باہمی اختلاف و انتشار - سید محمد اشتیاق

عصر حا ضر کے حوالے سے (کنز العمال ص 223 ج 14 حدیث مبارکہ نمبر 38491 ) ہے کہ اس امّت کا اوّل حصّہ بہترین لوگوں کا ہے اور پچھلا حصہ بدترین لوگوں کا ہوگا۔ جن کے درمیان باہمی اختلاف و انتشار کارفرما ہوگا۔ پس جو شخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو، اس کی موت اس حالت پر آنی چاہیے کہ وہ لوگوں سے وہی سلوک کرتا ہو جسے وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

فی زمانہ باہمی اختلاف و انتشار ہر طبقے اور ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ اگر ہم گھریلو معاشرت کا ہی جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ماں باپ، میاں بیوی، بیٹی، بیٹے اور بھائی، بہن میں، وہ پہلی سی محبت و الفت مفقود ہے جو دین اسلام کا تقاضا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انا پرستی اور بڑے و چھوٹے کے فرق کی تمیز کا ختم ہوجانا ہے۔ ماں و باپ معاشی مجبوریوں اور ذمہ داریوں کے باعث، بچوں کی وہ تربیت کرنے سے قاصر ہیں جس کی ابتدائی طور پر بچوں کو ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ مدرسے، اسکول، کالج یا یونیورسٹی سے تعلیم تو حاصل کرلیتا ہے۔ جو اس کو روزگار کے مواقع تو فراہم کرتی ہے لیکن اس دوڑ میں بچے کے دل سے ماں باپ کی محبت و اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس کا مطمع نظر اعلی تعلیم حاصل کرکے اچھا روزگار ہوتا ہے۔ بچے جب زندگی کی اس دوڑ میں ماں باپ کو وقت نہیں دے پاتے تو اختلافات جنم پاتے ہیں۔ انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اکثر ان حالات میں کنبے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ ماں و باپ اور بچے اناپرستی کے خول میں مقید ہو کر ان خوبصورت رشتوں کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔ جب بچوں کے دل سے ماں باپ کی قدر نکل جاتی ہے تو اس کا اثر دیگر رشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ میاں بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کے آپس کے اختلافات بھی بچوں کی نشونما اور تربیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچے جب یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو آپس میں بہن، بھائی بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ بڑے ہو کر یہ اختلافات بعض دفعہ شدید نوعیت کے بھی ہو جاتے ہیں اور گھریلو اختلافات اور تباہی کے اثرات مجموعی معاشرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انسانوں کا انسانوں سے تعلق - محمد فہد صدیقی

معاشرہ فرد سے جنم لیتا ہے، اس لیے جس شخص کے دل میں سے مقدس رشتوں کی حرمت نکل گئی ہو۔ وہ معاشرے کے لیے کارآمد شہری کیسے ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاہے پڑوس ہو، محلہ ہو، دفتر ہو یا کاروباری مراکز، ذرا سے اختلاف پر لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہں کرپاتے اور اختلاف ذرا سا بڑھ جائے تو باہم دست و گریبان ہونے میں بھی دیر نہیں لگاتے اور بعض دفعہ تو نوبت قتل و غارت گری تک جا پہنچتی ہے۔ ہمارے حکمراں بھی کیونکہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس لیے میدان سیاست میں بھی یہی عوامل کارفرما ہیں۔ اختلاف برائے اختلاف اور تنقید برائے تنقید کو سیاست کا حسن سمجھتے ہیں اور ساری توانائیاں اسی پر خرچ کردیتے ہیں۔ اس لیے عوام کے مسائل حل کرنے میں، ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ عوام اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل میں اس قدر گھرے ہوئے ہیں کہ حکمرانوں کے احتساب سے غافل ہیں۔ اختلافات چاہےگھریلو سطح پر ہوں، عام معاشرے میں پائے جانے والے ہوں یا سیاسی، اس کی اصل وجہ انا پرستی کا وہ خول ہے جو ہم نے دانستہ اپنے اوپر چڑھایا ہوا ہے اور اس سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ اختلاف و انتشار کا شکار ہے۔ اس کا سدباب اسی طرح ممکن ہے جیسا کہ حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ ہم لوگوں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا کے اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔