پاک چین اقتصادی راہداری، ایک پہلو - رضوان الرحمن رضی

پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہمارے لیے یہ امر ناقابلِ فہم ہے کہ جب ہمارے سوہنے ملک میں خطے کی سب سے بڑی معاشی اور ترقیاتی سرگرمی شروع ہو چکی ہے اور ہمارے حکومتی میڈیائی چماٹوں کے مطابق، دنیا کا ہر ملک پاکستان کے اس (اب تک کی خبروں کے مطابق) عظیم الشان منصوبے میں شمولیت کا خواہش مند ہے تو پھر اس میں مقامی صنعت کار سرگرم نظر کیوں نہیں آ رہے، اوران کو کیا موت پڑی ہوئی ہے؟

کچھ صنعت کار دوستوں سے تبادلہ خیال کرنے کا قصد کیا، ان میں سے تین تو وہ تھے کہ جب انہوں نے آج سے کئی دہائیاں پہلے چین کے اشتراک سے اپنے صنعتی منصوبے لگائے تو ہم جیسے دوستوں نے ان کا مذاق اُڑایا تھا کہ چینی چیز ہے، چلے چلے، نہ چلے نہ چلے۔ اب چین ایک معاشی سپر پاور اور دنیا کی سب سے بڑی پیداواری قوت بن چکا ہے، اور اس کا سکہ چار دانگِ عالم میں چلتا ہے، توایسے میں پاکستان میں ان کے روایتی شراکت دار اس میدان سے کیوں باہر بیٹھے ہیں۔

کچھ دوستوں کے پاس پہنچے، کافی کے آنے سے پہلے ہی مدعا عرض کیا کہ آپ تو چین کے ساتھ کاروبار کرنے والے اول اول لوگوں میں شامل تھے، اب کیا ہوگیا ہے۔ تو تقریباً سب نے جوابِ لاجواب یہی دیا کہ اس دفعہ سب کچھ ’’رائیونڈ‘‘ کے گھر ہی گھوم رہا ہے۔ ہم نے اسی لہجے میں بات کو استفسار کیا ’یعنی رائیونڈ محلات والوں کے بیٹوں اور دامادوں کے ارد گرد‘ـ؟
فرمانے لگے کہ نہیں صرف اور صرف بیٹوں کے گرد، دامادوں کو اگر کچھ جائے گا تو وہ بیٹیوں کے ذریعے جائے گا، براہِ راست نہیں۔
عرض کیا لیکن لاہور میں کوڑا اکٹھا کرنے والی دو کمپنیوں کے بارے میں تو کچھ دل جلے ایک پر بیٹے کی اور دوسری پر داماد کی پھبتی کستے ہیں، تو انہوں تجاہلِ عارفانہ سے فرمایا کہ جناب وہ لین دین کا طریق ’ترکیوں‘ سے تھا، چینیوں سے لین دین کا طریقہ اب الگ ہے۔

اس قدر دل جلا ہونے اور انگارے پھانکنے کی وجہ دریافت کی تو فرمانے لگے کہ ’ہم نے کم از کم ایک درجن بڑے منصوبوں کی نشان دہی کی تھی، اپنے شراکت دارچینیوں کو راضی بھی کرلیا تھا، لیکن ہماری سرکار نے ہمیں انکار کر کے وہی منصوبے اٹھا کر کسی اور کو تھما دیے‘۔ اور اب نیا قانون پاس ہونے جا رہا ہے کہ تھر میں بجلی سازی کے خواہش مند صنعت کاروں کے لیے ایک مستقل ٹیرف طے کردیا جائے تاکہ معاملات شفافیت کی طرف بڑھ جائیں، حالاں کہ نئے ٹیرف کا واحد مقصد نئے سرمایہ کاروں کو اس شعبے کے اندر آنے سے روکنا ہے۔ یعنی جنہوں نے ملائی کھانی ہے، ان کو آٹھ اور دس روپے، اور سولر میں (قائد اعظم سولر پارک) سولہ اور بیس روپے فی یونٹ والی ملائی کھا رہے ہوں گے اور آئندہ بیس سال تک تو کھائیں گے؟ اور مزید آنے والوں کے لیے ٹیرف اس قدر کم ہوگا توان کے لئے داخلے کا رستہ ہی مسدود ہوجائے گا۔

عرض کیا لیکن بجلی کی اس قدر زائد قیمت ادا کون کرے گا؟ فرمانے لگے اس کی نیٹ پریکٹس کر بھی لی گئی ہے۔ لاہور شہر میں اس وقت بجلی کی چوری بیس فی صد کے لگ بھگ ہے، ہم نے لقمہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ ہمارے گھر کے پچھواڑے میں واقع پورا محلہ بجلی چوری کرتا ہے، ہم نے جب شکایت کی تو اس کے جواب میں لیسکو اہل کاروں کے بجائے وہ سب بجلی چور لوگ اکٹھا ہو کر ’شکوہ‘ کرنے آ گئے۔ ان کی پانی کی موٹریں سارا سارا دن چلتی اور پانی ضائع کرتی رہتی ہیں، سنا ہے کھانا بھی ہیٹر پر بنتا ہے، جبکہ بارہ ربیع الاول، چودہ اگست ، تئیس مارچ سمیت ہر اہم اور متبرک موقع پر کئی کئی دن ان کے گھروں پر چراغاں بھی اسی چوری کی بجلی کا ہی رہتا ہے، لیکن لیسکو اہل کار ان سے پانچ صد مہینہ، سکہ رائج الوقت وصول کرتے ہیں اور ان کو پورے مہینے کے لیے کھلی چھٹی عطا کرتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام تر چوریوں کے باوجود لیسکو کی بل وصولی کی شرح چھیانوے فی صد ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ گذشتہ مالی سال کے اختتام میں اپنے ریونیو ٹارگٹ پورے کرنے کے لیے لیسکو نے جاری کردہ بجلی کے مقابلے میں 104فی صد سے زائد رقم وصول کر لی، جس پر پھر نیپرا حرکت میں آیا اور لیسکو کے چیف ایگزیکٹو اور پورے بورڈ آف ڈائریکٹر کو گھر کی راہ لینا پڑی۔ (شاید اسی لیے نیپرا جیسے ناہنجاروں کا اب مکو ٹھپا جا چکا ہے) لیکن اس پر بل ادا کرنے والے صارفین کا حشر دیکھو کہ ایک تو انہوں نے چوری شدہ بجلی کا بل بھی ادا کیا بلکہ اس پر مستزاد لیسکو کے ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے چار فی صد زائد بل بھی دیا۔
’بجلی‘ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

فرمانے لگے، بس اسی پریکٹس کے بعد انہیں پتہ چل گیا ہے کہ تختِ لاہور کے عوام زیادہ سے زیادہ ’جوتے مارنے والوں کی تعداد‘ میں اضافے کا مطالبہ کریں گے کہ بجلی کے بل کی ادائیگی کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، اس لیے آن لائن ادائیگی کا اہتمام کردیں۔ یعنی لاہوریوں کو اپنی صرف شدہ بجلی سے زائد بل ادا کرنے کی عادت ہو گئی ہے، اس لیے یہ کوئی احتجاج نہیں کریں گے۔ عرض کیا لیکن میڈیا؟ فرمانے لگے کہ اس کا منہ تو سرکاری ہڈی سے پہلے ہی بند ہے، اس نے اس پر کیا بولنا ہے؟
عرض کیا تو کیا ہم پھر اقتصادی راہداری کے معاملے میں ’نہ ‘ ہی سمجھیں ؟ فرمانے لگے نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یہ چائے کے کھوکھے، سڑکوں کے کنارے ڈھابہ نما ہوٹل، ٹائر پنکچر لگانے کی دکانیں یا پھر پٹرول پمپس جیسے سہولتوں میں سرمایہ کاری کی آپ کو اجازت دستیاب ہے، ویسے یہ کام بھی ارب ہا ڈالرز میں چلا جانا ہے، بارہ گھنٹے کی شفٹ میں۔ عرض کیا اور چینی ڈرائیوروں کی مُٹھی چاپی یا مساج وغیرہ، تو فرمانے لگے اس میں آپ کا اسلام آڑے آئے گا اس لیے چینی اور روسی یہ سہولیات ساتھ لائیں گے، آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔

اجازت لینے کے لیے ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہمارے اندر کا نواز شریف کا سکہ بند ایجنٹ انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا، عرض کیا میاں صاحب آپ اس لیے نواز شریف خاندان کے خلاف ’’سڑیاں پھینک ‘‘ رہے ہیں کیوں کہ آپ کااقتصادی راہداری میں کوئی ’ٹُچ‘ فٹ نہیں ہو سکا، فرمانے لگے ایسی بھی بات نہیں، ہم نے بڑے ارمانوں سے میاں نوازشریف کی اُس حکومت سے لگ بھگ سو کے ارد گرد دوائیاں بنانے کی اجازت نامے مانگی تھی جس کے لیے ٹاپ لیول سے کرپشن کے مکمل خاتمہ کی دعویدار حکومت کی وزیر صحت کے مصاحبین نے ان میں سے تیس کی اجازت نامے دیے جبکہ تحریری اجازت نامے صرف چار کے جاری ہوئے، کیوں کہ باقی چھبیس دوائیوں کے اجازت ناموں کی نواز شریف کی شفاف حکومت نے اس قدر ’قیمت‘ طلب کی کہ ہم نے توبہ کرلی، ہماری تیار کردہ ان دوائیوں کے پہلے کنٹینر کی آئندہ ہفتے ویت نام روانگی کی تقریب ہے، ضرور تشریف لائیے گا، آپ کو دعوت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */