
٭مستنصرحسین تارڑ۔۔۔۔570،571
٭ افتخار عارف۔۔۔ 571
٭امجداسلام امجد،عطاءالحق قاسمی۔۔۔572
٭سیما پیروز،یاسمین حمید، رخشندہ نوید۔۔۔573
٭ احمدعقیل روبی۔۔۔۔574
٭ محمد یونس بٹ۔۔۔576
٭حنا بابرعلی۔۔۔580
٭محترمہ نصرت بی بی۔۔ 584
٭چہار درویش۔۔۔۔586
٭عبدالرحمٰن میاں ( خاوند لکھاری بشرٰی رحمٰن)۔225،224
٭بشرٰی رحمٰن۔۔۔554
٭جمیلہ ہاشمی۔۔۔۔191،192،193
٭انورسجاد۔۔۔۔167،522
٭نعیم طاہر۔۔۔۔۔183،222
٭ایلیسا باؤسانی۔۔۔۔222
٭منیرنیازی۔۔۔۔234
٭ڈاکٹرحسنات(لیڈی ڈیانا)۔۔۔۔251،30
٭طفیل نیازی۔۔۔۔233،231
٭ملکہ ترنم نورجہاں۔۔۔۔253
٭فیض احمد فیض۔۔۔279،289
٭صوفی تبسم۔۔۔۔355،356
٭باب ہیز۔۔۔۔165،431
٭ امریکن نژاد شمس۔۔۔۔397،387،407
٭ خالدہ حسین۔۔۔۔83،85
٭ریزی (پرویزچھٹہ،، بڑابھائی بانوقدسیہ)۔۔۔۔۔۔70،71،73،89،115،174،179،208،210
٭جاوید ،صدیقہ۔۔۔۔173،179،،207،226،227،
٭ڈاکٹرمحمد عامر۔۔۔۔588
٭عاصم بخاری، پروفیسر محمد اعجاز چوہدری۔۔۔۔589
ڈاکٹر محمد مسعود قریشی۔۔۔۔590
٭ڈاکٹرطیب(سروسزہسپتال)۔۔۔۔۔590،591
٭ڈاکٹرشاہد محمود۔۔۔۔592
٭ڈاکٹراحمدخان۔۔۔۔593
٭ڈاکٹرعاطف مرزا۔۔۔۔594
٭ ڈاکٹر اکرم زبیر۔۔۔۔۔595
٭ ڈاکٹر جاوید شیخ۔۔۔۔596
٭راشد لطیف۔۔۔۔۔597
٭نورالحسن۔۔۔۔598
٭مجیب الرحمٰن شامی، چوہدری سردار محمدِ حمیدصاحب۔۔۔۔601
٭ مسعود میاں۔۔۔۔۔602
٭مہمان لکھاری
تحریر: انیس احمد خان (بیٹا) 359
٭ایک گھر کے دو راستےاز اجمل نیازی561تا565
٭اشفاق احمد از نورالحسن۔۔۔496،498
٭اشفاق احمد از عاطف گوہیر۔۔۔459
٭اسلم کولسری۔۔۔269
٭ریاض محمود۔۔259
٭اقبال...آذر زوبی کی نظر میں از ڈاکٹرمحمودالرحمٰن۔۔۔549
٭اشفاق احمد کی یاد میں از مسعودمیاں ۔۔۔۔،605،613
٭راجہ گدھ ایک تاثر از مسعود میاں۔۔۔۔
٭ممتازمفتی از عکسی مفتی۔۔۔513
٭ممتاز مفتی ایک ذاتی خاکہ۔۔۔517
٭داستان گو اور اشفاق احمد از ممتاز مفتی۔۔۔521

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!