اقبال اورگوئٹے، تضادات اور مماثلتیں - عمران ناصر

گوئٹے اور اقبال کے ادوار میں ایک صدی کا فاصلہ حائل ہے. ایک دنیائے مغرب کے افق سے غروب ہوا تو دوسرا مشرق سے طلوع ۔ رنگ و نسل کے امتیاز کے باوجود انسانی اوصاف کی ہم آہنگی اور یکسانیت باعث حیرت نہیں ہوسکتی۔ دونوں شخصیات کے مابین بہت دلچسپ تضادات اور مماثلتیں ہیں۔

اقبالیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کو اپنی ادبی زندگی کی ابتدا سے ہی گوئٹے سے لگاؤ تھا، لہذا 1901ء میں انہوں نے مرزا غالب کی آرام گاہ کی شکستہ حالی اور ویرانی کو دیکھتے ہوئے بہ افسوس کہا
آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہمنوا خوابیدہ ہے

مشرق میں علامہ اقبال کی شہرہ آفاق کتاب ”پیام مشرق“ گوئٹے کے تعارف کا سبب بنی جو گوئٹے کی تصنیف ”سلام مغرب“ کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ یورپی دنیا میں اس کے علو مرتبت ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ دور متاخرین کا بہترین مصنف شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا شمار ہومر ڈانٹے اور شکسپیئر جیسی قدآور شخصیات کے پہلو بہ پہلو ادبیات یورپ کے اراکین اربعہ میں ہوتا ہے۔

اقبال کی ”پیام مشرق“ اور ”ارمغان حجاز“ میں گوئٹے سے قلبی تعلق کے کئی اشارے ملتے ہیں۔ مغربی تعلیم اور مغربی اساتذہ کے زیراثر رہنے والے اقبال کی جرمن مفکرین سے دلچسپی، شکسپیئر پرگوئٹے کی شخصی و علمی برتری کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن پر سیرحاصل بحث کی جاسکتی ہے لیکن گوئٹے کی اسلام پسندی اقبال کے لیے ان کی طرف متوجہ ہونے کی اہم ترین وجہ ہوسکتی ہے۔ اقبال اپنی طبیعت میں ایک خاص روایتی مسلمان تھے۔گوئٹے کی ذاتی لائبریری میں موجود قرآن کے متعدد تراجم اور نسخہ جات اس کی اسلام سے رغبت کا مظہر ہیں۔ اس کے دیوان کی پہلی نظم ”ہجرت“ کے عنوان سے ہے۔ اپنی شاعری میں وہ خدا کی وحدانیت اور پیغمبرسے انسیت کا اظہار بھی جابجا کرتا ہے۔ دیوان میں وہ اسلام کے متعلق اپنے جزبات کا اظہاریوں کرتا ہے
If Islam means submission to God.
We all live and die in Islam's dominion.
وہ زلیخا، مریم، خدیجہ اور فاطمہ کا شمار برگزیدہ ترین خواتین میں کرتا ہے۔ گوئٹے کا دیوان اسلام اور اسلامی تعلیمات کے ذکرسے پر ہے۔ اس بات کو خود بھی محسوس کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ اگر کوئی میرے خیالات کی بنا پر مسلمان ہونے کا شک کرے تو وہ غلط نہ ہوگا۔

غالب امکان ہے کہ اقبال اسلام کی طرف اپنے طبعی میلان کے باعث گوئٹے کو اپنے خیالات کے قریب ترین سمجھتے تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ ان دو شخصیات کے حوالے سے مشرق و مغرب کے اتصال کی دلچسپ داستان اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کی شعوری کوشش ہے۔ دور حاضر کی روز افزوں سائنسی اور تکنیکی ترقیوں نے زمینی فاصلوں کو ناقابل یقین حد تک کم کردیا ہے، اور اس سے عالمگیریت جیسے تصورات نے جنم لیا ہے.

اقبال کو مغرب میں کوئی ہم نوا ملا تو گوئٹے، جس کی ایک وجہ گوئٹے کی اسلام سے دلچسپی بھی تھی۔ گوئٹے کا خیال تھا کہ حقیقت آفاقیت میں پوشیدہ ہے، اس خیال سے اس نے مشرق اور بالخصوص اسلام کا عرق ریزی سے مطالعہ کیا۔ وہ عالم اسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ اس کی فطرت پسندی اور طبعی آفاقیت نے مغربی تمدنی خول سے نکل کر مشرقی تمدن کے جائزہ پر بھی اکسایا۔گوئٹے کے اس مزاج سے اقبال کو طبعی مناسبت تھی.

بچپن کے ماحول، طبعیت کی افتاد، اخلاقی تربیت، اکادمیائی تعلیم، اعلیٰ تحصیل علم اور پیشے کے لحاظ سےگوئٹے اور اقبال میں ایک خاص مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن جو چیز اقبال کو گوئٹے سے زیادہ ممتاز بنا دیتی ہے وہ اس کا جمالیاتی ذوق اور نسائیت کے باب میں اس کی اخلاقی کمزوری ہے۔ دونوں شاعروں میں اس مقام پر پہنچ کر غیرمعمولی فرق پایا جاتا ہے۔ اقبال کی ساری زندگی میں اس نوع کا کوئی بھی اشارہ ہمیں نہیں ملتا، حالانکہ اپنی حساس فطرت کے لحاظ سے وہ گوئٹے سے کم نہ تھے۔ پھربھی نسائیت اور نسائی جمال و دل ربائی کے لحاظ سے وہ بالکل ”رواقی“ معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں ہمیں اس باب میں افلاطونی عشق کا پتہ نہیں ملتا۔ حالانکہ دانتے، گوئٹے، شیلے اور کیٹس سبھی نسائیت کے جمالی اثر سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ گوئٹے کا ذوق نسائیت ہمیں عربی زبان کے مشہور عربی شاعر ابن ربیع اور اردو کے بہت دل جلے اور عاشق مزاج استاد سخن مؤمن خان مؤمن کی یاد دلاتا ہے

یہ بھی پڑھیں:   مغرب کا مذہب 'سائنٹزم' اور مسئلہ 'شان محمد ﷺ - عمر ابراہیم

دینیات کو فلسفہ سے قریبی تعلق ہے۔ دوسرے گہرے انسانی معاملات کی طرح اس علم سے بھی گوئٹے نے ساری زندگی گہری دلچسپی لی۔گوئٹے کے خمیر میں کسی سخت عقیدہ کو روکنے کے لیے کافی تشکک موجود تھا، وہ دینی عقیدت پسندوں کی طرح خدا کو کائنات سے علیحدہ نہیں کرسکتا تھا۔ دینیات کے لحاظ سے اقبال اور گوئٹے میں تھوڑا سا فرق ہے۔ گوئٹے مسیحیت کے کلیات کا قائل تھا جبکہ اقبال فروعی مسائل میں بھی اسلام سے تجاوز نہیں کرنا چاہتے۔ ہاں والٹیر اور نطشے کی طرح دونوں نے مذہب نما عناصر کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ وہ رسمی اسلام کی بیگانہ روح زندگی کے قائل نہ تھے.

قانون دان کی حثیت سے اقبال اور گوئٹے دونوں ناکام رہے۔ شاعری اور قانون دونوں میں غالباً بُعد المشرقین ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اقبال شاعری کے سوا دوسرے کاموں میں بھی نہ جم سکے، اس کے برعکس گوئٹے سرکاری ملازمت یہاں تک کہ وزیراعظم کی حثیت سے بھی بہت کامیاب رہے۔ سائنس کی قابلیت نے اس کو زندگی کی اس دوڑ میں بھی تاریخی کامرانی بخشی۔ اس منصبی فوز و فلاح، ترقی اور عظمت میں اس کی طبعی زندگی کو بھی بڑا دخل ہے جو چیزوں کے نظم و ترتیب کے باب میں اس کو اپنے باپ سے ورثہ میں ملی تھی۔ وہ بڑی دیانت و انہماک اور ولولہ سے اپنے منصبی فرائض انجام دیتے رہے۔گو اس نے اس کے شاعرانہ حال پر ناخوشگوار اثرڈالا۔ یہاں تک کہ وہ اکتا کر دو سال کے لیے رومہ چلاگیا اور فطرت اور آرٹ کے ساتھ دل بہلاتا رہا۔

اقبال کے بیان کے مطابق گوئٹے خواجہ حافظ کے علاوہ اپنے تخیلات میں عطار، سعدی، فردوسی اور عام اسلامی لٹریچر کا بھی مرہون ہے۔ سترھویں صدی عیسوی میں حافظ شیرازی یورپ کی ادبی فضاؤں میں متعارف ہوئے۔ ٹامس ہائٹز اور ولیم جونز کے ترجموں نے حافظ شیرازی کو یورپی حلقوں میں مقبول کر دیا۔ گوئٹے بھی انھی تراجم سے شیرازی سے شناسا ہی نہ ہوے بلکہ اپنی فکر کو فکرشیرازی سے محفوظ نہ رکھ سکے۔ پیرانہ سالی میں بھی گوئٹے کی مضطرب روح اپنی سیمابی صفات کے زیراثر خیالات کے طلاطم میں اسی طرح تھی جس طرح عہد شباب کے آتشی دنوں میں تھی۔ وہ حقائق و معارف کی نئی سے نئی دنیاؤں کی دریافت کی جستجو میں تھا۔ حافظ کے دیوان کا اثرگوئٹے کی شاعری پرگہرا تھا، جن سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید گوئٹے نے زندگی کے طویل لمحات مشرق کی فضاؤں میں گزارے تھے۔

دیوان مغربی کی اشاعت سے قبل گوئٹے نے ”نغمہ محمد“ کے نام سے ایک نظم تحریر کی جس کے توسط سے اس نے زندگی کو اسلام کے نقظہ نظر کے مطابق دکھانے کی کوشش کی ہے۔ عیسائی دنیا سے تعلق ہونے کے باوجود گوئٹے کی اسلام پسندی اس کی نظموں میں مخفی نہیں، وہ اسلام کی قصیدہ گوئی کرتا محسوس ہوتا ہے۔ اقبال گوئٹے کی نظم کا ”جوے آب“ کے عنوان سے ترجمہ کرکے اس شعر میں نفس مضمون کا خاکہ پیش کیا ہے
زی بحربے کرانہ چہ مستانہ می رود
درخود یگانہ از ہمہ بیگانہ می رود
دیوان مغربی میں جو نظم ”حور و شاعر“ کے نام سے موسوم ہے. اقبال نے پیام میں اس کا جواب اسی عنوان سے ہی دیا ہے جو ایک حور اور شاعر کے مابین مکالمہ کی صورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مغرب کا مذہب 'سائنٹزم' اور مسئلہ 'شان محمد ﷺ - عمر ابراہیم

مشرق و مغرب کے یہ دو عظیم شعراء گو علاقی، مذہبی اور نسلی لحاظ سے دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کے افکار و نظریات فکری لحاظ سے ہم آہنگ اور مماثل ہیں۔ دونوں پرآشوب تاریخ حوادث سے متاثر ہوئے۔ اقبال کا زمانہ بھی استعمار، اضطراب اور آشوب کا زمانہ ہے۔ اقبال برصغیرمیں مسلم امہ کے مستقبل سے یاسیت کا شکار ہوئے اور شاعری کو قوم کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے، جبکہ گوئٹے سیاسی کشمکش سے سخت بیزار تھا۔ نپولین کی شکست اور فرانس کا زوال اس کی وحشت کا باعث تھا۔ وہ یورپی تمدن کے مستقبل سے مایوس تھا۔ فرانس کی شکست کے بعد روسی استعمار اور اس کی جارحیت سے سخت خائف تھا۔ دونوں شعراء کی حساسیت ان کی شاعری کی صورت ظاہر ہوئی۔ دونوں نے تعصب اور نیشنلزم کے خلاف زوردار آواز اٹھائی۔ کہا جاتا ہے ”پیام مشرق“ کی تصنیف کا محرک صرف گوئٹے کا ”مغربی دیوان“ ہی نہیں بلکہ نزاکت حالات بھی تھا۔

زندگی کے کچھ پہلوایسے بھی ہیں جہاں دونوں مختلف عوالم کے باسی محسوس ہوتے ہیں جیسے فلسفیانہ نظریات میں تفاوت بھی ہے اور گوئٹے اقبال کی طرح شاعری کو بیداری قوم کا ذریعہ بھی نہیں سمجھتا۔ اس کی دلچسبی کا محور انسانی حیات اور اس سے متعلقہ اضطراب اور کشمکش ہے۔ وہ انسان کے درد کو بھی محسوس کرتا ہے اور اس کی جبلی محبت کو بھی۔ وہ ہجر و وصال کے نازک اور لطیف احساسات سے بھی شناسا ہے اور حسن کا پرستار بھی ہے، وہ مشرقی فضاؤں میں کھو کر اس کے حسن اور خوبصورتیوں سے بھی دل بہلاتا ہے، اور ایران کی بلبل و شیراز سے بھی ہم نوا ہو سکتا ہے۔ وہ نسائیت کے سحرمیں بھی ہے، اور اس کا دلدادہ بھی، جبکہ اقبال کی فکر اور تخیلاتی اڑان مذہب کی قیود میں رہتی ہے۔ وہ مذہبی حصارسے آزادی نہیں چاہتے۔ وہ اپنی قوم کے لیے پیغام رکھتے ہیں اور ایک انقلاب کا خواب دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے خوابوں کا سلسلہ اپنے دین سے جوڑتے ہیں ۔

اقبال کے ہاں کسی بھی پیچیدہ مسئلے پر ہمیشہ مغربی مفکرین کا ذکرملتا ہے حتی کہ وہ اسلام کے موضوعات پر بھی مغربی مفکرین کے اقوال کا بکثرت ذکر کرتے ہیں۔ ان کی کتاب ”ری کنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹس“ میں جابجا مغربی مفکرین کا ذکر ملتا ہے۔ وہ فلسفہ سے متعلق بھی کہتے ہیں کہ ”گوئٹے سے مجھے اشیاء کی حقیقت معلوم ہوئی“، وہ مزید کہتے ہیں کہ ”اگر تم فطرت انسانی کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہو تو یہ علم تمہیں گوئٹے سے مل سکتا ہے“۔

گوئٹے نے زندگی اور کائنات کے مسائل کو شاعر کے تخیلانہ انداز میں دیکھا لیکن مظاہر قدرت پر فکر کے لیے وہ تصوف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سائنس پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ کائنات اور خدا کے تعلق کو ناگزیر سمجھتا ہے، وہ کائنات میں ہر لحظہ تغیر کا بھی قائل ہے۔گوئٹے کے مزاج میں ہمہ گیریت اور آفاقیت تھی۔ اس کے بحر خیالات میں نہ صرف لامتناہی گہرائی تھی بلکہ آسمانوں کی سی وسعت بھی تھی۔ وہ انسانی نفسیات اور رویوں کا عمیق مطالعہ رکھتا تھا۔ وہ انسانی احساسات اور تجربات کو ہرزاویہ نظرسے دیکھنا علم کا ناگزیر عمل خیال کرتا تھا۔

ان تمام مشابہتوں، اور تفاوتوں کے باوجود گوئٹے اور اقبال اپنی اپنی تہذیب کے نمائندگان ہیں۔ ان کی جڑیں اپنی اپنی تہذیب و تمد ن میں گہری پیوست ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے تئیں مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہوئے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل تعمیرکرنے کی کوشش کی

Comments

عمران ناصر

عمران ناصر

عمران ناصر علم و ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ سیاست، ادب، تاریخ، مطالعہ مذاہب سے شغف ہونے کے باعث اپنا نقطہ نظر منطقی اور استدلالی انداز میں پیش کی کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ شدت پسندی اور جانبدارانہ رویوں کواقتضائے علمیت سے متصادم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.