اسلامی بینکاری اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی آراء - محمد ابوبکر صدیق

فقہ، اصول فقہ اور اسلامی قانون میں پروفیسر ڈاکٹر عمران احسن خان نیازی صاحب کی علمی قابلیت محتاج تعارف نہیں۔ تاہم راقم اس جگہ اسلامی بینکاری سے متعلق اُن کی ایک مختصر تحریر The Islamic Banking Industry and its Dubious Claims پر چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔ اس تحریر میں انہوں نے اسلامی بینکاری سے متعلق ایک نجی ٹی وی کے اشتہار کو موضوع بنایا ہے، جس میں نامور عالمِ دین قبلہ مفتی منیب الرحمن صاحب اسلامی بینکاری کا اسلامی ہونا بیان کرتے ہیں۔ قبلہ نیازی صاحب نے مفتی صاحب کے بیان کی تغلیط کی اور اسے یکسر مسترد کیا ہے۔ شخصیات کا احترام اپنی جگہ لیکن علمی اختلاف کی گنجائش بہر طور رہتی ہے۔ راقم کا تجزیہ چند اقساط پر مبنی ہے، جو آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر عمران احسن خان نیازی صاحب کا دعویٰ :
سودی بینکوں کے لیے ایک قانون ہے جو عامۃ الناس کی دسترس میں ہے، لیکن اسلامی بینکاری کے لیے کوئی قانون نہیں ہے اور جو ہے، وہ عامۃ الناس کی دسترس میں نہیں ہے۔ اسی طرح اسلامی بینکاری کی پروڈکٹس سے متعلق معلومات عوام کی دسترس میں نہیں ہیں کہ وہ معاملات کے اسلامی ہونے یا نہ ہونے کے متعلق فیصلہ کرسکیں۔ (پیراگراف نمبر3)

دعوے کا تجزیہ :
سودی نظام بینکاری کا قانون بنے اور دنیا میں عام ہوئے صدیاں بیت چکیں، اس میدان میں لوگوں نے تعلیم بھی حاصل کی ہے، اس نظام کی ترویج میں ریاستی وسائل بھی استعمال ہوئے، اس لیے سودی نظام بینکاری کے متعلق ڈیٹا کی پہنچ بہت آسان ہوچکی ہے۔ کیا سودی نظام بینکاری کے ڈیٹا تک یہ آسان رسائی اول دن سے ہے؟ تو جواب نہیں میں ہے ۔ یہ نظام چار صدیوں سے جاری ہے جبکہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے متعارف ہونے سے پہلے عوام تو کیا خواص کو بھی اس کے ڈیٹا اور معلومات تک رسائی نہیں ہوتی تھی۔

تو گزارش ہے کہ سودی نظام جہاں آج پہنچا ہے، اس کے پیچھے مختلف میدانوں میں انسانی کاوشوں کا ایک انسائیکلوپیڈیا موجود ہے۔ نیز اس نظام سے متعلق قانون وضع کرنے سے لے کر اشاعت تک معاملات اس لیے بھی آسان تھے کہ اس نظام کے مقابلے میں کوئی نظام نہیں تھا، اگر یہ نظام پہلے سے موجود کسی نظام کے متبادل کے طور پر متعارف ہوا ہوتا تو صورت حال موجودہ تناظر سے قدرے مختلف ہوتی، اسی طرح یہ ایک ایسا نظام تھا، جس کے نفاذ کے لیے مذہب سے پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی، اور نہ ہی اس کے قوانین وضع کرنے میں کسی مذہبی جواز کی جھنجٹ میں پڑنا گوارا کیا گیا۔

اس کے برعکس اسلامی بینکاری نظام کو متعارف ہوئے 40 سال گزرے ہیں، اس میں بھی پہلے20 سال صرف بنیادی تصور پیش کرنے اور پائلٹ پروجیکٹس کے ہیں، اس کے بعد اس نظام کو مقبولیت حاصل ہوئی، گویا پوری دنیا میں موجود اسلامی بینکاری کی عملی عمر صرف 20 سال ہے، جس میں اس کا عملی بچپن 10 سال کا ہے، پاکستان میں اسلامی بینکاری کا آغاز 2004ء سے ہوا، اس نظام کے وضع ہونے اور عملاً میدان میں آنے کے بعد دو طرح کے سوال پیدا ہونا شروع ہوئے، جن کا تعلق مذہب اور قانون سے تھا کیونکہ سودی نظام بینکاری کے برعکس اسلامی بینکاری نظام کو اپنے جواز کے لیے مذہب سے مہر ِتصدیق ثبت کرانا بھی ایک لازمی امر تھا۔

دوسری طرف مذہبی حلقوں میں ایک مسئلہ جدید اقتصادی علوم سے دوری اور نا آشنائی تھا، جس کی بدولت بہت زیادہ دشواری کا سامنا کرنا پڑا، اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مذہبی شخصیات کو پہلے صورت مسئلہ سمجھائی جائے، پھر ان سے رائے لی جائے۔ تواسلامی بینکاری کے ابتدائی ایام میں ڈاکٹر منذر کہف، شیخ مصطفی زرقا ؒ، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، شیخ یوسف القرضاوی، علمائے ازہر، وغیرھم جیسے فقہاء نے جدید علوم کے ماہرین کی مدد سے سودی نظام کو سمجھا اور اسلامی بینکاری نظام کی مبادیات کو شریعت مطہرہ کی روشنی میں وضع کیا۔ 1960ء کی دہائی سے لے کر 1980ء تک کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں تھا، جو اسلامی بینکاری کے لیے الگ سے قانون وضع کرتا کیونکہ یہ ایسا نظام تھا، جس کے لیے مذہب اور جدید اقتصاد کے حامل افراد مل کر ہی قانون بنا سکتے تھے، اکیلے طور پر یہ کسی کے بس کی بات نہیں تھی، اس لیے ان 20 سالوں میں فرد کی سطح پر کچھ اصول وضع کیے گئے، لیکن اسلامی بینکاری کو عمومی طور پر انہی قوانین پر چلایا گیا جن پر سودی نظام چلایا جا رہا تھا۔

1981ء میں فقہائے امت نے جدید مسائل میں امت کی رہنمائی کے لیے مجمع الفقہ الاسلامی کی بنیاد رکھی، جس کا بنیادی کام جدید مسائل میں اجتماعی اجتہاد کے ذریعے امت کی رہنمائی کرنا تھا، اس ادارے نے اسلامی بینکاری نظام کے لیے اپنی قراردادوں میں، شرع کی روشنی میں اصول وضع کیے، جسے اختیاری طور پر مختلف ممالک نے اپنے ہاں نافذ کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد پھر 1990ء کو بحرین میں ’ھيئالمحاسب والمراجع للمؤسسات المالي الاسلامي‘ کی بنیاد رکھی گئی، انگلش میں اسے (Accounting and Auditing Organization for Islamic Financial Institutions) کہا اور جسے مختصراََ ’’ایوفی‘‘ (AAOIFI) کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

’’ایوفی‘‘ میں مذاہبِ اربعہ (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی) کے دو سو علماء اور اسکالرز بطور ممبر شامل ہیں، وہ تمام ہی جدید تعلیم اور تحقیق کے جدید طرق سے بہرہ ور ہیں، اس ادارے کے اجلاس سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر ہوتے ہیں، جن میں عصرِحاضر کے جدید معاشی و حسابی مسائل کے اسلامی حل کے لیے غور و فکر کیا جاتا ہے، یہ ادارہ ہر دو سطح پر اسلامی بینکوں اور دیگر اسلامی مالیاتی اداروں کے لیے قانون وضع کرتا ہے، پروڈکٹس اور سروسز سے متعلق شریعہ اسٹینڈرڈ کے نام سے قانون شائع کرتا ہے، حساب و کتاب یعنی اکاونٹنگ، آڈیٹنگ اور گورننس کے لیے بھی اسٹینڈرڈ وضع کرتا ہے، اس ادارے کے وضع کردہ قوانین اسلامی بینکوں میں گزرتے وقت کے ساتھ نافذ کیے جا رہے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ اس ادارے اور اس کے تحقیقی کام میں بہتری بھی آرہی ہے۔

یہ قوانین ایسے ہیں، جن تک دسترس اب مشکل نہیں رہی، اگر ساتھ ہی عوام و خواص ان قوانین تک پہنچ بھی جائیں، تو یہ قوانین ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں، کیونکہ انہیں سمجھنے کے لیے جہاں شرعی تعلیم لازمی ہے، وہاں جدید اقتصادی تعلیم کا ہونا بھی ضروری ہے، یہ قوانین نئے ہیں، اس کی تعلیم ابھی یونیورسٹیوں میں دی جا رہی ہے، ان کے عام فہم ہونے میں کافی وقت درکار ہے۔ نیز یہ عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں کہ وہ اس نظام کے جواز اور عدم جواز پر اپنی رائے دے سکے، عوام پر اہل علم کی اقتدا لازمی ہوتی ہے۔

اسلامی بینکاری ایک متبادل نظام کے طور پر متعارف ہوئی ہے، جسے صرف ایک میدان میں نہیں بلکہ پروڈکٹس، سروسز، اسلامی بینکنگ کی تعلیم سے آشنا افرادی قوت، تعلیمی اداروں میں اس کی تعلیم و تحقیق جیسے سارے میدانوں میں ایک ایسے مقابل نظام کا سامنا ہے، جس نے پوری دنیا کو اپنے پنجے میں جکڑ رکھا ہے، صاف ظاہر ہے کہ یہ مقابلہ آسان نہیں ہے، جہاں ان میدانوں میں محنت درکار ہے، وہیں وقت بھی درکار ہے ۔

اگر اس پس منظر میں دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ محترم نیازی صاحب کا مندرجہ بالا دعوی اسلامی بینکاری سے متعلق سارے لوازمات اور حقائق کو پس پشت رکھتے ہوئے کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری کے لیے الگ سے قانون بھی ہے اور دسترس میں بھی ہے، البتہ عام فہم نہیں اور اس کی بنیادی وجہ ذکر کر دی گئی ہے۔ (جاری ہے)

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com