کرخت اجنبی لہجے - سعید بن عبدالغفار

سب اپنے شناختی کارڈ نکالیں، چیکنگ ہو رہی ہے، ہمیشہ کی طرح ٹول پلازہ پر مسافر گاڑی پہنچتے ہی کنڈیکٹر نے مخصوص آواز میں صدا دی، اور مرد حضرات کو تلاشی کے لیے نیچے اتار دیا. یہ معمول کی کارروائی ہے جو کراچی حیدرآباد روٹ پہ سفر کرنے والا ہر بندہ بھگتتا ہے، اور اسے اپنے اور ملک کے تحفظ کی خاطر خوش دلی سےقبول کرتا ہے. کرخت لہجے، شکی نظروں اور کبھی کبھار عزت نفس کو مجروح کرنے والے الفاظ تک کو وہ ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی اور اپنے معصوم بچوں کو محفوظ ومامون بنانے کے لیے نظرانداز کر دیتا ہے. ظاہر ہے کہ ایک ذمہ دار شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔

پاکستان تو ویسے بھی دہشت گردی سے شکار ممالک میں سرفہرست ہے، اس لیے یہاں کا شہری دفاعی اداروں سے تعاون کو فرض جانتا ہے، پھر اس فرض کی ادائیگی کے لیے وہ کڑی دھوپ میں کھڑا ہوسکتا ہے، ملزم کی طرح ہاتھ کھڑے کر کے تلاشی بھی دے سکتا ہے. اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا،گاڑی رکتے ہی مرد حضرات نیچے اتر کر تلاشی دینے لگے اور ایک ایک بندے کی تفصیلی تلاشی ہونے کے بعد دو اہلکار گاڑی کےاندر گئے، اور تھوڑی دیر بعد جب اترے تو ان کے ساتھ ایک بچہ تھا جس کی عمر چھ یا سات سال ہوگی. رات کا وقت تھا اور کڑاکے کی سردی، اور بچہ آخری سیٹ خالی دیکھ کر اس پر سوگیا تھا. اب اچانک خالی گاڑی اور اپنے اوپر پولیس اہلکار دیکھ کر وہ بری طرح گھبرایا ہوا تھا، اسے لے کر جب وہ گاڑی سے نیچے اترے تو پہلا سوال بچے سے کیا کہ تم کس کے ساتھ ہو؟ اب وہ گول گول نگاہیں گھما کر حواس باختہ کبھی دائیں دیکھتا کبھی بائیں، مگر اسے کوئی شناسا چہرہ نظر نہ آیا، اس پہ پولیس اہلکار اب اونچی آواز میں چلا کہ کہتا ہے کہ اس بچے کے ساتھ کون ہے؟ پیچھے سے ایک دبی آواز آئی کہ میں ہوں، ایک دھان پان سا نوجوان مفلر لپیٹے سہما ہوا آگے بڑھا اور بتایا کہ میرا بیٹا ہے۔ تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ تمہارا بیٹا ہے، اس کی ماں کہاں ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟ شناختی کارڈ دکھاؤ. اب باپ بیٹا پریشان کھڑے ہیں، سیدھے سادھے سے دیہاتی جو شاید پہلی بار اپنے علاقے سے نکلے تھے، اس لیے اکٹھے اتنے سوالات پر ٹوٹے سے جواب دینے لگے، بچے نے روہانسی آواز میں کہا کہ یہ میرے ابو ہیں۔ اور اس کی شکل بھی اس نوجوان سے مل رہی تھی، مگر کسی نے بھی قانونی کارروائی میں دخل دینا مناسب نہیں سمجھا. بڑی مونچھوں والا ایک پہلوان نما اہلکار، بچے سے پوچھنے لگا، تمھارے دادا کا نام کیا ہے؟ تم کہاں رہتے ہو؟ اور بچے کی آنسوسے لبریز نگاہیں کبھی اپنے باپ پر اور کبھی اس مستفسر اہلکار پر اور دبی دبی سسکیاں ہونٹوں پر، مگر جواب ندارد. ایک ہی پل میں باپ بیٹا اجنبی بنادیے گئے، ان کا رشتہ ثبوت کا محتاج ہوگیا، وہ حقیقی باپ ہو کر بھی اغواکار کا سا لگنے لگا. قبل اس کے کہ کوئی سین ہوتا، اچانک ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں آیا، اور بچے سے سندھی زبان میں بڑے پیار سے پوچھا کہ تمھارا گاؤں کہاں ہے؟ بچے نے تھوڑا رک کر بتایا، پھر پوچھا تمھارے دادا کا نام؟ وہ بھی اس نے بتا دیا جو شناختی کارڈ سے مل رہا تھا. تب کہیں جا کر خلاصی ہوئی، اور میں سوچتا رہا کہ دہشت گردی سے متاثر اپنوں اور پرایوں کے ستم جھیلتی یہ سادہ اور ناخواندہ عوام زیادہ ڈری ہوئی ہے. ان کے بچوں سے بات کرتے ہوئے لہجوں میں کرختگی اور اجنبی پن مناسب نہیں، آپ کے بھی بچے ہوں گے، ان کے صدقے ہی کچھ مہربانی کیجیے۔