کشمیر جل رہا ہے - احسن سرفراز

مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں استعارے کی حیثیت اختیار کر جانے والے 87 سالہ مجاہد لیڈر سید علی گیلانی کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں انکے گونجتے پرجوش نعرے بچے بچے کی زبان پر ہیں کہ "پاکستان کا قیام کلمے کی بنیاد پر عمل میں آیا، اسلام کی نسبت سے ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔" سربراہ حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے پاکستان کے ایک نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ہندتوا کی پیروکار جنونی مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے مظالم اور اس پر پاکستانی حکومت کی ناکافی توجہ پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کمٹمنٹ کا اندازہ کشمیر کمیٹی سے ہو رہا ہے۔ کشمیر کمیٹی کی قیادت اور اراکین کی اکثریت کشمیر کاز کو نہیں سمجھتی۔ پاکستان کی کشمیر کاز سے کمٹمنٹ کے ثبوت کیلئے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کو فعال بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا مولانا فضل الرحمان سے نجات حاصل کر کے کسی ایسے شخص کو آگے لایا جائے جو ہندو ذہنیت سے واقف ہو۔ کیا حکومت کے پاس ایسے لوگ نہیں کہ جو کشمیر جیسے سلگتے مسئلہ پر کمیٹی کی قیادت کریں۔ نریندر مودی ہندو فاشسٹ ہے اور اس سے خیر کی امید نہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا نواز شریف حکومت نے بیرونی محاذ پر کشمیر کاز کیلئے جرات مندانہ موقف اپنایا لیکن اندرونی محاذ پر ان پر کرپشن کے الزامات نے ان کی پوزیشن کو کمزور کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکہ کا کردار مجرمانہ اور اس کی بے حسی شرمناک ہے۔ مقبوضہ وادی بغاوت کا منظر پیش کر رہی ہے مگر عالمی برادری ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔

بزرگ حریت رہنما کے اس درد بھرے شکوے کے تناظر میں جب ہم کشمیر کمیٹی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہی کشمیر کمیٹی کا استعمال حکومت وقت اپنے حامیوں کو نوازنے یا مخالفین کو رام کرنے کیلیے ایک سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے، کشمیر کمیٹی کا سب سے اہم کام سرکاری خرچے پر بیرونی دوروں کے نام پر سیر سپاٹا اور شاپنگ رہا ہے۔جبکہ وہاں سالہا سال سے انڈین استعمار کے زیر قبضہ کشمیر, دنیا میں سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا علاقہ بن چکا ہے. آج مقبوضہ کشمیر میں انسانیت ایک دفعہ پھر نو حہ خواں ہے اور زمین پرناجائزقبضےکی چاہت نے دنیا کی سب سے بڑی مبینہ جمہوریت کو باؤلا بنا ڈالا ہے. نوجوان برہان وانی جو مقبوضہ وادی میں انڈین ظلم وبربریت کے خلاف مزاحمت کا ایک استعارہ بن چکا تھا,اسکی جعلی مقابلے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شھادت نے کشمیریوں کے صبر کا بند توڑ ڈالا. آج پچھلے کئی ماہ سے کشمیری وقفے وقفے سے لگنے والے کرفیو کی پابندیوں کے باوجود اپنے حق خود ارادیت کے لئے سراپہ احتجاج ہیں. کشمیریوں کا آزادی کے حق کیلیے عزم دیکھ کر پوری دنیا کی انصاف پسند قوتیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ جمہوریت کیا کروڑوں لو گوں سے محض ووٹ ڈلوانے کا ہی نام ہے؟ کیا حق خود ارادیت کا پوری دنیا سے وعدہ کر کے پھر اس سے مکر جا نا جمہوریت اور جمہوری روایات کی پامالی نہیں؟ کیا اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالنا اور چھروں سے اندھا کر ڈالنا جمہوریت ہے؟ کہاں ہیں وہ جمہو ریت کے عالمی چیمپئن جو جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتے تھکتے نہیں، ایک فارمولا جو ایسٹ تیمور اور سکاٹ لینڈ میں آزما نا بہتر ین حکمت عملی قرار پا تا ہے اور وہی فا رمولا جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر کے لئے گزشتہ 70 کے قریب سالوں سے موجود ہے اسے بھلا دیا جا تا ہے. نام نہاد جمہوریت پسند عالمی قوتوں کا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بے اعتنائی کا رویہ اگر برقرار رہتا ہے تو مسلمان یہ کہنے میں حق بجا نب ہونگےکہ خون مسلم جو دنیا کے کسی بھی خطے میں بہتا ہے اسکی خوشبو عالمی قوتوں کیلیےنشہ کی سی حیثیت رکھتی ہے. اب جب دنیا بھر میں جہاں بھی ان ناانصافیوں کے بطن سے دہشت گردی جنم لیتی ہے تو اسکی تمام تر ذمہ داری انہی قوتوں کی متکبرانہ, ظالمانہ, اور منافقت سے بھر پور پالیسیوں پر ہی عائد ہوتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

گذشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کشمیر کے حوالے سے بھر پور آواز اٹھائی لیکن اسکے فوراً بعد بھارت نے جو کشمیر میں اپنی عریاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پریشان تھا اڑی سیکٹر مقبوضہ کشمیر میں اپنی ایک پوسٹ پر مشکوک حملے کی آڑ لیکر لائن آف کنٹرول پر مسلسل گولہ باری جاری کر رکھی ہے اور بھارتی جنونی ہندو قیادت نے مقبوضہ کشمیر کے حالات سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کیلیے مبینہ سرجیکل سٹرائک کا ڈھونگ بھی رچایا، آج بھی انڈیا میں جنگی جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بھارت اپنے ان جارحانہ عزائم سے پورے خطے کو آگ وخون میں جھونکنا چاہتا ہے، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ امریکہ کی طرح وہ کسی پر کوئی سا الزام لگا کر چڑھ دوڑے گا اور اسکی اس جارحیت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا جائے گا. جنگ کسی بھی ذی شعور کے لئے پسندیدہ نہیں ہوسکتی لیکن پاکستان کے عوام بھارت کی ان گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنےاور گھبرانے والے نہیں. آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم بھارتی توہین آمیز رویےکے خلاف ڈٹ جائے اور اس عزم کا اظہار کرے کہ کبھی بھی پاکستان کے خلاف کسی بھی نوعیت اور پیمانے کی براہ راست جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اگر ہمیں زخم لگے گا تو محفوظ انڈیا بھی نہیں رہے گا. عالمی برادری کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ کشمیری اگر انڈیا کی نام نہاد سیکولر جمہوریت سے خوش ہوتے تو کبھی بھی لازوال قربانیاں دیکر آزادی کا مطالبہ نہ کر رہے ہوتے۔ کشمیر کے مسلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریفرنڈم ہے، کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس پورے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے. اس مسلے پر کسی بھی فریق کی ہٹ دھرمی اس خطے میں رہنے والے کروڑوں عوام کی حق تلفی ہو گی ، جنگ خود ایک بہت بڑا مسلہ ہوتی ہے, ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں یہ کسی مسلہ کا حل ثابت نہیں ہوسکتی. اب جارح مزاج قوتوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انسانوں کو انسانوں کا غلام بنانے کی روش ظالم کیلیے بھی کبھی باعث عافیت نہیں بن سکتی اور خطے میں امن کا رستہ کشمیر سے ہو کر ہی گزرے گا.

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.