حضرت مولانا سے ضرور پوچھوں‌گا! عبید اللہ عابد

قبلہ مولانا فضل الرحمن سےملاقات ہوگی تو ان سے ضرور پوچھوں گا کہ
حضرت! آپ ایک طویل عرصہ سے کشمیر کمیٹی کے چئیرمین ہیں۔ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ کشمیرپاکستان کا حصہ ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کمیٹی کے چئیرمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کا قائل ہو۔
پھر پوچھوں‌گا کہ کیا آپ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے ایک رکن قومی اسمبلی کے برابر مزید تنخواہ اور مراعات نہیں وصول کرتے؟ مولانا رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔
پھر پوچھوں گا کہ اسلام آباد میں جو سرکاری گھر ملا ہے، کیا وہ اسی چئیرمین شپ کےسبب نہیں ملا؟
پوچھوں گا کہ یہ جو چھ کروڑ روپے کا بجٹ کشمیر کمیٹی کے لیے مختص ہوتاہے، اس کا کیا کرتے ہیں آپ؟
میں‌ان سے جاننا چاہوں گا کہ کشمیر کمیٹی کے تین درجن کے قریب ارکان لاکھوں روپے تنخواہیں وصول کرکے کیا کام کرتے ہیں؟
حضرت سے ایک ایک رکن کا نام لے کر پوچھوں گا کہ کس بنیاد پر اسے رکن بنایاگیاہے؟ اس وقت کشمیر کمیٹی کے 35 ارکان میں سے 14 کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے، 9 ن لیگ، 6 قاف لیگ، 2 ایم کیوایم، ایک اے این پی، ایک فنکشنل لیگ کا ہے اور ایک آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن اسمبلی بھی کمیٹی میں‌ شامل ہیں۔
پاکستانیوں‌کی عظیم اکثریت جانناچاہتی ہے کہ حضرت مولانا کی سربراہی میں‌کشمیرکمیٹی نے طے شدہ اہداف میں‌ سے کتنے حاصل کیے؟ ان کی سربراہی کا جائزہ بھی لینا ہے اور کمیٹی کے ارکان کی کارکردگی کا بھی۔
پوچھنا ہے کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا کی کس کس قوم کو آگاہ کیاگیا؟ دنیا کی کتنی اقوام کو قائل کیاگیا کہ انھیں کشمیری قوم کو حق خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرنا چاہیے؟

اگرمولانا کے کوئی ترجمان یا عقیدت مند ان سوالات کے جوابات پہلے ہی مرحمت فرما دیں تو بہت سوں‌کا بھلا ہوجائے گا ورنہ مولانا سے یہ سوالات پوچھنا بنتاہے۔ مولانا اپنی دینی حیثیت کے سبب حد درجہ قابل احترام ہیں‌ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں‌کہ ریاست نے انھیں جو ذمہ داریاں تفویض کی ہیں، ان سے متعلق پوچھا نہ جائے، ان کی کارکردگی کا جائزہ نہ لیاجائے۔
اگرمولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں کہ انھیں‌کشمیر کمیٹی کا چئیرمین برقرار رکھا جائے تو انھیں اپنی کارکردگی سے متعلق پاکستانی قوم کو مطمئن کرنا چاہیے۔